سوال:
محترم مفتی صاحب! موجودہ حالات کے پیشِ نظر ایک شرعی رہنمائی مطلوب ہے۔
میں Fiverr پر بطور فری لانسر کام کرتا ہوں اور میری فراہم کردہ خدمات، مثلاً ویب ڈویلپمنٹ (Web Development)، شرعاً جائز نوعیت کی ہیں۔ تاہم چونکہ بعض لوگ Fiverr کو اسرائیلی کمپنی قرار دیتے ہیں، اس لیے میرے ذہن میں اشکال پیدا ہوا ہے۔
دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا موجودہ حالات میں Fiverr جیسے پلیٹ فارم پر، جہاں میری خدمات بذاتِ خود جائز ہیں، فری لانسنگ کرنا شرعاً جائز ہے؟ یا اس کمپنی کی نسبت کی بنا پر اس پر کام کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے؟
جواب: اس سوال کا اصل تعلّق غیرتِ ایمانی سے ہے، یعنی جو ممالک مسلمانوں پر ظلم و زیادتی کرنے اور شعائرِ اسلام کی توہین کے مر تکب ہیں، ان کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے، شعائر اسلام کی توہین پر ان سے اظہارِ نفرت اور مسلمانوں پر ظلم و بربریت ڈھانے کے خلاف احتجاج کے طور پر ان ممالک کو کسی بھی قسم کا معاشی فائدہ پہنچانے سے اجتناب کرنا ایمانی غیرت و حمیّت کا عین تقاضا ہے، تاہم اگر آپ کسی وجہ سے ان کے بنائے ہوئے پلیٹ فارم (Fiverr) کے ذریعہ حلال اور جائز کام کرتے ہوں تو اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کو حرام نہیں کہا جائے گا، البتہ غیرتِ ایمانی اور اسلامی حمیّت کا تقاضا یہ ہے کہ آپ اپنے روزگار کے لئے متبادل کام کی تلاش جاری رکھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*دلائل:*
*القرآن الکریم: (المائدة، الآية: 2):*
وَ تَعَاوَنُوۡا عَلَی الۡبِرِّ وَ التَّقۡوٰی وَ لَا تَعَاوَنُوۡا عَلَی الۡاِثۡمِ وَ الۡعُدۡوَانِ ... الخ
*التفسير المظهري: (123/5، ط: مكتبة الرشيدية):*
ولا تركنوا إلى الذين ظلموا قال ابن عباس اى لا تميلوا والركون المحبة والميل بالقلب. وقال ابو العالية لا ترضوا بأعمالهم. وقال السدى لا تداهنوا الظلمة. وقال عكرمة لا تطيعوهم. وقيل لا تسكنوا الى الذين ظلموا قال البيضاوي لا تميلوا إليهم ادنى ميل فان الركون هو الميل اليسير كالتزين بزيهم وتعظيم ذكرهم فتمسكم النار بركونكم إليهم. قال البيضاوي وإذا كان الركون الى الظالمين كذلك فما ظنك بالميل كل الميل إليهم.
*أحكام القرآن للتهانوي (2/11 – تحت قول الله تعالى: لا يتخذ المؤمنون الكافرين أولياء....إلى آخر الآية):*
قلت ولعلك قد عرفت بذالك كله ان البيع والشراء من الكفار ولبس ما نسجوه من الثياب ليس من الموالاة المنهى عنها في شيء، الاما نص عليه الفقهاء من بيع السلاح والكراع لهم لما فيه من النصرة والمعونة على قتال المسلمين. ومن قاس شراء الثوب منهم على بيع السلاح لهم فقد اخطا القياس، نعم؛ لو راى امير المسلمين مصلحة في منعهم من شراء اموال اهل الحرب مطلقا ومن بيعهم لهم شيئا منها فله ذالك وعليهم اطاعته، واذا لم يكن لهم امير فلهم شراء كل شيء من اموالهم لاهل الحرب غير السلاح والكراع فافهم.
* الدر المختار مع رد المحتار: (268/4، ط: دار الفكر):*
(ويكره) تحريما (بيع السلاح من أهل الفتنة إن علم) لأنه إعانة على المعصية (وبيع ما يتخذ منه كالحديد) ونحوه يكره لأهل الحرب (لا) لأهل البغي لعدم تفرغهم لعمله سلاحا لقرب زوالهم، بخلاف أهل الحرب زيلعي.
قلت: وأفاد كلامهم أن ما قامت المعصية بعينه يكره بيعه تحريما وإلا فتنزيها نهر.
*وکذا فی التبویب لجامعۃ دار العلوم کراتشی (2542/61)*
واللہ تعالٰی أعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی