سوال:
السلام علیکم، مفتی صاحب! سوال یہ ہے کہ ایک آدمی کے پاس ناجائز کمائی کے کافی سارے پیسے ہیں اب وہ آئندہ توبہ کرتا ہے کہ میں اب اس طرح پیسے نہیں کماؤ گا لیکن وہ یہ پیسے خود تو استعمال کر نہیں سکتا تو کیا کسی ایسے شخص کو دے سکتا ہے جس پر قرضہ ہو اور کیا کسی کو کاروبار کروانے کے لئے یا کسی کو گھر لے کر دینے کے لئے استعمال کر سکتا ہے اور جس کو دے رہا ہے وہ بھی جانتا ہو کہ یہ پیسے ناجائز طریقے سے حاصل ہوئے ہیں تو کیا یہ جانتے ہوئے بھی وہ ان پیسوں کو اپنا قرضہ اتارنے یا کاروبار کرنے کے لئے لے سکتا ہے؟ براۓ مہربانی رہنمائی فرما دیں۔ جزاک اللّه
جواب: واضح رہے کہ حرام مال (رشوت، جوا، سود وغیرہ ) کا اصول یہ ہے کہ اسے اصل مالک یا اس کے ورثاء کو لوٹایا جائے٬ اگر ایسا ممکن نہ ہو تو مالک کی طرف سے بلا نیت ثواب فقراء و مساکین پر صدقہ کرنا ضروری ہے۔
لہذا پوچھی گئی صورت میں اگر کسی مستحق شخص کو یہ رقم دی جائے اور وہ اس کے حرام ہونے کی حقیقت سے بھی واقف ہو، تب بھی اس کے لیے اس رقم کو لینا اور اپنی ضروریات (مثلاً قرض کی ادائیگی، کاروبار اور گھر کی تعمیر وغیرہ) میں استعمال کرنا شرعاً درست ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*فقه البيوع علی المذاهب الأربعة: (1006/2، ط: مکتبه معارف القرآن)*
وإنّه حرامٌ للغاصب الانتفاعُ به أو التّصرّفُ فيه، فيجبُ عليه أن يرُدّه إلى مالكه، أوإلى وارثه بعد وفاتِه، وإن لم يُمكن ذلك لعدم معرفةِ المالك أو وارثه، أولتعذّر الرّدّ عليه لسببٍ من الأسباب،وجب عليه التّخلّصُ منه بتصدّقه عنه من غير نيّةِ ثوابِ الصّدقةِ لنفسه.
*رد المحتار: (385/6، ط: دار الفکر)*
سبيل الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد على صاحبه.
*رد المحتار: (مطلب إذا اکتسب حرامًا ثم اشتری علی خمسۃ أوجہ، 235/2، ط: سعید)*
رجل اكتسب مالا من حرام ثم اشترى فهذا على خمسة أوجه: أما إن دفع تلك الدراهم إلى البائع أولا ثم اشترى منه بها أو اشترى قبل الدفع بها ودفعها، أو اشترى قبل الدفع بها ودفع غيرها، أو اشترى مطلقا ودفع تلك الدراهم، أو اشترى بدراهم أخر ودفع تلك الدراهم. قال أبو نصر: يطيب له ولا يجب عليه أن يتصدق إلا في الوجه الأول، وإليه ذهب الفقيه أبو الليث، لكن هذا خلاف ظاهر الرواية فإنه نص في الجامع الصغير: إذا غصب ألفا فاشترى بها جارية وباعها بألفين تصدق بالربح. وقال الكرخي: في الوجه الأول والثاني لا يطيب، وفي الثلاث الأخيرة يطيب، وقال أبو بكر: لا يطيب في الكل، لكن الفتوى الآن على قول الكرخي دفعا للحرج عن الناس۔
*معارف السنن: (باب ما جاء لا تقبل صلاۃ بغیر طھور، 34/1، ط: سعید)*
"قال شیخنا: ویستفاد من کتب فقہائنا کالہدایۃ وغیرہا: أن من ملک بملک خبیث، ولم یمکنہ الرد إلی المالک، فسبیلہ التصدقُ علی الفقراء … قال: إن المتصدق بمثلہ ینبغي أن ینوي بہ فراغ ذمتہ، ولا یرجو بہ المثوبۃ"
*کذا فی فتاوی جامعة العلوم الاسلامية كراتشى: (رقم الفتوی: 144406100269)*
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی