resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: شراب فروخت کرنے والے ادارے کے لیے Bookkeeping (حسابات مرتب کرنے) کی اجرت کا حکم

(63627-No)

سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، حضرت! ایک مسئلہ میں شرعی رہنمائی درکار ہے۔ میں ایک Chartered Accountant ہوں اور Bookkeeping کا کام کرتی ہوں۔ Bookkeeping سے مراد کسی کاروبار کے مالی معاملات کا حساب کتاب مرتب کرنا ہوتا ہے، مثلاً: کاروباری آمدن، اخراجات، بینک ٹرانزیکشنز وغیرہ کو ریکارڈ اور Categorize کرنا، Reconciliation کرنا اور مالی رپورٹس تیار کرنا، اس میں کسی کاروبار کی تشہیر، Marketing یا Sales بڑھانے کا کام شامل نہیں ہوتا۔
کچھ عرصہ پہلے مجھے ایک کلائنٹ کا Bookkeeping کا کام ملا، اس کی کمپنی کا نام "Gold Room Salon" تھا، اس لیے میں نے یہ سمجھا کہ شاید یہ کوئی Salon کا کاروبار ہے۔ مجھے اس وقت معلوم نہیں تھا کہ دراصل اس کا تعلق شراب فروخت کرنے والے کاروبار/Bar سے ہے، میں نے اس کا Bookkeeping کا کام مکمل کیا اور اس کے بدلے مجھے 600 ڈالر ملے، کام مکمل ہونے کے بعد تقریباً تین چار ماہ گزر گئے۔
حال ہی میں میں نے صرف Follow-up کے طور پر اس کلائنٹ کا کاروبار دیکھا تو مجھے معلوم ہوا کہ وہ شراب فروخت کرتا ہے اور اس کا Bar ہے، اس وقت مجھے معلوم ہوا کہ اس کا اصل کاروبار کیا ہے۔ جب میں نے کام کیا تھا تو مجھے اس حقیقت کا علم نہیں تھا۔ میرا اپنا کام صرف Bookkeeping تھا، یعنی اس کے کاروبار کا حساب کتاب مرتب کرنا۔ میری Service میں نہ شراب کی Marketing شامل تھی، نہ Promotion، نہ Customers لانے کا کام، نہ Sales بڑھانے کا اور نہ ہی کسی طرح اس کے کاروبار کی تشہیر کرنا میرا مقصد یا کام تھا۔
اب میرا سوال یہ ہے:
1) چونکہ مجھے اس وقت معلوم نہیں تھا کہ کلائنٹ کا کاروبار شراب کی فروخت سے متعلق ہے، تو کیا لاعلمی میں اس کا Bookkeeping کا کام کرنے اور اس کے بدلے 600 ڈالر لینے کی وجہ سے مجھ پر کوئی شرعی گناہ یا ذمہ داری عائد ہوتی ہے؟
2) اب جب مجھے معلوم ہو گیا ہے کہ اس کا کاروبار شراب فروخت کرنے سے متعلق ہے، تو جو 600 ڈالر میں اس کام کے بدلے لے چکی ہوں اور وہ رقم خرچ بھی ہو چکی ہے، کیا مجھے وہ رقم صدقہ کرنا ضروری ہے؟ اگر ضروری ہے تو کیا پوری 600 ڈالر کی رقم صدقہ کرنی ہوگی؟
3) میرے ایک Employee/Team Member نے اس کام میں Bookkeeping کی ذمہ داری ادا کی تھی اور مجھے اسے اس کام کے بدلے 20,000 روپے دینے ہیں۔ اگر اس کام کی اجرت شرعاً درست نہیں تھی تو کیا میں اپنے Employee کو یہ 20,000 روپے دے سکتی ہوں؟ اس کا کیا حکم ہوگا؟
4) آئندہ اگر میرے پاس ایسے کلائنٹس آئیں جن کا اصل کاروبار شراب یا کسی دوسرے حرام کام سے متعلق ہو، لیکن وہ مجھ سے صرف Bookkeeping کروانا چاہتے ہوں، اور میری Service براہِ راست Marketing، Promotion یا Sales بڑھانے سے متعلق نہ ہو، تو کیا میرے لیے ایسے کلائنٹس کا Bookkeeping کا کام کرنا جائز ہوگا یا مجھے ایسے کلائنٹس سے بھی اجتناب کرنا چاہیے؟
کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ چونکہ Bookkeeping بذاتِ خود ایک جائز Service ہے اور اس سے براہِ راست شراب کی فروخت یا Marketing نہیں ہوتی، اس لیے یہ کام جائز ہے، لیکن میں اس بارے میں اطمینان کے ساتھ شرعی حکم جاننا چاہتی ہوں۔ براہِ کرم قرآن و سنت اور فقہی اصولوں کی روشنی میں اس مسئلے کی وضاحت فرما دیں کہ سابقہ 600 ڈالر کی رقم کے بارے میں مجھے کیا کرنا چاہیے اور آئندہ ایسے کلائنٹس کے ساتھ کیا معاملہ رکھنا چاہیے۔ جزاکم اللہ خیراً

جواب: ​سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق بک کیپنگ (Bookkeeping) یعنی مالی حسابات و ٹرانزیکشنز کی ترتیب اور فنانشل رپورٹس تیار کرنا بذاتِ خود ایک مباح اور جائز ہنر و خدمت ہے، اور جائز کاروبار کے لیے یہ خدمت انجام دے کر اجرت لینا بلاشبہ حلال ہے۔
تاہم پوچھی گئی صورت کے تفصیلی شرعی احکام درج ذیل ہیں:
​1) لاعلمی میں کیے گئے کام کا حکم:
چونکہ کام کرتے وقت سائلہ کو قطعاً علم نہیں تھا کہ یہ ادارہ شراب فروشی (Bar) کا ہے اور انہوں نے "Gold Room Salon" کے نام سے اسے جائز کاروبار سمجھ کر کام کیا، اس لیے شرعاً لاعلمی اور خطاء کی بناء پر سائلہ پر اس سابقہ عمل کا کوئی گناہ عائد نہیں ہوگا۔
​2) وصول شدہ 600 ڈالر کا حکم:
اگرچہ بک کیپنگ کا عمل بذاتِ خود مباح تھا، لیکن چونکہ مذکورہ ادارے کی کل یا غالب آمدنی صریح حرام (شراب کی فروخت) سے حاصل شدہ تھی، اور یہ خدمات خالصتاً اسی حرام کاروبار کے لین دین کو منضبط کرنے کے لیے استعمال ہوئیں، اس لیے اس کام کے عوض حاصل ہونے والی آمدنی ناپاک اور خبیث ہے۔ چونکہ وہ رقم خرچ ہو چکی ہے، اس لیے اپنے ذمہ کو بری کرنے کے لیے اس کے بقدر (یعنی 600 ڈالر کے مساوی رقم) ثواب کی نیت کے بغیر مستحقِ زکوٰۃ غرباء و مساکین کو صدقہ کرنا لازم ہے۔
​3) ٹیم ممبر (ملازم) کے 20,000 روپے کی ادائیگی:
آپ کے ملازم نے آپ کے ماتحت رہ کر یہ محنت انجام دی ہے اور اس کا تعلق براہِ راست اس غیر مسلم کلائنٹ سے نہیں تھا، لہٰذا اس کی محنت کا حق آپ کے ذمہ لازم ہے۔ آپ پر واجب ہے کہ اپنے ذاتی پاک اور حلال مال سے اس ملازم کو اس کے طے شدہ 20,000 روپے ادا کریں۔ اس ادائیگی کو اس کلائنٹ سے ملی ہوئی حرام رقم سے ادا کرنا جائز نہیں ہے۔
​4) آئندہ ایسے کلائنٹس کا کام کرنے کا حکم:
جس کلائنٹ کا بنیادی کاروبار ہی شراب نوشی، قمار بازی، یا دیگر صریح محرمات پر مشتمل ہو، علم ہوتے ہوئے اس کے لیے بک کیپنگ، آڈٹ یا اکاؤنٹس کی خدمات انجام دینا شرعاً ناجائز اور ممنوع ہے۔ اگرچہ بک کیپنگ تشہیر یا مارکیٹنگ نہیں ہے، لیکن ایک مکمل طور پر حرام ادارے کے مالی حسابات کو مرتب اور منظم کرنا گناہ کے وجود اور اس کے انتظامی استحکام میں اعانت ہے، جو کہ قرآنِ مجید کے صریح حکم ﴿وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ﴾ (اور گناہ و زیادتی کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرو) کے تحت ممنوع ہے۔ لہٰذا آئندہ ایسے کلائنٹس کے ساتھ کام کرنے سے مکمل اجتناب لازم ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*دلائل:*

*سنن أبي داود (5/ 517 ، ط: دار الرسالۃ العلمیۃ):*
عن أبي طعمة مولاهم وعبد الرحمن بن عبد الله الغافقي أنهما سمعا ابن عمر يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "لعن الله الخمر وشاربها وساقيها، وبائعها ومبتاعها، وعاصرها ومعتصرها، وحاملها والمحمولة إليه".

*التفسير المظهري (3/ 19 – ط: مكتبة الرشدية ، الباكستان):*
ولا تعاونوا على الإثم والعدوان يعنى لا تعاونوا على ارتكاب المنهيات ولا على الظلم لتشفى صدوركم

*المبسوط للسرخسی (16/38-کتاب الاجارات،باب الاجارۃ الفاسدۃ-ط:دار المعرفۃ)*
والاستئجار على المعاصي باطل فإن بعقد الإجارة يستحق تسليم المعقود عليه شرعا ولا يجوز أن يستحق على المرء فعل به يكون عاصيا شرعا.

*حاشیۃ ابن عابدین (٥ / ٢٣٥- ط: دار الفكر):*
(قوله: اكتسب حراما إلخ) توضيح المسألة ما في التتارخانية حيث قال: رجل اكتسب مالًا من حرام ثم اشترى فهذا على خمسة أوجه: أما إن دفع تلك الدراهم إلى البائع أولا ثم اشترى منه بها أو اشترى قبل الدفع بها ودفعها، أو اشترى قبل الدفع بها ودفع غيرها، أو اشترى مطلقا ودفع تلك الدراهم، أو اشترى بدراهم أخر ودفع تلك الدراهم. قال أبو نصر: يطيب له ولا يجب عليه أن يتصدق إلا في الوجه الأول، وإليه ذهب الفقيه أبو الليث، لكن هذا خلاف ظاهر الرواية فإنه نص في الجامع الصغير: إذا غصب ألفا فاشترى بها جارية وباعها بألفين تصدق بالربح. وقال الكرخي: في الوجه الأول والثاني لا يطيب، وفي الثلاث الأخيرة يطيب، وقال أبو بكر: لا يطيب في الكل، لكن الفتوى الآن على قول الكرخي دفعا للحرج عن الناس اه. وفي الولوالجية: وقال بعضهم: لا يطيب في الوجوه كلها وهو المختار، ولكن الفتوى اليوم على قول الكرخي دفعا للحرج لكثرة الحرام اه وعلى هذا مشى المصنف في كتاب الغصب تبعا للدرر وغيرها.

*الفتاوی الھندیۃ (٥ / ٣٤٣- ط: دار الفكر):*
أهدى إلى رجل شيئا أو أضافه إن كان غالب ماله من الحلال فلا بأس إلا أن يعلم بأنه حرام، فإن كان الغالب هو الحرام ينبغي أن لا يقبل الهدية، ولا يأكل الطعام إلا أن يخبره بأنه حلال ورثته أو استقرضته من رجل، كذا في الينابيع.

*الفتاوى الهندية (4/409، ط: دار الفكر):*
الاجير يستحق الاجرة بالفراغ من العمل اذا كان العمل مما يستحق عليه الاجر

واللہ تعالٰی أعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

بک کیپنگ

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Employee & Employment