سوال:
السلام علیکم، موبائل بیلنس یا موبائل پیکج فروش ایک سروس فراہم کرتا ہے جس میں وہ ٹرانسفر کے بدلے نقد رقم دیتا ہے اور اس کے لیے فیس لیتا ہے۔ یعنی اگر ہمیں 1000 روپے نقد چاہیے ہوں تو ہمیں اضافی 20 روپے ادا کرنے پڑتے ہیں۔ کیا یہ سود شمار ہوگا یا یہ دکاندار کی سروس فیس ہوگی؟
جواب: پوچھی گئی صورت میں اگر دکاندار اپنا ذاتی اکاؤنٹ استعمال کرکے نقد رقم فراہم کرنے کی مستقل خدمت دے رہا ہو اور کمپنی کی طرف سے اس کی ممانعت نہ ہو تو یہ فیس لینا جائز ہے، یہ اس کے سروس چارجز ہے، سود نہیں ہے، البتہ اگر دکاندار کمپنی کا ایجنٹ ہے اور نقد رقم فراہم کرنے کے لئے اپنا ریٹیلر اکاؤنٹ استعمال کرتا ہے، جس پر وہ کمپنی سے کمیشن بھی لیتا ہے یا کمپنی کی پالیسی کے مطابق گاہک سے اضافی رقم لینا ممنوع ہے تو ایسی صورت میں کسٹمر سے مذکورہ فیس لینا جائز نہیں ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
رد المحتار: (63/6، ط: دار الفكر، بيروت)
قال في التتارخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم. وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام وعنه قال: رأيت ابن شجاع يقاطع نساجا ينسج له ثيابا في كل سنة.
درر الحكام في شرح مجلة الأحكام: (509/1، ط: دار الجيل)
أن لا يكون العمل الذي استؤجر له الأجير واجبا عليه أو فرضا قبل الإجارة۔
مستفاد من التبویب لجامعة دارالعلوم کراتشی: (2483/100)
واللہ تعالٰی أعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی