سوال:
مفتی صاحب! شادی کی ایک تقریب قوالی نائٹ میں دلہا کے چند دوست احباب ہوائی فائرنگ کررہے تھے، ان میں سے ایک کی گولی چیمبر میں پھنس گئی، جسے نکالتے ہوئے گولی چل گئی اور سامنے کھڑے ایک نوجوان کو لگ گئی، جس سے وہ موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا۔معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا ایسی صورت میں دیت لازم ہوتی ہے؟ اور اگر دیت لازم ہوتی ہے تو کیا جس لڑکے کی پسٹل سے گولی لگی ہے، صرف اسی پر دیت آئے گی یا جن لڑکوں نے اس پروگرام میں ہوائی فائرنگ کی تھی، ان سب پر دیت آئے گی؟اور آج کے حساب سے دیت کتنی بنتی ہے؟ اس کی وضاحت فرمادیں۔
جواب: سوال میں پوچھی گئی صورت قتل خطاء کی ہے، لہذا اس میں دیت لازم ہوگی، اور دیت صرف اسی شخص (اور اس کے عاقلہ یعنی برادری) پر واجب ہوگی جس کی گولی سے موت واقع ہوئی ہے، دیگر افراد اور ان کے عاقلہ پر دیت لازم نہیں ہوگی۔ دیت کی شرعاً مقدار دس ہزار درہم یعنی 30,618 گرام چاندی ہے، جس کی مالیت ادائیگی کے وقت کے حساب سے متعیّن ہوگی، آج کی تاریخ (27/4/26) کے مطابق تقریباً دو کروڑ نو لاکھ ستانوے ہزار آٹھ سو چوبیس (20997824) پاکستانی روپے ہے، اور اس کی ادائیگی کے لیے تین سال کی مہلت ہے، نیز اگر ورثاء خوش دلی سے معاف کر دیں یا کسی کم رقم پر صلح کر لیں تو یہ بھی شرعاً جائز ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الدلائل:
القرآن الکریم: [البقرة : 178]
فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسَانٍ ذَلِكَ تَخْفِيفٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَرَحْمَةٌ فَمَنِ اعْتَدَى بَعْدَ ذَلِكَ فَلَهُ عَذَابٌ أَلِيمٌ (178)
فتح القدير للكمال ابن الهمام: (10/ 274، ط: دار الفكر)
قال (وقتل الخطأ تجب به الدية على العاقلة والكفارة على القاتل) لما بينا من قبل..... (ومن العين ألف دينار ومن الورق عشرة آلاف درهم)........ عن عمر - رضي الله عنه - «أن النبي - عليه الصلاة والسلام - قضى بالدية في قتيل بعشرة آلاف درهم» .
الفتاوى الهندية: (6/ 87، ط: دار الفكر)
وكل دية وجبت بنفس القتل في الخطأ أو شبه عمد أو عمد دخله شبهة، فهو في ثلاث سنين على من وجب عليه في كل سنة الثلث........ وكل جزء من الدية وجب على العاقلة أو في مال الجاني، فذلك الجزء في ثلاث سنين في كل سنة الثلث.
الفتاوى الهندية: (6/ 20، ط: دار الفكر)
ولو كان القتل خطأ فقال: صالحتك على ألف دينار، أو على عشرة آلاف درهم، ولم يسم لذلك أجلا، فإن كان ذلك قبل قضاء القاضي وقبل تراضيهما على نوع من أنواع الدية فإنه يكون مؤجلا كذا في الظهيرية............... ثم الصلح في فصل الخطأ إن كان بعد القضاء بنوع من أنواع الدية، أو بعد تراضيهما على ذلك، فإن وقع على النوع الذي وقع القضاء به، أو وقع التراضي عليه، وكان الصلح على أكثر من الدية لا يجوز، وإن وقع على أقل مما وقع به القضاء، فإنه يجوز نسيئة كان، أو يدا بيد.
والله تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی