resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: سی وی (CV) یا Resume میں اپنی تصویر لگا کر پرنٹ کرنا اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کا حکم

(47225-No)

سوال: مفتی صاحب! آج کل نوکری کے لیے CV یا ریزیومے (Résumé ) بنائی جاتی ہے، اس میں اپنی تصویر لگانا ضروری ہوتا ہے، معلوم یہ کرنا ہے کہ تصویر کے ساتھ CV بنانا اور پھر اسے پرنٹ کر کے جمع کروانا جائز ہے یا نہیں؟ اور اس سے جو پیسے کمائے جاتے ہیں وہ حلال ہوں گے یا نہیں؟ براہِ مہربانی رہنمائی فرمائیں۔ جزاک اللہ

جواب: واضح رہے کہ شدید حاجت اور ضرورت کے بغیر کسی جاندار کی تصویر بنا کر اسے پرنٹ کرنا شرعاً ناجائز و حرام ہے، البتہ اگر تصویر صرف ڈیجیٹل صورت میں موجود ہو اور اسے پرنٹ نہ کیا جائے تو اس بارے میں معاصر اہلِ علم کے کی آراء مختلف ہیں۔ بعض علماء کرام ڈیجیٹل تصویر کو بھی ناجائز قرار دیتے ہیں، جبکہ بعض علماء کرام کے ہاں ڈیجیٹل تصویر ناجائز تصویر کی وعید میں شامل نہیں ہے، اس لیے اس کی گنجائش ہے۔
لہٰذا سوال میں پوچھی گئی صورت میں سی وی (CV) یا Resume پر تصویر کروانا شرعاً درست نہیں؛ کیونکہ ملازمت کے حصول کے لیے سی وی میں تصویر لگانا ایسی ضرورتِ شدیدہ یا مجبوری نہیں جس کی بنا پر اس کی اجازت دی جاسکے، کیونکہ تصویر کے بغیر بھی سی وی (CV) جمع کرائی جاسکتی ہے، البتہ اگر سی وی صرف ڈیجیٹل صورت میں بھیجی جا رہی ہو اور اسے پرنٹ نہ کیا جائے تو اس میں تصویر شامل کرنے کی گنجائش ہے۔
اسی طرح تصویر والی سی وی کو پرنٹ کرنا جائز نہیں ہے، لیکن سی وی بنانے سے حاصل ہونے والی آمدنی حلال ہوگی، کیونکہ سی وی میں تصویر مقصود نہیں ہوتی بلکہ کوائف کا اندراج مقصود ہوتا ہے اور ملنے والی اجرت بھی اسی کے عوض ملتی ہے۔
اسی طرح اگر کسی شخص نے تصویر والی سی وی (CV) جمع کروائی، جس کے نتیجے میں اسے ملازمت حاصل ہوگئی، پھر وہ ملازمت بذات خود جائز ہو اور اس میں انجام دیے جانے والے کام بھی شرعاً جائز ہوں تو اس ملازمت سے حاصل ہونے والی تنخواہ یا آمدنی کو حرام نہیں کہا جائے گا، کیونکہ ناجائز ہونے کا تعلق تصویر لگانے کے عمل سے ہے، نہ کہ اس جائز ملازمت کے عوض حاصل ہونے والی اجرت سے، لہٰذا ایسی ملازمت کی تنخواہ حلال ہوگی، (بشرطیکہ اس کے ناجائز ہونے کی کوئی اور وجہ نہ پائی جائے) اگرچہ بلا ضرورت تصویر لگانے کا عمل اپنی جگہ ناجائز رہے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

عمدة القاري: (70/22، ط: دار احياء التراث العربي)
وفي التوضيح قال أصحابنا وغيرهم تصوير صورة الحيوان حرام أشد التحريم وهو من الكبائر وسواء صنعه لما يمتهن أو لغيره فحرام بكل حال لأن فيه مضاهاة لخلق الله وسواء كان في ثوب أو بساط أو دينار أو درهم أو فلس أو إناء أو حائط.

تبيين الحقائق: (118/6، ط: سعيد)
قال - رحمه الله - (ولا يجوز على الغناء والنوح والملاهي) لأن المعصية لا يتصور استحقاقها بالعقد فلا يجب عليه الأجر.

والله تعالى اعلم بالصواب
دار الافتاء الاخلاص،كراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Employee & Employment