resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: غصب شدہ فلیٹ کرایہ پر لینے کا حکم

(52340-No)

سوال: ایک فلیٹ رینٹ پر لینا ہے، مالک نے اس پر قبضہ کیا ہوا ہے مطلب ان لیگل رہ رہا تھا، کیا اس میں کوئی شرعی عذر ہے ؟
تنقیح : محترم! ازراہِ کرم درج ذیل امور کی وضاحت فرمائیں:
(1) جس زمین پر یہ فلیٹ تعمیر کیا گیا ہے، کیا وہ سرکاری زمین ہے یا کسی شخص کی ملکیت ہے جس پر ناجائز قبضہ کیا گیا ہے؟
(2) کیا صرف زمین پر ناجائز قبضہ کیا گیا تھا اور بعد میں فلیٹ مالک مکان نے خود تعمیر کیا ہے یا پہلے سے تعمیر شدہ فلیٹ ہی پر ناجائز قبضہ کرکے اس میں رہائش اختیار کی ہوئی ہے ؟
1) کسی شخص کے ذاتی فلیٹ پر قبضہ کیا ہے ۔
2) تعمیر شدہ فلیٹ پر ناجائز قبضہ کیا ہوا ہے ۔

جواب: پوچھی گئی صورت میں اگر واقعی فلیٹ پر ناجائز قبضہ کیا گیا ہے تو ایسی صورت میں اس شخص سے کرایہ پر فلیٹ لے کر رہائش اختیار کرنا جائز نہیں ہے، لہٰذا جس شخص نے فلیٹ پر ناجائز قبضہ کیا ہوا ہے، اس پر لازم ہے کہ وہ یہ فلیٹ اس کے اصل مالک کے حوالے کرے اور اپنے اس ناجائز عمل سے سچّی توبہ کرے۔
کیونکہ غصب (ناحق قبضہ) پر احادیث مبارکہ میں سخت وعید وارد ہوئی ہے، چنانچہ ایک حدیث مبارک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "جس نے ناحق ایک بالشت زمین بھی غصب کی، قیامت کے دن اللہ تعالی سات زمینوں تک اس کا طوق بنا کر اس کو پہنائے گا"۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

*صحيح مسلم:(باب تحريم الظلم وغصب الأرض، رقم الحديث:1610)*
عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ ، أَنَّ أَرْوَى خَاصَمَتْهُ فِي بَعْضِ دَارِهِ، فَقَالَ : دَعُوهَا وَإِيَّاهَا ؛ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ أَخَذَ شِبْرًا مِنَ الْأَرْضِ بِغَيْرِ حَقِّهِ طُوِّقَهُ فِي سَبْعِ أَرَضِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".

*الفتاوى الهندية: (كتاب الغصب، 5/ 119،ط: دار الفكر)*
تفسيره شرعا فهو أخذ مال متقوم محترم بغير إذن المالك على وجه يزيل يد المالك إن كان في يده أو يقصر يده إن لم يكن في يده كذا في المحيط.

واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Employee & Employment