resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: بغیر اجازت دوسرے کی زمین میں کاشت کاری کرنے کا حکم

(60443-No)

سوال: السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ، استاد محترم! مسئلہ یہ ہے کہ ایک آدمی نے مالک کی زمین پر اس کی اجازت کے بغیر ٹماٹر کاشتکاری کی ہے اب زمین کا مالک کہتا ہے آپ نے میری اجازت کے بغیر میری زمین میں کاشت کاری ہے تجھے کچھ بھی نہیں دوں گا، اور کاشتکاری کرنے والا کہتا ہے کہ جتنا میں نے کام کیا ہے اس کے بقدر مجھے میری اجرت دینا پڑے گی، اب سوال یہ ہے کہ کاشتکار کو اجرت ملے گی یا نہیں؟ برائے کرم رہنمائی فرمائیں شکریہ۔

جواب: واضح رہے کہ کسی شخص کی زمین میں اس کی اجازت کے بغیر کاشت کاری کرنا یا اس میں کسی بھی قسم کا تصرف کرنا شرعاً جائز نہیں ہے۔
پوچھی گئی صورت میں چونکہ بیج کاشت کار کا تھا، اس لیے اس سے حاصل ہونے والی فصل کا مالک بھی کاشت کار ہی ہوگا۔ تاہم، چونکہ اس نے زمین کے مالک کی اجازت کے بغیر اس کی زمین استعمال کرکے یہ فصل حاصل کی ہے، اس لیے کاشت کار کے لیے اس فصل سے صرف اپنی اصل لاگت اور اخراجات کے بقدر انتفاع کرنا جائز ہوگا، جبکہ اس سے زائد حاصل ہونے والے نفع کو اپنے استعمال میں لانا جائز نہیں ہوگا۔ نیز کاشت کار اپنی محنت کی کسی الگ اجرت کا بھی مستحق نہیں ہوگا۔
لہٰذا کاشت کار اپنی اصل لاگت اور اخراجات کے بقدر رقم رکھ سکتا ہے، جبکہ اس سے زائد حاصل ہونے والے نفع کو ثواب کی نیت کے بغیر صدقہ کرنا لازم ہوگا۔
رہی بات زمین کے مالک کے حق کی، تو بلا اجازت اس کی زمین استعمال کرنے کی وجہ سے زمین کے مالک کو جو نقصان پہنچا ہو، نیز جس عرصے تک زمین کاشت کار کے تصرف اور استعمال میں رہی ہو اس مدت کے استعمال کا مناسب عوض بھی کاشت کار کے ذمہ لازم ہوگا، اور اسے مالکِ زمین کو ادا کرنا ضروری ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

سنن أبي داود: (رقم الحديث: 3403، ط: دار الرسالة العالمية)
٣٤٠٣ - حدَّثنا قتيبةُ بن سعيدٍ، حدَّثنا شريكٌ، عن أبي إسحاقَ، عن عطاءٍ عن راف.ع بن خديج قال: قال رسولُ الله - صلَّى الله عليه وسلم -: "مَن زَرَعَ في أرضِ قومٍ بغيرِ إذنِهم، فليس لهُ مِن الزَّرعِ شي، ولهُ نفقتُه.

الفتاوى الهندية: (144/5، ط: المطبعة الكبرى الأميرية)
وَاسْتَفْتَى جَدِّي عَمَّنْ زَرَعَ أَرْضَ غَيْرِهِ بِغَيْرِ أَمْرِهِ فَقَالَ مَالِكُ الْأَرْضِ: لِمَاذَا زَرَعْت؟ فَقَالَ الزَّارِعُ: ادْفَعْ إلَيَّ مَا بَذَرْت وَأَكُونُ لَك أَكَّارًا وَالزَّرْعُ بَيْنَنَا كَمَا هُوَ الرَّسْمُ فَدَفَعَ إلَيْهِ مِثْلَ ذَلِكَ الْبَذْرِ وَأَدْرَكَ الزَّرْعُ أَيَكُونُ بَيْنَهُمَا أَمْ يَكُونُ الْكُلُّ لِأَحَدِهِمَا (أَجَابَ) يَكُونُ الْكُلُّ لِصَاحِبِ الْأَرْضِ وَلِلزَّارِعِ أَجْرُ مِثْلِهِ كَذَا فِي الْفُصُولِ الْعِمَادِيَّةِ.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Employee & Employment