resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: باپ کا اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد اپنے منہ بولے بیٹے کو اپنی جگہ نامزد کرنے کا حکم

(52352-No)

سوال: اگر ایک شخص "علی" کے حقیقی بیٹے موجود ہوں، لیکن اس نے بچپن سے ایک اور بچے "ج" کی پرورش کی ہو اور شناختی کارڈ و تعلیمی ریکارڈ میں بھی اسے اپنا بیٹا ظاہر کیا ہو، حالانکہ وہ اس کا حقیقی بیٹا نہ ہو، پھر "علی" بیماری کی وجہ سے سرکاری ملازمت سے میڈیکل ریٹائرمنٹ لے لے، اور حکومتی پالیسی کے تحت اس کی جگہ اس کے بیٹوں میں سے کسی ایک کو ملازمت مل سکتی ہو، تو:
کیا اس ملازمت کا حق صرف "علی" کے حقیقی بیٹوں کو حاصل ہوگا یا "ج" بھی اس کا مستحق ہو سکتا ہے؟
کیا اسلام، شریعت اور پاکستانی قانون کے مطابق "علی" کو یہ اختیار ہے کہ وہ "ج" کو اس ملازمت کے لیے نامزد کرے، جبکہ "ج" اس کا حقیقی بیٹا نہیں؟
اگر "علی"، اس کی بیوی اور دیگر اہلِ خانہ متفق ہوں کہ "ج" ہی کو نامزد کیا جائے، تو کیا "ج" کے لیے اس ملازمت سے حاصل ہونے والی تنخواہ اور دیگر مراعات جائز ہوں گی؟
اگر ایسا کرنا شرعاً یا قانوناً درست نہ ہو، تو کیا "علی"، "ج" اور اس فیصلے میں شامل دیگر افراد گناہ گار ہوں گے؟
"علی" کا ایک حقیقی بیٹا یہ مؤقف رکھتا ہے کہ چونکہ "ج" حقیقی بیٹا نہیں، اس لیے اسے اس ملازمت پر بھرتی کرنا گناہ اور حق دار کی حق تلفی ہے، اور ملازمت کسی حقیقی بیٹے کو ملنی چاہیے۔ کیا اس کا یہ مؤقف شرعاً اور قانوناً درست ہے؟

جواب: سوال میں پوچھی گئی صورت میں سب سے پہلے یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ میڈیکل ریٹائرمنٹ کے بعد ملازم کے کسی اہلِ خانہ کو ملازمت ملنا شرعی لحاظ سے نہ تو وراثت کا مسئلہ ہے اور نہ ہی یہ ملازم کی ذاتی ملکیت یا مالی حق ہے، بلکہ یہ حکومت کی طرف سے مخصوص شرائط کے ساتھ دی جانے والی ایک سہولت ہے، اس لیے اس کا استحقاق بھی انہی شرائط کے مطابق ہوگا جو متعلقہ سرکاری قواعد و ضوابط میں مقرر کی گئی ہوں۔
لہٰذا یہ دیکھا جائے گا کہ متعلقہ محکمہ کے قواعد و ضوابط میں اس رعایت کا مستحق کسے قرار دیا گیا ہے، اگر سرکاری پالیسی کے مطابق صرف حقیقی بیٹا ہی اس سہولت کا اہل ہے تو پھر کسی غیر حقیقی بیٹے کو اس ملازمت كے ليے نامزد کرنا جائز نہیں ہوگا، اور اس مقصد کے لیے خلافِ واقع نسب ظاہر کرنا شرعاً بھی ممنوع ہے، کیونکہ منہ بولے بیٹے کو حقیقی بیٹا کہنا شرعا حرام ہے، تاہم اس صورت میں "ج" اگر قانونی طور پر ملازمت کا مستحق نہ ہونے کے باوجود کسی طرح ملازمت حاصل کر لیتا ہے، اور اس کے بعد اگر وہ امانت و دیانت کے ساتھ کام کرتا ہے تو اس جائز کام کے عوض ملنے والی تنخواہ کو حرام نہیں کہا جائے گا، البتہ اس طرح جعل سازی اور دھوکہ کے ذریعے ملازمت حاصل کرنے اور قانون کی خلاف ورزی کا گناہ اپنی جگہ پر ہوگا، اس لئے ایسے ملازمت حاصل کرنے سے اجتناب لازم ہے۔
البتہ اگر متعلقہ قوانین کے مطابق اس رعایت کا دائرہ ایسا ہو کہ "ج" بھی قانونی طور پر اس میں شامل ہو اور اس کی تقرری کسی دھوکے، جعل سازی یا خلافِ ضابطہ اقدام کے بغیر ہو سکتی ہو تو پھر اس کی تقرری شرعاً بھی جائز ہوگی۔اور ایسی صورت میں "ج" کے لیے تنخواہ اور دیگر مراعات لینا بھی جائز ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔
*دلائل:*

*القراّن الكريم (الأحزاب: 4):*
{وَمَا جَعَلَ أَدْعِيَاءَكُمْ أَبْنَاءَكُمْ ذَلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِأَفْوَاهِكُمْ وَاللَّهُ يَقُولُ الْحَقَّ وَهُوَ يَهْدِي السَّبِيلَ}

*صحيح البخاري (8/ 156، رقم الحدیث: 6766):*
عن سعد رضي الله عنه، قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم، يقول: «من ادعى إلى غير أبيه، وهو يعلم أنه غير أبيه، فالجنة عليه حرام»

*المعجم الكبير للطبراني (17/ 22، رقم الحديث: 30)*:
عن كثير بن عبد الله بن عمرو بن عوف المزني، عن أبيه، عن جده، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «المسلمون على شروطهم إلا شرطا حرم حلالا، وأحل حراما، والصلح جائز بين الناس، إلا صلحا أحل حراما أو حرم حلالا».

*صحيح مسلم (1/ 69، رقم الحديث: 196 ط: دارالجيل)*:
عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : من حمل علينا السلاح فليس منا ، ومن غشنا فليس منا.

والله تعالىٰ أعلم بالصواب
دار الافتاء الإخلاص، كراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Employee & Employment