سوال:
السلام علیکم ! اگر کسی طالب علم کی تعلیم حرام آمدنی سے ہوئی ہو اور دورانِ تعلیم وہ امتحان میں چیٹنگ بھی کرتا رہا ہو، پھر ڈگری مکمل کرکے اب اس کی ملازمت لگ گئی ہو اور وہ ملازمت پوری دیانت داری اور محنت سے کرتا ہو تو کیا اس کی کمائی حلال ہوگی؟
2) میں نے سنا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دور میں ڈگریاں نہیں ہوتی تھیں، وہ تجربے کی بنیاد پر کام کرتے تھے، اسی لیے آج کل اگر کسی شخص کے پاس ڈگری نہ ہو، لیکن وہ صحیح تجربے اور محنت سے کام کرتا ہو تو کیا اس کی کمائی حلال ہوگی؟ کیا یہ بات درست ہے؟
جواب: (1)امتحان میں نقل کرنا جھوٹ، دھوکا اور خیانت ہے، اس لیے یہ ناجائز اور گناہ ہے۔ جس شخص نے نقل کی ہو، اسے توبہ واستغفار کرنا ضروری ہے۔
اگر کسی نے حرام آمدنی سے تعلیم حاصل کرکے اور نقل کے ذریعہ امتحانات دے کر ڈگری حاصل کی ہو، پھر اس کی کوئی جائز ملازمت لگ جائے، لیکن اب وہ اس کام کا اہل ہو، وقت پر ڈیوٹی دیتا ہو اور اپنی ذمہ داریاں ایمانداری سے پوری کرتا ہو تو اس کی موجودہ تنخواہ حرام نہیں ہوگی؛ کیونکہ یہ تنخواہ اس کے موجودہ کام کے بدلے میں مل رہی ہے۔
(2) شرعاً کسی ملازمت کا اہل ہونا ایک الگ مسئلہ ہے، جبکہ اس ملازمت سے حاصل ہونے والی آمدنی کا حلال یا حرام ہونا الگ مسئلہ ہے۔ ملازمت یا کسی عہدے کے لیے اہلیت کا تعین متعلقہ ادارے کے قوانین اور مقررہ شرائط کے مطابق ہوتا ہے۔ چنانچہ اگر کسی ادارے میں ملازمت کے لیے ڈگری لازمی نہ ہو، اور ادارہ کسی شخص کو اس کی قابلیت، تجربے اور ہنر کی بنیاد پر ملازمت دے، تو اس طرح ملازمت حاصل کرنا جائز ہے۔
لیکن اگر قانون یا ادارے کے ضابطے کے مطابق ڈگری لازمی ہو، تو ڈگری نہ ہونے کی بات چھپاکر، غلط بیانی کرکے یا جعلی سند کے ذریعے ملازمت حاصل کرنا جائز نہیں؛ کیونکہ یہ جھوٹ اور دھوکا دہی کے زمرے میں آتا ہے۔
جہاں تک آمدنی کا تعلق ہے، تو اس کے حلال یا حرام ہونے کا مدار اس بات پر ہے کہ ملازمت کا کام بذاتِ خود جائز ہے یا ناجائز، اور ملازم اپنی ذمہ داریاں کس طرح ادا کرتا ہے۔ اگر کام جائز ہو اور ملازم اسے دیانت داری، صحیح طریقے اور مطلوبہ معیار کے مطابق انجام دیتا ہو، تو اس کی آمدنی حلال ہوگی۔
۔۔۔۔۔
*دلائل:*
*صحيح مسلم (1/99 - ط: دار إحياء التراث العربي، بيروت) :*
عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:"مَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا"۔
*مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (6/74 - ط: رشيدية):*
"مَنْ غَشَّ أي خان، وهو ضدُّ النصح، فليس مني، أي: ليس هو على سنتي وطريقتي"۔
*المبسوط للسرخسي (16/52 - ط: دار المعرفة):*
ولكن هذا النهي لمعنى في غير العقد، فلا يمنع صحة الإجارة ووجوب الأجر إذا عمل، كالنهي عن البيع وقت النداء۔
*الفتاوى الهندية (4/413 - ط: المكتبة الرشيدية):*
الأجرة تستحق بأحد معان ثلاثة: إما بشرط التعجيل، أو بالتعجيل، أو باستيفاء المعقود عليه، فإذا وجد أحد هذه الأشياء الثلاثة فإنه يملكها۔
*حاشية ابن عابدين (6/69 - ط: دار الفكر، بيروت) :*
يستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل۔
واللہ تعالٰی أعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی