resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: ہوائی جہاز میں قبلہ کے مخالف اور سیٹ پر بیٹھ کر نماز پڑھنے کا حکم(3455-No)

سوال: اگر جہاز میں معلوم ہونے کے باوجود اجازت نہ ملنے کی وجہ سے یا وقت یا جگہ کی تنگی کی وجہ سے قبلہ کی مخالف سمت میں نماز پڑھی تو کیا اس نماز کا اعادہ کرنا ضروری ہوگا؟ مزید یہ بھی رہنمائی فرمائیں کہ کیا جہاز میں سیٹ پر بیٹھ کر نماز پڑھ سکتے ہیں؟

جواب: ۱) جی ہاں! اس نماز کو دہرانا ضروری ہے۔
۲) اگر قیام پر قادر شخص کے لیے جہاز میں کھڑے ہو کر نماز پڑھنے کی اجازت نہ ہو تو مجبوری میں سیٹ پر بیٹھ کر نماز پڑھ لے اور بعد میں اس کے ذمے اس نماز کا اعادہ کرنا لازم ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

الفتاوی الھندیۃ: (46/1)
ومن أراد أن یصلي في سفینۃٍ تطوعاً أو فریضۃً فعلیہ أن یستقبل القبلۃ ولا یجوز لہ أن یصليَ حیث ماکان وجہہ۔

البحر الرائق: (کتاب الطہارۃ، 248/1)
مستفاد: الأسیر في ید العدو إذا منعہ الکافر عن الوضوء و الصلاۃ یتیمم و یصلي بالإیماء، ثم یعید إذا خرج؛ لأن ہذا عذررجاء من قبل العباد، فلا یسقط فرض الوضوء عنہ، فعلم منہ أن العذر إن کان من قبل اللّٰہ تعالیٰ لا تجب الإعادۃ، و إن کان من قبل العبد وجبت الإعادۃ۔

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Hawai Jahaz mein Qibla, kibla, Qibla Rukh, Ruke e Qibla, Qiblay kay mukhalif, seat par baith kar namaz, kursi par namaz, chair par baith kar namaz, Ruling on praying opposite to the qiblah while sitting on the seat in plane, Praying while sitting, Praying during flight

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Salath (Prayer)