سوال:
محترم مفتیانِ کرام! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
میں فقہِ حنفی اور دیوبندی مکتبِ فکر سے تعلق رکھتا ہوں، کچھ عرصہ قبل میں نے ایک آن لائن پلیٹ فارم جو ’’ٹاسک بیسڈ آپٹیمائزیشن ایپلی کیشن‘‘ (Task-based Optimization Application) کے طور پر کام کرتا تھا، استعمال کیا۔ یہ ایپ سان لُوکار (SanLucar) اور ایل وی ایم ایچ (LVMH) جیسے برانڈز کے ناموں کی غیر قانونی نقل کرتے ہوئے چلائی جا رہی تھی۔ اس ایپ کا دعویٰ تھا کہ ڈیجیٹل کلک ٹاسکس اور آپٹیمائزیشن آرڈرز مکمل کرنے کے عوض کمیشن دیا جاتا ہے۔
بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ یہ ایپ دراصل ایک جعلی پونزی/ٹاسک اسکیم (Ponzi/Task Scam) تھی۔ ایپ کسی حقیقی کاروباری منافع سے آمدنی حاصل نہیں کرتی تھی، بلکہ نئے متاثرین سے دھوکے سے حاصل کیے گئے ڈپازٹس کی رقم استعمال کرکے دوسرے صارفین کو ابتدائی کمائی اور کمیشن ادا کرتی تھی، تاکہ ان کا اعتماد قائم کیا جا سکے۔
میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اس ایپ کو استعمال کرتے وقت مجھے بالکل بھی علم نہیں تھا کہ یہ رقم معصوم متاثرین سے دھوکے کے ذریعے حاصل کی جا رہی ہے، میں حقیقتاً یہ سمجھتا تھا کہ ڈیجیٹل کام انجام دینے کے بدلے حاصل ہونے والی یہ آمدنی ایک جائز اور حلال ذریعۂ آمدن ہے۔
چونکہ اس وقت مجھے اس حقیقت کا بالکل علم نہیں تھا، اس لیے میں اس رقم کو مکمل طور پر عام اشیاء، روزمرہ کی ضروریات اور دیگر اخراجات میں خرچ کرچکا ہوں، اس وقت میرے پاس اس رقم میں سے کچھ بھی موجود نہیں ہے۔
مزید یہ کہ میں اس وقت طالب علم ہوں اور میری آمدنی کا کوئی فعال ذریعہ نہیں ہے۔ فی الحال میں کچھ نہیں کماتا اور جب تک تعلیم مکمل کرکے مستقبل میں ملازمت حاصل نہیں کرلیتا، میرے لیے اس رقم کی ادائیگی کی مالی استطاعت نہیں ہے۔ دارالافتاء سے میرے درج ذیل سوالات ہیں:
1) چونکہ اس وقت مجھے اس رقم کے ناجائز اور متاثرین سے حاصل ہونے کا بالکل علم نہیں تھا، کیا اس رقم کو کمانے اور خرچ کرنے کی وجہ سے مجھ پر گناہ ہوگا؟
2) جو رقم میں پہلے ہی خرچ کرچکا ہوں، اس کے بارے میں شرعی حکم کیا ہے؟
3) کیا میرے ذمے اس رقم کی مالی ذمہ داری (ضمان) عائد ہوگی؟ کیا لازم ہوگا کہ جب میں مستقبل میں کمانا شروع کروں تو یہ رقم اصل متاثرین تک پہنچانا ممکن نہ ہونے کی صورت میں صدقہ، ثواب کی نیت کے بغیر، کردیا کروں؟ یا سابقہ لاعلمی اور اس حقیقت کی وجہ سے کہ رقم پہلے ہی خرچ ہوچکی ہے، میرے ذمے یہ ذمہ داری باقی نہیں رہے گی؟
4) رقم تقریباً 8,000 سے 12,000 روپے کے درمیان تھی، لیکن مجھے صحیح مقدار معلوم نہیں اور اب اس کا حساب بھی نہیں کرسکتا۔ براہِ کرم شریعت کی روشنی میں میری رہنمائی فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیراً
جواب: 1) پوچھی گئی صورت میں اگر مذکورہ ایپ سے واقعی ناجائز طریقے سے رقم کمائی جاتی ہے، اور آپ کو اس وقت اس رقم کے ناجائز ہونے کا بالکل علم نہیں تھا تو امید ہے کہ لاعلمی کی حالت میں اس رقم کو حاصل کرنے اور خرچ کرنے پر گناہ نہ ہوگا، البتہ جب بعد میں اس کے ناجائز ہونے کا علم ہوگیا تو آئندہ اس رقم سے فائدہ اٹھانا جائز نہ ہوگا۔
2) جو رقم آپ خرچ کر چکے ہیں، اس کا شرعی حکم یہ ہے کہ وہ رقم اس کے اصل مالکان تک پہنچائی جائے، البتہ اگر اصل مالکان معلوم نہ ہوں یا ان تک رقم پہنچانا ممکن نہ ہو تو اس رقم کو ثواب کی نیت کے بغیر صدقہ کر دیا جائے۔
3) جی ہاں، شق نمبر 2 میں موجود تفصیل کے مطابق اس رقم کی مالی ذمہ داری آپ پر عائد ہوگی، اور صرف سابقہ لاعلمی کی بنیاد پر یہ رقم خرچ کرنے سے آپ اس کے ضمان سے بری نہیں ہوں گے، تاہم اگر یکمشت ادائیگی مشکل ہو تو آپ حسب استطاعت تھوڑی تھوڑی رقم صدقہ کرکے اس ذمہ داری سے سبکدوش ہوسکتے ہیں۔
4) اگر اصل رقم تقریباً 8,000 سے 12,000 روپے کے درمیان تھی اور صحیح مقدار معلوم نہیں ہے تو غالب گمان کے مطابق محتاط اندازہ کرکے اتنی رقم جس سے حق کی ادائیگی کا اطمینان ہوجائے، مقرر کرسکتے ہیں، مثلاً: اگر غالب گمان 10,000 روپے کا ہو تو 10,000 روپے کی ادائیگی کر دی جائے، اور اگر احتیاطاً کچھ زائد ادا کر دیے جائی تو یہ زیادہ بہتر ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*دلائل:*
*الأشباه والنظائر (ص:73، ط: مير محمد كتب خانه):*
وغالب الظن عندهم ملحق باليقين وهو الذي يبتنى عليه الأحكام، يعرف ذلك من تصفح كلامهم في الأبواب؛ صرحوا في نواقض الوضوء بأن الغالب كالمتحقق.
*رد المحتار على الدر المختار (99/5، ط: سعید):*
والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه.
واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء الاخلاص، کراچی