resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: ملازمت کے اوقات کے دوران ذاتی کاموں میں مشغول ہونا

(60483-No)

سوال: میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ ملازمین کا مینیجر یا انتظامیہ کی اجازت کے بغیر دیگر سرگرمیوں میں مشغول ہونا، مثلاً: سوشل میڈیا استعمال کرنا، دوسرے ملازمین کے ساتھ گفتگو میں وقت گزارنا، یا فون پر بلاوجہ وقت ضائع کرنا، اسلام کی نظر میں کیسا ہے؟ اس بارے میں شریعت کیا حکم بیان کرتی ہے؟

جواب: واضح رہے کہ ملازمت کے اوقات کو ادارہ کی طرف سے مقرر کی گئی ذمہ داریوں میں ہی استعمال کرنا شرعاً لازم ہے، متعلّقہ ادارے کے ذمّہ داران کی اجازت کے بغیر ملازمین کے لیے ادارہ کی طرف سے دی گئی ذمّہ داریوں کے علاوہ دیگر کاموں (موبائل کے استعمال وغیرہ) میں مشغول ہونا جائز نہیں ہے، اس سے اجتناب لازم ہے۔
تاہم ملازمت کے مقرّرہ دورانیے میں فارغ وقت کے دوران دیگر کام کرنے کی گنجائش ہوگی، بشرطیکہ اس کی وجہ سے فرائض منصبی میں کوئی خلل واقع نہ ہو، اور متعلّقہ ادارے کے اصول و ضوابط میں اس کی ممانعت نہ ہو۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*الدلائل:*

*الدر المختار مع رد المحتار: (69/6، ط: دار الفكر)*
(والثاني) وهو الأجير (الخاص) ويسمى أجير وحد (وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل كمن استؤجر شهرا للخدمة أو) شهرا (لرعي الغنم) المسمى بأجر مسمى بخلاف ما لو آجر المدة بأن استأجره للرعي شهرا حيث يكون مشتركا إلا إذا شرط أن لا يخدم غيره ولا يرعى لغيره فيكون خاصا.

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Employee & Employment