سوال:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، مفتی صاحب! اپ سے ایک سوال کرنا چاہتا ہوں کہ ہمارے علاقے میں ایک پرائیویٹ سکول اینڈ کالج ہے، اس میں جو بندہ کسی اسٹوڈنٹ یا دوست وغیرہ کو داخل کر لیتا ہے تو اس بندے کی وجہ سے اسٹوڈنٹ کے لیے فیس میں تقریباً دس ہزار کمی بھی کی جاتی ہے اور اس کے علاوہ جو شخص اس کا فارم داخل کر لیتا ہے اس کو تقریباً پانچ ہزار کا کمیشن بھی ملتا ہے تو کیا یہ کمیشن جائز ہے یا ناجائز ہے؟
جواب: پوچھی گئی صورت میں اسکول کی پالیسی کے مطابق کسی نئے طالب علم کا داخلہ کروانے پر ادارے کی طرف سے طالب علم کی فیس میں کمی کرنا یا ایڈمیشن فارم داخل کرانے والے کیلیے پانچ ہزار روپے کمیشن کا لینا شرعاً جائز ہے، بشرطیکہ کمیشن پہلے سے طے شدہ ہو اور اس میں جھوٹ، دھوکا یا کوئی شرعی خرابی نہ ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*دلائل:*
*مجمع الضمانات (ص27 -ط: دار الكتاب الإسلامي):*
فالأجير المشترك هو الذي يستحق الأجرة بالعمل لا بتسليم النفس كالقصار والصباغ
واللہ تعالٰی أعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی