resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: طلبہ کے زیادہ نمبر آنے کے لیے بورڈ کو پیسے دینے والے تعلیمی اداروں میں پڑھانے والے اساتذہ کرام کی تنخواہ کا حکم

(63598-No)

سوال: السلام علیکم! میں ایک پرائیویٹ اسکول میں تدریس کے فرائض انجام دے رہا ہوں اور اپنی ذمہ داریاں پوری ایمانداری سے ادا کر رہا ہوں, لیکن پرائیویٹ اسکولوں میں اکثر پرنسپل زیادہ نمبرز حاصل کرنے کے لیے بورڈ کو پیسے دیتے ہیں یا سفارش وغیرہ کے ذریعے طلبہ کے نمبرز بڑھواتے ہیں۔
میرا سوال یہ ہے کہ ہم ایسے اساتذہ جو اپنی ذمہ داریاں صحیح طریقے سے اور ایمانداری کے ساتھ ادا کر رہے ہیں، اگر ایسے اسکول میں ملازمت کریں تو کیا ہماری اس ملازمت سے حاصل ہونے والی آمدنی حلال ہوگی؟ جزاکم اللہ خیراً

جواب: پوچھی گئی صورت میں اگر آپ لوگ اپنی ذمہ داری پوری ایمانداری کے ساتھ ادا کر رہے ہیں تو آپ لوگوں کو اس کے عوض ملنے والی تنخواہ حلال ہوگی۔
واضح رہے کہ طلبہ کے زیادہ نمبر آنے کے لیے بورڈ والوں کو پیسے دینا یا اس مقصد کے لیے سفارش کرنا، رشوت، دھوکا اور خیانت پر مبنی عمل ہونے کے ساتھ ساتھ طلبہ کے ساتھ بہت بڑا ظلم اور ناانصافی ہے، اور ان کے مستقبل کو داؤ پر لگانا ہے، حالانکہ تعلیمی ادارے قوم کے معمار ہوتے ہیں، لہٰذا طلبہ کے نمبر زیادہ آنے کے لیے بورڈ کو پیسے دینے یا اس مقصد کے لیے کوئی اور راستہ اختیار کرنے سے بچنا لازم ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*الدلائل:*

*سنن أبي داؤد: (433/5، رقم الحديث: 3580، ط: دار الرسالة العالمية)*
عن أبي سلمةعن عبد الله بن عمرو، قال: لعن رسول الله- صلى الله عليه وسلم- الراشي والمرتشي .

*مختصر القدوري: (ص: 192، ط: دار الكتب العلمية)*
ولأجير الخاص: الذي يستحق الأجرة بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل كمن استؤجر شهرا للخدمة أو لرعي الغنم ولا ضمان على الأجير الخاص فما تلف في يده ولا ما تلف من عمله.

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Employee & Employment