resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: منہ بولی بہن کے بچوں کو پر پڑھانے پر اجرت لینا

(60497-No)

سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
میں ایک مرد ٹیچر ہوں، میرے ایک دوست کے وساطت سے ایک گھر میں آٹھ سے دس سال سے پڑھا رہا ہوں، ان کے ہاں ان کے بڑے بیٹے کو پڑھانے کے لیے ہوم ٹوشن کے لیے جانا ہوا تھا، اس وقت ان کی چھوٹی بیٹی پہلی کلاس کی طالبہ تھی، چونکہ میرا آنا جانا ایسا تھا کہ ان کے ساتھ تعلق بہت گہرا ہو گیا اور منہ بولے بہن بھائیوں جیسا ان بچوں کے ساتھ تعلق رہا۔
اب مسئلہ یہ درپیش آرہا ہے کہ میں اب ان کی چھوٹی بیٹی کو والدین یا بھائیوں کی موجودگی میں پڑھا رہا ہوں (یعنی وہ آس پاس ہی ہوتے ہیں) اور اپنے وقت کے عوض ان سے حسب معمول پیسے بھی لے رہا ہوں، میں نے یہ معلوم کرنا ہے کیا یہ پیسے میرے لیے خرچ کرنا یا لینا جائز ہے یا نہیں؟ چونکہ میں نے ان سے کچھ پیسے لے لیے ہیں تو اب ان پیسوں کا مجھے کیا کرنا چاہیے؟
کیا میں ان سے کوئی ایسی اشیاء خرید سکتا ہوں جن کا پڑھانے کے ساتھ تعلق ہو یا ایسی جگہ جہاں پر بلا ضرورت آپ کو پیسے لگانے پڑتے ہوں، مثلاً: پینا فلیکس، چارٹ بنوانا یا اسکول اکیڈمی کے لیے اپنی جیب سے کچھ خریدنا ہو۔ (کیونکہ بہت ساری چیزوں ادارے کی خواہش ہوتی ہے کہ آپ کریں جبکہ اس کے پیسے آپ کو نہیں ملتے) برائے کرم اس معاملے میں جلد از جلد مجھے اگاہی دیں۔
میں سوال کے دوبارہ سے اختصار کے ساتھ اہم نکات درج کر رہا ہوں:
کیا کسی کو منہ بولی بہن کہہ دینا اور اس کو پڑھانا اور اس کے عوض اپنے وقت کے پیسے لینا جائز ہے یا نہیں؟ اگر پیسے جائز نہیں تو ان کو کہاں پہ خرچ کیا جا سکتا ہے کیونکہ میں نے کچھ پیسے اس ضمن میں لے رکھے ہیں لیکن وہ ابھی خرچ نہیں کیے کیونکہ مجھے اس میں شک آرہا ہے؟

جواب: واضح رہے کہ شرعاً کسی کو "منہ بولی بہن" کہہ دینے سے وہ حقیقی بہن کی طرح محرم نہیں بنتی، بلکہ وہ غیر محرم ہی رہتی ہیں ۔نیز " منہ بولی بہن " کے چھوٹے بچوں کو پڑھانا اور اس پر اجرت لینا جائز ہے، البتہ جو لڑکیاں قریب البلوغ ہیں، وہ بالغہ کے درجہ میں ہیں، ان کو شرعی پردہ اور شرعی حدود کے بغیر کسی معلم مرد کا تعلیم دینا جائز نہیں ؛ بلکہ ایسی لڑکیوں کی تعلیم کے لئے کسی پڑھی لکھی عورت کا انتظام کرنا بہتر ہے۔
لہذا پوچھی گئی صورت میں منہ بولی بہن کے چھوٹے بچوں کو پڑھانے پر اجرت لینا جائز ہے، اور اس کے عوض حاصل ہونے والی اجرت کو اپنی جائز ضروریات میں خرچ کرسکتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

*الهندية: (413/4، ط: دار الفكر)‏*
ثم الأجرة تستحق بأحد معان ثلاثة إما بشرط التعجيل أو بالتعجيل أو باستيفاء المعقود عليه فإذا وجد أحد هذه الأشياء الثلاثة فإنه يملكها، كذا في شرح الطحاوي.

*صحيح مسلم(3/ 1699)*
"عن جرير بن عبد الله، قال: «سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن نظر الفجاءة فأمرني أن أصرف بصري»".

*سنن أبي داود (2/ 246)*
"عن ابن بريدة، عن أبيه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لعلي: «يا علي لا تتبع النظرة النظرة، فإن لك الأولى وليست لك الآخرة»".

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Employee & Employment