resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: ای بک گرافک ڈیزائننگ (E-book Graphic Designing) کے کام کے دوران عیسائی مذہب اور موسیقی کی کتابوں کی ای بک (E-book) بنانے کا حکم

(45199-No)

سوال: میں ایک گرافک ڈیزائنر ہوں، میں برطانیہ (UK) کی مارکیٹ میں ای بُک ڈیزائننگ کا کام کرتا ہوں، اس کام کے دوران مختلف نوعیت کی کتابیں ڈیزائن کرنے کے لیے آتی ہیں، مثلاً: بچوں کی تصویری (Child Illustration) کتابیں، کہانیاں، کارپوریٹ کتابیں اور دیگر تعلیمی و معلوماتی مواد وغیرہ۔
البتہ کبھی کبھار موسیقی (Music) سے متعلق کتابیں یا ایسی کتابیں بھی آ جاتی ہیں جن میں عیسائیت (Christianity) کی تبلیغ و تعلیم کا مواد ہوتا ہے، لیکن اس قسم کی کتابوں کی تعداد بہت کم ہوتی ہے، مثلاً سو (100) کتابوں میں سے صرف دو یا تین کتابیں ایسی ہوتی ہیں، جبکہ باقی زیادہ تر بچوں کی کتابیں، کہانیاں اور عام نوعیت کے موضوعات پر مشتمل ہوتی ہیں۔
شریعتِ اسلامیہ کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ میرے لیے اس نوعیت کا گرافک ڈیزائننگ کا کام کرنا جائز ہے یا نہیں؟ خصوصاً جب کام کے دوران کبھی کبھار موسیقی یا غیر اسلامی مذاہب کی تبلیغ سے متعلق کتابوں کی ڈیزائننگ بھی شامل ہو جاتی ہو۔ جزاکم اللہ خیراً

جواب: پوچھی گئی صورت میں مذکورہ گرافک ڈیزائننگ (Graphic Designing) کے کام کے دوران جائز باتوں پر مشتمل کتابوں کی "ای بک" (E-book) بنانا جائز ہے، البتہ موسیقی اور عیسائی مذہب کی تبلیغ اور تعلیمات پر مشتمل کتابوں کی "ای بک" (E-book) بنانے کا کام جائز نہیں ہے، کیونکہ اس میں موسیقی اور عیسائیت کی ترویج میں تعاون پایا جاتا ہے، جو شرعاً ناجائز ہے، لہٰذا مناسب انداز سے اس نوعیت کی کتابوں کی "ای بک" (E-book) بنانے سے مکمل طور پر بچنے کا اہتمام کریں۔
تاہم اگر مذاہبِ باطلہ کے خلاف تحقیقی نوعیت کا کام کرنے والے کسی معتبر علمی ادارے یا کسی محقِّق (Researcher) کے لیے عیسائی مذہب کی کتابوں کی "ای بک" (E-book) تیار کرنا پڑے تو اس کی گنجائش ہوگی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

القرآن الکریم: (المائدہ، الآیة: 2)
وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ۚ وَاتَّقُوا اللّٰهَ ۖ اِنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ o

الفتاوى الهندية: (348/5، ط: دار الفكر)
ولا ينبغي للرجل أن يسأل اليهودي والنصراني عن التوراة والإنجيل والزبور ولا يكتبه ولا يتعلمه ولا يستدل لإثبات المطالب بما ذكر في تلك الكتب وأما استدلال العلماء في إثبات رسالة سيدنا محمد - صلى الله عليه وسلم - بالمذكور في أسفار التوراة وصحف الإنجيل فذلك للإلزام عليهم بما عندهم كذا في الوجيز للكردري.

و فيه أيضاً: (215/2، ط: دار الفكر)
أصاب المسلمون غنائم، وكان فيما أصابوا مصحف فيه شيء من كتب اليهود والنصارى لا يدري أن فيه توراة أو زبورا أو إنجيلا أو كفرا، فإنه لا ينبغي للإمام أن يقسم ذلك في مغانم المسلمين، ولا ينبغي أن يحرق بالنار وإذا كره إحراقه ينظر بعد هذا إن كان لورقه قيمة، وينتفع به بعد المحو والغسل بأن كان مكتوبا على جلد مدبوغ أو ما أشبه ذلك، فإنه يمحى ويجعل الورق في الغنيمة، وإن لم تكن لورقه قيمة، ولا ينتفع به بعد المحو بأن كان مكتوبا على القرطاس يغسل وهل يدفن وهو على حاله إن كان موضعا لا يتوهم وصول يد الكفرة إليه؟ يدفن، وإن كان موضعا يتوهم وصول يد الكفرة إليه لا يدفن وإن أراد الإمام بيعه من رجل مسلم، فإن كان الذي يريد شراءه ممن يخاف عليه أن يبيعه من المشركين رغبة منه في المال يكره بيعه منه وإن كان موثوقا به، ويعلم أنه لا يبيعه من المشركين، فلا بأس ببيعه منه.
قال مشايخنا رحمهم الله تعالى والجواب في بيع كتب الكلام على هذا التفصيل إن كان الذي يريد شراءها ممن يخاف عليه الإضلال والفتنة يكره للإمام أن يبيعها منه وإن كان موثوقا به لا يخاف عليه الإضلال والفتنة لا يكره بيعها منه.

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Employee & Employment