resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: اجرت طے کیے بغیر عقد اجارہ کرنے کا حکم

(52329-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب! میرا سوال یہ ہے کہ ایک آدمی مستری ہے، پیسے والا نہیں ہے اور جسمانی طور پر کمزور بھی ہے، کیونکہ وہ 56 سال کا ہے اس کا کوئی بیٹا نہیں ہے، اس لیے گھر کا خرچہ چلانے کے لیے اس کو خود ہی کام کرنا پڑتا ہے اور یہ کام ایسا ہے کہ کبھی ہوتا ہے کبھی دو تین مہینے کام ہی نہیں ملتا، جب کام نہیں ہوتا ہے تو اس آدمی کو گھر کا خرچہ بہت مشکل سے کرنا پڑتا ہے۔
میرا سوال یہ ہے کہ اس آدمی کا داماد اپنے گھر کے کچن اور واش روم وغیرہ کے کام اپنے سسر سے کرواتا ہے اور کام تھوڑا نہیں ہوتا کافی کام ہوتا ہے کافی دن لگتے ہیں اور کام کرنے میں کافی جان لگتی ہے۔
لیکن داماد سسر کو کام کے بدلے پیسے نہیں دیتا ہے ایسے فری میں کرواتا ہے، لیکن اس کی بیٹی چاہتی ہے اس کے باپ کو کام کے بدلے پیسے ملیں، بھلے تھوڑے ملیں لیکن مل جائیں تاکہ اس کے والد کی پریشانی بھی کم ہو، لیکن بیٹی یسوں کا اپنے شوہر کو نہیں بول سکتی ہے۔
سوال یہ ہے کہ داماد اپنے سسر سے گھر کا سامان منگواتا ہے لیکن پوچھتا نہیں ہے کہ کیا چیز کتنے کی ہے کیا حساب ہے نہ بیوی سے حساب کرتا ہے لائے ہوئے سامان کے پیسوں کا، اگر کام کرنے کے بھی پیسے شامل کر کے سسر داماد کو پیسوں کا بتائے کہ آپ کے اتنے پیسے بنتے ہیں تو ٹھیک رہے گا؟ کیونکہ داماد صرف پیسوں کا یہ پوچھتا ہے کہ کتنے پیسے بنے ہیں ٹوٹل اور دے دیتا ہے اور سسر جو سامان کے پیسوں میں کام کے جائز پیسے شامل کر کے داماد کو بتائے گا کہ اتنے پیسے ہو گئے ہیں وہ بیٹی کو پتہ ہوگا کہ کتنے ہیں اور جائز پیسوں سے مراد یہ ہے کہ کتنے بنتے ہیں اس سے بھی کم پیسے لیں گے کام کے۔
سسرال کا داماد کا آپ کو پتہ ہوگا مفتی صاحب ہر کسی کا سسرال اچھا نہیں ہوتا ہے بعض گھروں میں بیٹیاں بہت زیادہ مجبور ہوتی ہیں چاہ کر بھی کچھ بول نہیں سکتی ہیں۔ رہنمائی فرمائیں۔

جواب: واضح رہے کہ عقدِ اجارہ کی شرائط میں سے ایک شرط یہ ہے کہ اجیر کی اجرت پہلے سے طے کر لی جائے، چنانچہ اگر اجرت پہلے سے مقرر نہ کی گئی ہو تو وہ اجارہ فاسد ہوجاتا ہے، البتہ اگر اجرت مقرر کیے بغیر اجیر کام کرچکا ہو تو وہ اجرتِ مثل کا مستحق ہوگا۔ اجرتِ مثل سے مراد وہ اجرت ہے جو عرف میں اس کام کے بدلے عام طور پر دی جاتی ہے۔
لہٰذا پوچھی گئی صورت میں چونکہ سسر کا پیشہ مستری کا ہے اور وہ اجرت لے کر کام کرنے میں معروف ہے، جبکہ داماد نے اس سے اجرت طے کیے بغیر کام کروایا ہے، اس لیے اگر سسر اپنی اجرت کا مطالبہ کرے تو داماد پر اس کام کی اجرتِ مثل ادا کرنا لازم ہوگی۔
لہٰذا سسر کو چاہیے کہ وہ پہلے اپنے داماد سے اپنی اجرتِ مثل کا مطالبہ کرے، اور داماد پر لازم ہے کہ وہ عرف کے مطابق اس کام کی مناسب اجرت ادا کرے، البتہ اگر مطالبہ کرنے کے باوجود داماد بلاوجہ اجرت ادا کرنے سے انکار کرے یا ٹال مٹول سے کام لے تو سسر کو شرعی طور پر یہ حق حاصل ہوگا کہ وہ کسی اور جائز طریقے سے اپنی اجرتِ مثل کے بقدر رقم وصول کرسکتا ہے۔
اسی طرح اگر سسر اپنی اجرت کو کسی سامان یا کسی دوسرے واجب الادا حق کے ساتھ ملا کر وصول کرنا چاہے تو کرسکتا ہے، بشرطیکہ اس میں جھوٹ، دھوکا یا خیانت نہ ہو، بلکہ سسر داماد سے واضح طور پر کہے: "میرے آپ کے ذمے مجموعی طور پر اتنے روپے باقی ہیں جو آپ نے ادا کرنے ہیں۔"

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

*مجلة الأحكام العدلية: (ص:105،ط: نور محمد)*
(المادة 563) لو خدم أحد آخر بناء على طلبه من دون مقاولة على أجرة فله أجر المثل إن كان ممن يخدم بالأجرة وإلا فلا.

*الفتاویٰ الھندیة:(427/4،ط:دار الفکر)*
إذا سكن الرجل في دار رجل ابتداء من غير عقد فإن كانت الدار معدة للاستغلال يجب الأجر، وإن لم تكن معدة للاستغلال لا يجب الأجر إلا إذا تقاضاه صاحب الدار بالأجر وسكن بعدما تقاضاه لأن سكناه حينئذ يكون رضا بالأجر

*توثيق الديون على المذاهب الفقهية الأربعة: (ص: 318، ط: مكتبة معارف القرآن)‏*
مسئلة الظفر في الفقه الإسلامي‎:‎
‏٣٢٧- إن ظفر الدائن بشيئ من مال المديون، هل يجوز له أن يستوفي دينه ‏بالمال المظفور به؟
وجواب المسئلة فيه تفصيل حسب ما يأتي
‏1- إن كان المديون مقراً بالدين باذلاً له، لم يكن للظافر أن يأخذ مما ظفر به، ‏إلا ما يعطيه المديون برضاه، ويقول ابن قدامة رحمه الله:‏
‏«وهذا لا خلاف فيه بين أهل العلم، فإن أخذ من ماله شيئا بغير إذنه لزمه رده ‏إليه، وإن كان قدر حقه، لأنه لا يجوز أن يملك عينا من أعيان ماله بغير ‏اختياره لغير ضرورة، وإن كان من جنس حقه، لأنه قد يكون للإنسان غرض ‏في العين‎.‎
‏٢- إن كان المديون مانعا للدين لأمر يبيح المنع، كالتأجيل والإعسار، لم يجر ‏أخذ شيئ من ماله بغير خلاف. وإن أخذه لزمه رده إن كان باقيا أو عوضه إن ‏كان تالفا‎.‎
‏3-وإن كان المديون مانعا له بغير حق، وقدر الدائن على استخلاصه بالحاكم، ‏فللشافعية فيه وجهان: أحدهما: أنه لايجور له الأخذ بنفسه، والآخر: يجوز و ‏رجحه النووي رحمه الله، وهو الراجح في رماننا، لصعوبة رفع القضية إلى الحاكم.‏
‏٤- وإن كان المدين جاحداً، ولا بينة له فيه، ولايقدر الدائن على استخلاصه ‏بالحاكم، ولايجيبه إلى المحاكمة، ففيه خلاف‎………‎أما الحنفية، فمذهبهم ‏في الأصل أن الظافر إن ظفر بمال من جنس حقه، جاز له أن يستوفي حقه ‏منه، *وإن كان المظفور به من غير جنس حقه، فلا يجوز له ذلك، لأنه يحتاج ‏لاستيفاء حقه إلى بيعه، ولا يجوز له أن يبيع مال غيره بغير إذن منه، ولكن ‏أفتى المتأخرون بجواز الأخذ* ولو كان المال المظفور به من غير جنس الحق قال ‏ابن عابدين رحمه الله:‏
‏ «قال الحموي في شرح الكنز نقلاً عن العلامة المقدسي عن جده الأشقر عن ‏شرح القدوري للأخصب إن عدم جواز الأخذ من خلاف الجنس كان في ‏زمانهم لمطاوعتهم في الحقوق، والفتوى اليوم على جواز الأخذ عند القدرة من ‏أي مال كان، لاسيما في ديارنا لمداومتهم العقوق......فصار مذهب الحنفية الآن مثل مذهب الشافعية. وهو رواية عند المالكية ‏والحنابلة أيضا، كما قدمناه من نصوصهم.‏

*المعايير الشرعية: (ص: 123، رقم المعيار: 4، هيئة المحاسبة و المراجعة للمؤسسات المالية ‏الإسلامية، أيوفي)‏*
الدين هو ما يثبت في الذمة - من غير أن يكون معينا مشخصا - بأي سبب ‏يقتضي ثبوته، سواء أكان نقدا أم سلعة أم منفعة موصوفة من منافع الأشياء أو ‏الأشخاص مثل الثمن في بيع الأجل، وبدل القرض‎.‎

واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی


Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Employee & Employment