سوال:
مفتی صاحب! کیا اصولِ حدیث میں عوامی زبان میں کوئی مستند کتب ہیں یا کسی عالم کے دروس عوام کے لئے ہیں؟ نیز کیا اصطلاحات احادیث کے شرائط ہر احادیث کے کتب کے مصنف کے مختلف ہوتے ہیں؟ براہ کرم اس سے متعلق عوامی زبان میں کتاب ہو تو رہنمائی فرمادیں، کیونکہ ہمیں عربی نہیں آتی اور اصول حدیث معلوم نہیں ہوتے تو گمراہ فرقوں کو ہمیں بہکانے کا موقع ملتا ہے۔
جواب: واضح رہے کہ علمِ اُصولِ حدیث کو دو بنیادی حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے:
۱) علمِ روایتِ حدیث: یعنی تحمّلِ حدیث اور اداءِ حدیث کےمختلف طرق اور الفاظِ حدیث کے ضبط وغیرہ کا علم۔ (یہ علمِ حدیث کا ابتدائی درجہ ہے)
۲) علمِ درایتِ حدیث: یعنی سند اورمتنِ حدیث کی جانچ پڑتال کے قواعد وضوابط اور معنی حدیث سے استنباطِ احکام کے اُصولوں کا علم۔ (یہ علمِ حدیث میں مہارت کا مقام ہے)
لہذا پہلی قسم کا علم اصول ِحدیث کا ابتدائی درجہ ہے، اس کو عام فہم انداز میں ہندستان کے مشہور عالم ِ دین مفتی سعید احمد پالنپوری رحمہ اللہ نے "تحفة الدرر شرح نخبة الفکر" میں مختصراً پیش کیا ہے، جس کا مطالعہ عوام النّاس کے لئے نہایت مفید ہے۔
(2) "مصطلحاتِ حدیث" چونکہ قواعد وضوابط کی مانند متعین نہیں ہوتے، بلکہ ان کی بعض اصطلاحات کے استعمال میں محدّثین کے درمیان اختلاف اور تفصیل ملتی ہے، جس کو غور کرنے کے بعد ہی کسی حدیث میں درست جانچ پڑتال ممکن ہے۔
(3) اس میں عوام الناس کے لئے بہترین راہِ نجات یہی ہے کہ کسی ماہر مستند اہل حق عالم سے حدیث کا حکم وتشریح معلوم کرلیا جائے، چونکہ احادیث مبارکہ میں مختلف حالات و مواقع کی مناسبت سے نبی کریم ﷺ کی جانب سے ہدایات وفرمودات کو دیکھ کر اولاً دینی احکام میں تردّد واضطراب واقع ہونے اور ثانیاً نفسانی خواہشات کی پیروی کا اندیشہ ہوتا ہے، جس کو اصولِ حدیث کی روشنی میں ایک ماہرِ فن ہی درست راہ کی نشاندہی کرسکتا ہے، جیسے کوئی نابینا شخص ہو، جو راستے کے خطرات اور نشیب وفراز سے ناواقف ہو اور بغیر کسی بینا شخص کا ہاتھ پکڑے بغیر پُر خطر راستے پر چل پڑے تو غالب امکان ہے کہ وہ راستہ بھٹک جائے یا راستے کے گڑھے میں گرپڑے، لہذا احادیث مبارکہ کی تشریح وتوضیح کے سلسلہ میں سلامتی کاراستہ یہی ہے کہ جو حضرات قرآن وحدیث اور اصول فقہ وح دیث کے ماہرین ہیں، ان کی جانب مراجعت کی جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
العلل الصغير لأبي عيسى محمد بن عيسى الترمذي: (249/6، v: دار الغرب الإسلامي)
وقد اختلف الأئمة من أهل العلم في تضعيف الرجال، كما اختلفوا فيما سوى ذلك من العلم۔
تدريب الراوي في شرح تقريب النواوي: (مقدمة السیوطي، 26/1، v: دار طيبة)
قال ابن الأكفاني في كتاب "إرشاد القاصد"، الذي تكلم فيه على أنواع العلوم: علم الحديث الخاص بالرواية: علم يشتمل على نقل أقوال النبي صلى الله عليه وسلم وأفعاله، وروايتها، وضبطها، وتحرير ألفاظها.
وعلم الحديث الخاص بالدراية: علم يعرف منه حقيقة الرواية؛ وشروطها، وأنواعها، وأحكامها، وحال الرواة، وشروطهم، وأصناف المرويات، وما يتعلق بها. انتهى.
والله تعالی أعلم بالصواب
دار الإفتاء الإخلاص،کراچی