resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: لاری اڈے میں سواری لانے پر کمیشن وصول کرنا

(60485-No)

سوال: میرے والد صاحب ایک بس کے اڈے پر کام کرتے ہیں، وہاں سے انہیں 700 روپے ملتے ہیں، یہ پشاور کا اڈہ ہے اور اس کے قریب ہی سوات والوں کا ایک دوسرا اڈہ ہے، سوات والے اڈے کا منشی میرے والد صاحب سے کہتا ہے کہ اگر آپ سوات کی سواری لے کر آئے تو آپ کو فی سواری 500 روپے ملیں گے۔ اصل ٹکٹ 5000 روپے کا ہے، لیکن وہ منشی سواری سے 5500 روپے لیتا ہے اور اس میں سے 500 روپے میرے والد صاحب کو کمیشن کے طور پر دیتا ہے۔ کیا اس طرح 500 روپے کمیشن لینا جائز ہے؟ اگر جائز نہیں تو اس کے جائز ہونے کی کوئی صورت ہے؟

جواب: پوچھی گئی صورت میں آپ کے والد صاحب کے لیے سوات اڈے والوں کو سواری فراہم کرنے کے عوض باہمی رضامندی سے متعین کمیشن لینا شرعاً درست ہے، بشرطیکہ اس میں کوئی اور خلافِ شرع معاملہ (جھوٹ اور دھوکا وغیرہ) نہ پایا جائے۔
واضح رہے کہ اگر گاڑی کے مالکان یا حکومت کی طرف سے کرایہ کی کوئی مقدار متعین ہو تو منشی کا سواری سے اس متعینہ مقدار سے زیادہ کرایہ وصول کرنے کی صورت میں کمپنی/حکومت کی طرف سے مقررہ ریٹ کی خلاف ورزی کا گناہ ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

رد المحتار: (باب الإجارة الفاسدة، 47/6، ط: دار الفکر)
إجارة السمسار والمنادي والحمامي والصكاك وما لا یقدر فیه الوقت ولا العمل تجوز لما کان للناس بہ حاجة ویطیب الأجر الماخوذ لو قدر أجر المثل

و فيه ايضا (مطلب في أجرة الدلال، 63/6، ط: سعید)
"وفي الدلال والسمسار یجب أجرالمثل وما تواضعوا علیه أن في کل عشرة دنانیر کذا، فذاك حرام علیهم،
وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجوا أن لاباس به، وإن کان في الأصل فاسدا لکثرة التعامل وکثیر من هذا غیر جائز، فجوزوه لحاجة الناس إلیه کدخول الحمام

واللہ تعالیٰ أعلم بالصواب
دار الافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Employee & Employment