سوال:
السلام علیکم، اگر کوئی ملازم شخص سہ روزے میں کمپنی یا باس کو بغیر بتائے چلا جائے تو اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟
جواب: ملازم نے چونکہ کمپنی کے ساتھ روزانہ کی بنیاد پر مخصوص وقت کمپنی کو دینے کا معاہدہ کیا ہوتا ہے، جس کے عوض اسے تنخواہ ملتی ہے، اور معاہدہ کو پورا کرنا شرعاً ضروری ہوتا ہے، اس لئے کمپنی کی اجازت کے بغیر سہ روزے پر جانا معاہدہ کی خلاف ورزی پر مشتمل ہونے کی وجہ سے جائز نہیں ہے-
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*دلائل:*
*القرآن الکریم: (بنی اسرائیل، الآیة: 34)*
واوفوا بالعھد ان العھد کان مسئولا o
*أحکام القرآن للجصاص: (372/2، ط: دار الکتب العلمیة)*
وقوله صلی الله علیه وسلم: والمسلمون عند شروطہم فی معنی قول الله تعالیٰ (اوفوا بالعقود) وھو عموم فی ایجاب الوفاء بجمیع ما یشترط الانسان علی نفسه مالم تقم دلالة تخصصه
*الفتاوى الهندية (416/4، ط: الحقانية):*
وفي فتاوى الفضلي - رحمه الله تعالى -: إذا استأجر رجلا يوما ليعمل كذا فعليه أن يعمل ذلك العمل إلى تمام المدة ولا يشتغل بشيء آخر سوى المكتوبة وفي فتاوى أهل سمرقند قد قال بعض مشايخنا رحمهم الله تعالى: إن له أن يؤدي السنة أيضا واتفقوا أنه لا يؤدي نفلا وعليه الفتوى، كذا في الذخيرة.
واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء الاخلاص، کراچی