resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: آٹا پسوائی میں خشک ہو جانے والا آٹا کاٹنے کا حکم

(34596-No)

سوال: میرا آٹا چکی کا کاروبار ہے، ہم جب ایک من گندم پِسائی کرتے ہیں تو اس میں سے آدھا کلو سے لے کر ایک کلو تک وزن کم ہو جاتا ہے۔ گندم میں نمی ہوتی ہے اور جب وہ پِسائی کے دوران خشک ہو جاتی ہے تو ایک من کے پیچھے تقریباً 600 گرام تک وزن کم ہو جاتا ہے۔
اب کچھ چکی والے مزدوری میں کٹوتی کرتے ہیں، کوئی ایک کلو آٹا اور ساتھ کچھ پیسے لیتا ہے، کوئی دو کلو آٹا اور کچھ پیسے لیتا ہے، کوئی صرف کٹوتی کرتا ہے، پیسے نہیں لیتا، اور کچھ چکی والے صرف پیسے لیتے ہیں، کٹوتی بالکل نہیں کرتے۔ براہِ کرم رہنمائی فرمائیں کہ ہمارے لیے کون سا طریقہ صحیح اور جائز ہے؟

جواب: پوچھی گئی صورت میں آٹے کی پسوائی کے دوران واقعی میں جتنا آٹا جل جاتا ہو یا نمی وغیرہ کی وجہ سے کم ہوجاتا ہو، آپ اس کمی کو پورا کرکے دینے کے پابند نہیں ہے، بلکہ بقیہ آٹا دینے کے پابند ہیں، تاہم اگر یقینی طور پر یہ معلوم کرنا مشکل ہو کہ کتنا آٹا کم ہوا ہے تو ایسی صورت میں ایک محتاط اندازہ لگاکر پہلے سے گاہک کو بتا دیا جائے یا کسی نمایاں جگہ پر لکھ کر لگا دیا جائے کہ پسوائی کے عمل کی وجہ سے فی من مثلاً: آدھا کلو آٹا کم (waste) ہوجائے گا، یا یوں لکھ دیا جائے کہ پسوائی کی صورت میں ہونے والی کمی (wastage) کے ہم ذمّہ دار نہیں ہوں گے، اس کے بعد آپ مزدوری میں اضافہ کئے بغیر یہ معاملہ کرسکتے ہیں۔
واضح رہے کہ اس میں جھوٹ یا دھوکے سے اضافی آٹا کاٹنا شرعأ جائز نہیں، نیز گندم پیس کر اسی میں سے کچھ حصہ آٹے کا بطور اجرت دینا اجارہ فاسدہ ہے، اور یہ ’’قفیز طحان‘‘ کے حکم میں داخل ہے، یعنی کسی ایسی چیز کو اجرت میں متعین کرنا، جو چیز فی الحال موجود نہیں ہے، بلکہ مزدور کے عمل سے حاصل ہوگی، اس کو مزدور کے لیے بطور اجرت مقرر کرنا جائز نہیں ہے، اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قسم کی اجرت سے منع فرمایا ہے۔ لہذا اجرت پیسوں میں ہی طے کی جائے، یا اس کی متبادل جائز صورت یہ ہوسکتی ہے کہ آپ اپنی اجرت گندم میں سے فی "من" یا فی "بوری" کے حساب سے طے کرلیں، مثلاً: ایک من گندم پیسنے پر ایک کلو یا دو کلو گندم بطور اجرت طے کرلی جائے، لیکن یہ شرط نہ لگائی جائے کہ پیسی جانے والی گندم ہی سے اجرت دی جائے گ تو اس طرح کرنا جائز ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

صحیح مسلم: (99/1، ط: دار احیاء التراث العربی)
عن ابی ھریرة رضی الله عنه ان رسول الله صلی الله علیه وسلم مر علی صبرة طعام ۔۔۔ وفی آخره: من غش فلیس منی.

درر الحکام شرح مجلة الاحکام: (98/1، ط: دار الجیل)
(المادۃ: 97) لایجوز لاحد ان یاخذ مال احد بلا سبب شرعی
قیدت هذه المادة بقوله (بلا سبب شرعی) لانه بالاسباب الشرعیة کالبیع و الاجارة و الهبة و الکفالة و الحوالة یحق اخذ مال الغیر.

الدر المختار مع رد المحتار: (باب الاجارۃ الفاسدۃ، 58/6، ط: دار الفکر)
’’(ولو) (دفع غزلاً لآخر لينسجه له بنصفه) أي بنصف الغزل (أو استأجر بغلاً ليحمل طعامه ببعضه أو ثوراً ليطحن بره ببعض دقيقه) فسدت في الكل؛ لأنه استأجره بجزء من عمله، والأصل في ذلك نهيه صلى الله عليه وسلم عن قفيز الطحان وقدمناه في بيع الوفاء. والحيلة أن يفرز الأجر أولاً أو يسمي قفيزاً بلا تعيين ثم يعطيه قفزا منه فيجوز.
(قوله: والحيلة أن يفرز الأجر أولاً) أي ويسلمه إلى الأجير، فلو خلطه بعد وطحن الكل ثم أفرز الأجرة ورد الباقي جاز، ولا يكون في معنى قفيز الطحان إذ لم يستأجره أن يطحن بجزء منه أو بقفيز منه كما في المنح عن جواهر الفتاوى. قال الرملي: وبه علم بالأولى جواز ما يفعل في ديارنا من أخذ الأجرة من الحنطة والدراهم معاً، ولا شك في جوازه اه. (قوله: بلا تعيين) أي من غير أن يشترط أنه من المحمول أو من المطحون فيجب في ذمة المستأجر، زيلعي.‘‘

الفتاوی الھندیة: (الباب التاسع عشر فی القرض و الاستقراض، 201/3)
ویجوز القرض فیما ھو من ذوات الامثال کالمکیل والموزون۔

الدر المختار: (فصل فی القرض، 191/4)
ھو عقد مخصوص یرد علی دفع مال مثلی لآخر لیرد مثله وصح القرض فی مثلی.
وفي الدر مع الرد:

وفيه أيضا: (415/7، ط. رشيدية)
وفيها استقراض العجين وزنا يجوز
قوله: (استقراض العجين وزنا يجوز) هو المختار مختار الفتاوى واحترز بالوزن عن المجازفة فلا يجوز

واللہ تعالیٰ أعلم بالصواب
دار الافتاء الخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Employee & Employment