resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: ویڈیو ایڈیٹنگ (Video Editing) میں ریسرچ (Research) کے دوران غیر محرم کے نامناسب مناظر سامنے آنے پر کمائی کا حکم

(41961-No)

سوال: میرا سوال یہ ہے کہ میرے کچھ جاننے والے آن لائن ویڈیو ایڈیٹنگ کا کام کرتے ہیں اور وہ مجھے بھی اپنے ساتھ کام کرنے کا کہہ رہے ہیں۔ ان کے کام میں یہ ہوتا ہے کہ وہ ایک انٹرنیشنل کمپنی کے ساتھ منسلک ہیں اور وہ کمپنی انہیں انگریزی میں اسکرپٹ دیتی ہے، پھر یہ لوگ یوٹیوب سے اس اسکرپٹ کے مطابق کلپس تلاش کر کے ایک مکمل ویڈیو تیار کرتے ہیں۔
اس اسکرپٹ میں کسی بھی گورے یا کالے (غیر ملکی) مشہور شخص کے بارے میں بات ہو رہی ہوتی ہے۔ ویڈیو میں خواتین کو شامل نہیں کیا جاتا، لیکن تحقیق (ریسرچ) کے دوران کافی نامناسب چیزیں دیکھنی پڑتی ہیں، یعنی جب ہم کسی مرد شخصیت کے بارے میں مواد تلاش کر رہے ہوتے ہیں تو ساتھ میں خواتین کی ویڈیوز بھی آجاتی ہیں، جن میں نامناسب لباس ہوتا ہے۔ اس طرح ہمیں اپنے مطلب کے کلپس تلاش کرنے کے لیے کافی ریسرچ کرنی پڑتی ہے اور اس دوران کافی غلط چیزیں سامنے آتی ہیں، حالانکہ ہم انہیں ویڈیو میں استعمال نہیں کرتے تو براہِ کرم بتائیں کہ کیا یہ کام کرنا جائز ہے اور اس سے جو کمائی ہوگی، کیا وہ حرام ہوگی؟

جواب: پوچھی گئی صورت میں اسکرپٹ کے مطابق اگر جائز و مباح مواد اکٹھا کر کے مباح کام سے متعلّق ویڈیو تیار کی جائے تو اس کی گنجائش ہے، بشرطیکہ اس میں کسی حرام کام (مثلاً: فحاشی، بے حیائی یا گناہ کی ترویج) میں نہ ہو۔
البتہ اگر تلاش کے دوران بلا قصد (غیر ارادی طور پر) ایسے مناظر سامنے آجائیں اور فوراً نظر ہٹا لی جائے تو اس پر مؤاخذہ نہیں ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

القرآن الکریم: (المائدۃ، الآیة: 2)
وَ لَا تَعَاوَنُوۡا عَلَی الۡاِثۡمِ وَ الۡعُدۡوَانِ ۪ وَ اتَّقُوا اللہَ ؕ اِنَّ اللہَ شَدِیۡدُ الۡعِقَابِ o

فقه البیوع: (192/1، ط: مكتبة دار العلوم كراتشي)
الاعانۃ علی المعصیة حرام مطلقا بنص القرآن اعنی قوله تعالی: ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان (المائدۃ:2) وقوله تعالی: فلن اکون ظھیرا للمجرمین (القصص:17) ولکن الاعانة حقیقة ھی ما قامت المعصیۃ بعین فعل المعین، ولا یتحقق الا بنیة الاعانة او التصریح بھا الخ

فقه البیوع: (325/1، ط: مكتبة دار العلوم كراتشي)‏
ولكن معظم استعمال التلفزيون في عصرنا في برامج لا يخلو من محظور شرعي، ‏و عامة المشترين يشترونه لهذه الأغراض المحظورة من مشاهدة الأفلام والبرامج ‏الممنوعة، و إن كان هناك من لا يقصد به ذلك‎.‎‏ فبما أن استعماله في مباح ‏ممكن، فلا نحكم بالكراهة التحريمية في بيعه مطلقا، إلا إذا تعين بيعه لمحظور، ‏ولكن نظرا إلى معظم استعماله لا يخلو من كراهة تنزيهية‎.‎‏ وعلى هذا، فينبغي ‏أن يتحوط المسلم في اتخاذ تجارته مهنة في الحالة الراهنة، إلا إذا هيأ الله سبحانه ‏جوا يتمحض أو يكثر فيه استعماله المباح، والله سبحانه و تعالى أعلم

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Employee & Employment