resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: کام نہ ہونے کی صورت میں اجیر خاص (Time Based Employee)کو ملنے والی تنخواہ کا حکم

(63611-No)

سوال: السلام علیکم، میرا ایک سوال ہے، ہم شپنگ انڈسٹری سے وابستہ ہیں، اس وقت جنگ شروع ہونے کے بعد سے ہمارے کاروبار پر کافی برا اثر پڑا ہے، جنگ کے بعد سے کاروبار کافی حد تک کم ہوگیا ہے اور باس کی طرف سے بھی واضح ہدایات نہیں ہیں کہ آئندہ کام کس طرح کرنا ہے، جبکہ کھل کر کام کرنے کی بھی اجازت نہیں ہے، اس وجہ سے تقریباً ہماری پوری دن کی ڈیوٹی بےکار گزر جاتی ہے، یعنی ہم فارغ بیٹھے رہتے ہیں، گزشتہ تین ماہ سے ہمارے پاس بالکل بھی کام نہیں ہے۔
ایسی صورتِ حال میں جو تنخواہ ہمیں مل رہی ہے، کیا وہ ہمارے لیے حلال ہے؟ اگر ہم براہِ راست باس سے کہیں کہ ہمارے پاس کام نہیں ہے تو وہ اس بات کو منفی انداز میں لے سکتے ہیں، کیونکہ ان کا مزاج کچھ عجیب ہے۔
ہمیں اس طرح فارغ بیٹھنا بھی اچھا نہیں لگتا، براہِ کرم اس بارے میں رہنمائی فرمائیں کہ ہمیں آئندہ کیا کرنا چاہیے؟

جواب: واضح رہے کہ اگر کسی کمپنی یا ادارے میں ملازمین وقت کی بنیاد (time based) پر کام کرتے ہیں تو انہیں شرعاً "اجیر خاص" کہا جاتا ہے، جن کا حکم یہ ہے کہ وہ کمپنی کی طرف سے مقررہ وقت پر اپنے آپ کو حاضر کرنے کے پابند ہوتے ہیں، اسی بنیاد پر وہ تنخواہ کے بھی حق دار ہوتے ہیں۔
پوچھی گئی صورت میں اگر کمپنی کے پاس کام نہ ہونے کی وجہ سے آپ کو کام نہیں دیا جارہا، لیکن آپ معاہدہ کے مطابق وقت پورا دے رہے ہیں اور کام کیلئے اپنے آپ کو حاضر کیا ہوا ہے تو اس میں آپ کی طرف سے کوئی کوتاہی نہیں ہے۔ لہذا اس صورت میں ملنے والی تنخواہ آپ کے لیے حلال ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

الفتاوی الھندیة: (499/4، ط: دار الفکر)
والأجير الخاص من يستحق الأجر بتسليم نفسه وبمضي المدة ولا يشترط العمل في حقه لاستحقاق الأجر۔

شرح المجلة لسلیم رستم باز: (239/1)
"الأجیر الخاص یستحق الأجرۃ إذا کان فی مدۃ الإجارۃ حاضراً للعمل ۔۔۔۔ غیر أنہ یشترط أن یتمکن من العمل ، فلو سلم نفسه ولم یتمکن فیہ لعذر کالمطر والمرض ، فلا أجر له ، ولکن لیس له أن یمتنع عن العمل وإذا امتنع لا یستحق الأجرۃ".

رد المحتار: (کتاب الاجارة، 82/9
والثاني وہوالأجیر الخاص ویسمی أجیر وحد وہو من یعمل لواحدٍ عملاً موقتاً بالتخصیص ویستحق الأجر بتسلیم نفسه في المدۃ وإن لم یعمل کمن استؤجر شہراً للخدمة أو شہراً لرعي الغنم المسمی بأجر مسمی ۔۔۔۔ ولیس للخاص أن یعمل لغیرہ ، ولو عمل نقص من أجرتہ بقدر ما عمل ۔۔۔۔۔ وإن لم یعمل أي إذا تمکن من العمل فلو سلم نفسه ولم یتمکن منه لعذر کمطر ونحوہ لا أجر له".

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Employee & Employment