سوال:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، امام صاحب! مجھے اپنے دودھ کے کاروبار کے ایک معاملے میں شرعی رہنمائی درکار ہے۔
میرا دودھ مجھے سیر کے حساب سے ملتا ہے، جبکہ مجھے آگے گاہکوں کو لیٹر کے حساب سے فروخت کرنا پڑتا ہے۔ ہمارے حساب سے ایک من 40 سیر/لیٹر کے برابر شمار کیا جاتا ہے، لیکن ایک من کی جو ٹینکی مجھے ملتی ہے، اس میں حقیقتاً تقریباً 37.5 لیٹر دودھ ہی آتا ہے، جبکہ ادائیگی مجھے پورے 40 کے حساب سے کرنی پڑتی ہے، یعنی تقریباً 2.5 لیٹر کا فرق مجھے اپنی جیب سے برداشت کرنا پڑتا ہے۔
اگر دودھ کی فروخت 240 روپے فی لیٹر کے حساب سے ہو تو 2.5 لیٹر کے تقریباً 600 روپے بنتے ہیں، میری روزانہ تقریباً 17 ٹینکیاں ہوتی ہیں، جس سے تقریباً 10,200 روپے روزانہ کا فرق بنتا ہے، اور مہینے میں یہ رقم تقریباً سوا تین لاکھ روپے تک پہنچ جاتی ہے۔ یہ سارا فرق مجھے اپنی جیب سے برداشت کرنا پڑتا ہے۔
دوسری طرف تقریباً تین سال سے دکانداروں کا دودھ پر منافع تقریباً نہیں بڑھا، جبکہ دودھ کی قیمت، شاپر/تھیلوں کی قیمت، ملازمین کی تنخواہیں اور دیگر کاروباری اخراجات مسلسل بڑھ رہے ہیں، اس وجہ سے میرے لیے کاروبار کے اخراجات پورے کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
اسی مجبوری کی وجہ سے میں نے اب 37.5 لیٹر والے دودھ میں تقریباً 1.5 سے 2 لیٹر پانی شامل کرنا شروع کیا ہے، اور جو گاہک پوچھتا ہے، میں اسے بتا دیتا ہوں کہ اس دودھ میں پانی شامل ہے۔
میرا سوال یہ ہے کہ:
1) کیا میرے لیے دودھ میں اس مقدار میں پانی شامل کرنا شرعاً جائز ہے؟
2) اگر میں گاہک کو واضح طور پر بتا دوں کہ دودھ میں پانی شامل ہے تو کیا پھر اس طرح دودھ فروخت کرنا جائز ہوگا؟
3) اگر گاہک کو بتائے بغیر پانی شامل کیا جائے تو کیا یہ دھوکے یا خیانت کے زمرے میں آئے گا؟
4) میرے لیے ایسا کون سا طریقہ اختیار کرنا درست ہوگا جس سے میرا کاروبار بھی چل سکے اور میں شرعی طور پر بھی غلطی کا مرتکب نہ ہوں؟ براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں میری رہنمائی فرمائیں کہ میرے لیے کیا طریقہ جائز اور مناسب ہے۔ جزاکم اللہ خیراً
جواب: پوچھی گئی صورت میں گاہک کو بتائے بغیر دودھ میں پانی ملا کر بیچنا ملاوٹ اور دھوکہ دہی پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ناجائز اور حرام ہے، اس سے اجتناب لازم ہے، تاہم اگر آپ خالص دودھ کہہ کر نہ بیچتے ہوں، اور خریدار کو بھی اس بات کا علم ہو یا آپ واضح طور پر بتا دیتے ہوں اور خریدار کے پوچھنے پر آپ کی طرف سے کوئی جھوٹ یا غلط بیانی نہیں کی جاتی ہو تو پھر عرفاً قابلِ برداشت مقدار میں پانی ڈال کر دودھ فروخت کرنے کی گنجائش ہوگی، (بشرطیکہ قانونأ اس کی ممانعت نہ ہو)، ایسی صورت میں اس سے حاصل ہونے والی آمدنی حرام نہیں ہوگی۔
نیز یہ طریقہ بھی اختیار کیا جاسکتا ہے کہ دودھ میں ملاوٹ کیے بغیر خالص دودھ فروخت کیا جائے، اور لاگت وغیرہ بڑھ جانے کی صورت میں گاہک کے ساتھ باہمی رضامندی سے دودھ کی قیمت مناسب حد تک بڑھائی جا سکتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
سنن أبي داؤد: (رقم الحديث: 3452، 323/5، ط: دار الرسالة العالمية)
عن أبي هريرة: أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - مر برجل يبيع طعاما، فسأله "كيف تبيع؟ " فأخبره، فأوحي إليه: أدخل يدك فيه، فأدخل يده فيه، فإذا هو مبلول، فقال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: "ليس منا من غش "
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی