سوال:
براہِ کرم یہ بتائیں کہ قرآنِ کریم کی تلاوت یوٹیوب پر اپلوڈ کرنے اور اس سے آمدنی حاصل کرنے کی شرائط کیا ہیں؟ میں قرآنِ کریم کی تلاوت اور انگریزی ترجمہ مشہور مترجمین، جیسے حضرت مفتی تقی عثمانی دامت برکاتہم کے ترجمے کے پس منظر کے ساتھ اپلوڈ کرتا ہوں۔
جواب: قرآن کریم کی تلاوت، ترجمہ اور تفسیر سے متعلق ویڈیوز یوٹیوب چینل پر اپلوڈ کرنے کی صورت میں حاصل شدہ آمدنی چند شرائط کی رعایت کے ساتھ جائز ہے، بشرطیکہ کوئی اور غیر شرعی امر نہ پایا جائے۔
(1) ویڈیوز پر چلنے والے اشتہارات، خواتین کی تصاویر، میوزک اور دوسرے شرعی منکرات پر مشتمل نہ ہوں۔ ایسے غیر شرعی اشتہارات کو فلٹر کیا جائے۔ فلٹر کرنے کے باوجود اگر کبھی غیر شرعی امور پر مشتمل اشتہار نظر آئے تو ریویو سینٹر میں جائزہ لے کر اس اشتہار کے بقدر آمدن کو صدقہ کیا جائے۔
(2) کسی دوسرے ادارے یا شخص کی ویڈیو اپلوڈ کرنے کی صورت میں ان کی اجازت یا کاپی رائٹ (Copy Right) کی پالیسی کو ملحوظ رکھا جائے۔
(3) ویڈیو کی ڈسکرپشن یا تھیم میں غیر شرعی اور نامناسب الفاظ سے اجتناب کیا جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
المبسوط للسرخسي: (133/1، ط: دار المعرفة)
وَيَرْفَعُ صَوْتَهُ بِالْأَذَانِ وَالْمَرْأَةُ مَمْنُوعَةٌ مِنْ ذَلِكَ لِخَوْفِ الْفِتْنَةِ، فَإِنْ صَلَّيْنَ بِأَذَانٍ وَإِقَامَةٍ جَازَتْ صَلَاتُهُنَّ مَعَ الْإِسَاءَةِ لِمُخَالَفَةِ السُّنَّةِ وَالتَّعَرُّضِ لِلْفِتْنَةِ.
رد المحتار: (فصل في النظر و اللمس، 406/1، ط: دار الفکر)
نغمۃ المرأۃ عورۃ … ذکر الإمام أبو العباس القرطبي في کتابہ في السماع: ولا یظن من لا فطنۃ عندہ أنا إذا قلنا صوت المرأۃ عورۃ، أنا نرید بذٰلک کلامہا؛ لأن ذٰلک لیس بصحیح، فإنا نجیز الکلام مع النساء للأجانب ومحاورتہن عند الحاجۃ إلی ذٰلک، ولا نجیز لہن رفع أصواتہن ولا تمطیطہا ولا تلیینہا وتقطیعہا، لما في ذٰلک من استمالۃ الرجال إلیہن وتحریک الشہوات منہم، ومن ہٰذا لم یجز أن تؤذن المرأۃ، قلت: ویشیر إلی تعبیر النوازل بالنغمۃ۔
فقه البیوع: (325/1، ط: مکتبة معارف القرآن)
ولكن معظم استعمال التلفزيون في عصرنا في برامج لاتخلو من محظور شرعي، وعامة المشترين يشترونه لهذه الأغراض المحظورة من مشاهدة الأفلام والبرامج الممنوعة، إن كان هناك من لا يقصد به ذلك. فبما أن غالب استعماله في مباح ممكن فلا نحكم بالكراهة التحريمنية في بيعه مطلقا، إلا إذا تمحض لمحظور، ولكن نظرا إلى أن معظم استعماله لا يخلو من كراهة تنزيهية . وعلى هذا فينبغي أن يتحوط المسلم في اتخاذ تجارته مهنة له في الحالة الراهنة إلا إذا هيأ الله تعالی جوا يتمحض أو يكثر فيه استعماله المباح
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی