سوال:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، محترم مفتی صاحب! میرا ایک دوست Super Ecom نامی کمپنی میں ملازم ہے، جو ڈراپ شپنگ (Dropshipping) کے کاروبار سے وابستہ ہے۔
اس کاروبار کا طریقہ کار یہ ہے کہ ہمارے eBay اسٹورز پر گاہک آرڈر دیتے ہیں، ہم جو مصنوعات eBay پر لسٹ کرتے ہیں، وہ نہ ہمارے قبضے میں ہوتی ہیں اور نہ ہی ہماری ملکیت میں، جب کسی پروڈکٹ کا آرڈر موصول ہوتا ہے تو ہم وہی پروڈکٹAliExpress یا Amazon سے خریدتے ہیں اور اسے براہِ راست گاہک کے پتے پر بھجوا دیتے ہیں، مثلاً: ہم eBay پر ایک گھڑی 10 ڈالر میں لسٹ کرتے ہیں، جب کوئی گاہک اسے خرید لیتا ہے تو ہم وہی گھڑی AliExpress یا Amazon سے 5 ڈالر میں خرید کر براہِ راست گاہک کے پتے پر بھجوا دیتے ہیں، اس پورے عمل میں وہ پروڈکٹ نہ ہمارے قبضے میں آتی ہے اور نہ ہی ہم اسے خود وصول کرتے ہیں۔
مزید وضاحت:
Super Ecom کے امریکہ، کینیڈا اور آسٹریلیا میں کلائنٹس ہیں، ہم ان کی اجازت سے ان کے اکاؤنٹس چلاتے ہیں اور ان کے بینک کارڈز استعمال کرتے ہیں، یہاں کلائنٹس سے مراد وہ افراد ہیں جو ان اکاؤنٹس کے اصل مالکان ہیں اور جن کے وسائل ہم ان کی اجازت سے استعمال کرتے ہیں، جبکہاہک (Customers) افراد ہیں جو eBay اسٹورز سے مصنوعات خریدتے ہیں، اس سلسلے میں چند امور کے بارے میں شرعی رہنمائی درکار ہے:
1) کیا مذکورہ طریقۂ کار کے مطابقڈراپ شپنگ کا کاروبارشرعاً جائز ہے یا ناجائز؟
2) ہمارے eBay اسٹورز کے نام عام نوعیت کے ہیں، مثلاً Online Store یا The Premium۔ یہ اسٹورز نہ میرے ذاتی نام پر ہیں اور نہ ہیSuper Ecom کے نام پر۔
3) خریداری کے لیے استعمال ہونے والے بینک کارڈز اور اکاؤنٹس متعلقہ کلائنٹس کی ملکیت ہیں، اور ہم انہیں صرف ان کی اجازت سے استعمال کرتے ہیں۔
4) میں اس کاروبار کا مالک یا حقیقی فروخت کنندہ نہیں ہوں، بلکہ اپنے آجر (Employer) کی طرف سے ان اکاؤنٹس کو چلانے اور انتظام کرنے والا محض ایک ملازم ہوں۔
5) مجھے صرف ایک مقررہ تنخواہ ملتی ہے اور کاروبار کے منافع میں میرا کوئی حصہ نہیں ہے۔
محترم مفتی صاحب! براہِ کرم درج ذیل امور کے بارے میں رہنمائی فرمائیں:
کیا اس صورت میں میری حاصل ہونے والی نخواہ حلال ہے؟ کیا مذکورہ طریقۂ کار کے مطابق ڈراپ شپنگ کا کاروبار شرعاً جائز ہے؟ جزاکم اللہ خیراً
جواب: 1) سوال میں ذکر کردہ ڈراپ شپنگ کا طریقہ کار جس میں آپ کا ادارہ (Super Ecom) وہ مصنوعات فروخت کرتا ہے جو اس وقت نہ اس کی ملکیت (Ownership) میں ہوتی ہیں اور نہ ہی قبضے (Possession) میں، شرعاً جائز نہیں ہے۔
شریعت کی رو سے کسی چیز کو فروخت کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ چیز فروخت کرنے والے کی ملکیت اور قبضے میں ہو، چونکہ اس طریقے میں آرڈر ملنے کے بعد چیز خریدی جاتی ہے اور وہ براہِ راست گاہک کو بھیج دی جاتی ہے، اس لیے یہ "بیع قبل القبض" (قبضے سے پہلے فروخت) کے زمرے میں آتی ہے، جس سے نبی کریم ﷺ نے منع فرمایا ہے۔ حدیث مبارکہ میں صراحت ہے: "لا تَبِعْ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ" (جو چیز تمہارے پاس [ملکیت و قبضے میں] نہیں اسے فروخت نہ کرو)۔ (السنن الكبري للبيهقي: 95/8)
(2) ملازمت کے جائز یا ناجائز ہونے کا دار و مدار ملازم کے کام پر ہے، اگر ملازم کا کام ناجائز معاملے کو قائم کرنے یا آگے بڑھانے کا ذریعہ ہو تو ملازمت اور اس کی آمدنی دونوں ناجائز ہیں، لیکن اگر کام جائز ہو تو ملازمت جائز ہے، البتہ اس صورت میں تنخواہ کے حلال وحرام ہونے کے بارے میں کمپنی کی غالب آمدنی دیکھی جائے گی، اگر غالب آمدنی ناجائز معاملات سے حاصل ہوئی ہے تو تنخواہ لینا جائز نہیں ہوگا۔
چونکہ آپ کے ادارہ کا بنیادی کاروبار ہی شرعی اصولوں کے خلاف ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے، اس لیے اس کاروبار کو چلانے، اکاؤنٹس سنبھالنے اور اس کے انتظام و انصرام میں معاونت کرنا "اعانت علی المعصیت" (گناہ کے کام میں مدد کرنا) کے زمرے میں آتا ہے، لہٰذا اس کے عوض ملنے والی تنخواہ کو حلال نہیں کہا جاسکتا۔ چنانچہ اس کمپنی میں ان اکاؤنٹس کو چلانے کی ملازمت کرنے سے اجتناب کرنا ضروری ہے، البتہ اگر آپ کا ادارہ محض وکیل (Agent) کے طور پر کام کرتا ہے، اس طور پر کہ کسی اور شخص/ادارہ کی چیزیں آگے بکواتا ہے تو ایسی صورت کا حکم مختلف ہوگا، اس کی تفصیلات لکھ کر دوبارہ سوال پوچھ سکتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
السنن الكبري للبيهقي: (95/8، ط: دار الفكر)
عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ قَالَ قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ الرَّجُلُ يَطْلُبُ مِنِّى الْبَيْعَ وَلَيْسَ عِنْدِى أَفَأَبِيعُهُ لَهُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- :« لاَ تَبِعْ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ.
بدائع الصنائع: (کتاب البیوع، فصل وأما الذی یرجع الی المعقود علیه، 35/7)
وَمِنْهَا وهو شَرْطُ انْعِقَادِ الْبَيْعِ لِلْبَائِعِ أَنْ يَكُونَ مَمْلُوكًا لِلْبَائِعِ عِنْدَالْبَيْعِ فَإِنْ لم يَكُنْ لَا يَنْعَقِدْ وَإِنْ مَلَكَهُ بَعْدَ ذلك بِوَجْهٍ من الْوُجُوهِ ۔۔۔(ومنها) القبض في بيع المشتري المنقول فلا يصح بيعه قبل القبض؛ لما روي أن النبي - صلى الله عليه وسلم - «نهى عن بيع ما لم يقبض
التفسير المظهري: (19/3، ط: مكتبة الرشدية ، الباكستان)
ولا تعاونوا على الإثم والعدوان يعنى لا تعاونوا على ارتكاب المنهيات ولا على الظلم لتشفى صدوركم
المبسوط للسرخسی: (کتاب الاجارات، باب الاجارۃ الفاسدۃ، 38/16، ط: دار المعرفة)
والاستئجار على المعاصي باطل فإن بعقد الإجارة يستحق تسليم المعقود عليه شرعا ولا يجوز أن يستحق على المرء فعل به يكون عاصيا شرعا.
رد المحتار: (235/5، ط: دار الفكر)
(قوله: اكتسب حراما إلخ) توضيح المسألة ما في التتارخانية حيث قال: رجل اكتسب مالًا من حرام ثم اشترى فهذا على خمسة أوجه: أما إن دفع تلك الدراهم إلى البائع أولا ثم اشترى منه بها أو اشترى قبل الدفع بها ودفعها، أو اشترى قبل الدفع بها ودفع غيرها، أو اشترى مطلقا ودفع تلك الدراهم، أو اشترى بدراهم أخر ودفع تلك الدراهم. قال أبو نصر: يطيب له ولا يجب عليه أن يتصدق إلا في الوجه الأول، وإليه ذهب الفقيه أبو الليث، لكن هذا خلاف ظاهر الرواية فإنه نص في الجامع الصغير: إذا غصب ألفا فاشترى بها جارية وباعها بألفين تصدق بالربح. وقال الكرخي: في الوجه الأول والثاني لا يطيب، وفي الثلاث الأخيرة يطيب، وقال أبو بكر: لا يطيب في الكل، لكن الفتوى الآن على قول الكرخي دفعا للحرج عن الناس اه. وفي الولوالجية: وقال بعضهم: لا يطيب في الوجوه كلها وهو المختار، ولكن الفتوى اليوم على قول الكرخي دفعا للحرج لكثرة الحرام اه وعلى هذا مشى المصنف في كتاب الغصب تبعا للدرر وغيرها.
الفتاوی الھندیة: (343/5، ط: دار الفكر)
أهدى إلى رجل شيئا أو أضافه إن كان غالب ماله من الحلال فلا بأس إلا أن يعلم بأنه حرام، فإن كان الغالب هو الحرام ينبغي أن لا يقبل الهدية، ولا يأكل الطعام إلا أن يخبره بأنه حلال ورثته أو استقرضته من رجل، كذا في الينابيع.
کذا فی تبویب فتاوي دار العلوم کراتشي: رقم الفتوي: 2058/73
وکذا فی الفتوی لدار الافتاء جامعة علوم اسلامیة علامه محمد یوسف بنوری ٹاؤن: رقم الفتوی: 4601102131
واللہ تعالٰی أعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی