سوال:
میرا سوال یہ ہے کہ اگر میں ایک وائی فائی راؤٹر یا ایسی ڈیوائس خریدتا ہوں جو انٹرنیٹ سروس فراہم کرتا ہو جس کا کوئی تعلق انسانی حقوق سے نہیں ہے اور اس ڈیوائس کا انٹرنیٹ بل اس حرام رقم سے ادا کرتا ہوں، پھر اگر میں اس انٹرنیٹ کو فری لانسنگ کے لیے استعمال کروں تو کیا فری لانسنگ سے ہونے والی آمدنی حلال ہوگی یا حرام؟
اگر آپ حرام پیسہ استعمال کرتے ہیں جو کہ انسانی حقوق سے متعلق نہیں ہے، کاروبار کے تمام لائسنسوں اور تمام قانونی دستاویزات کی ادائیگی کے لیے اور اس کاروبار کے لیے سافٹ ویئر خریدتے ہیں، اور اس کاروبار کی تشہیر کرتے ہیں اور اس رقم کو صرف اس کاروبار کا سامان اور خدمات خریدنے کے لیے استعمال کرتے ہیں تو کیا اس کاروبار کا منافع حلال ہے یا حرام؟
اگر آپ اس حرام رقم سے ویڈیو ایڈیٹنگ، گرافکس ڈیزائن یا تخلیقی سافٹ ویئر خریدتے ہیں، جو کہ انسانی حقوق سے متعلق نہیں تو کیا اس کام سے حاصل ہونے والی آمدنی حلال ہوگی یا حرام؟
میں نے اوپر بیان کی گئی تمام چیزیں بیان کر دی ہیں، کیا مندرجہ بالا تمام چیزوں سے ہر ماہ آمدنی میں سے کچھ رقم دے کر اس حرام کی ذمہ داری سے آزاد ہونا ممکن ہے؟
جواب: واضح رہے کہ حرام مال کا شرعی حکم یہ ہے کہ اسے اصل مالک کو لوٹانا واجب ہے، اگر اصل مالک یا اس کے ورثاء کو رقم واپس کرنا ممکن نہ ہو تو پھر اتنی رقم بلا نیت ثواب اصل مالک کی طرف سے صدقہ کرنا لازم ہے۔
لہذا پوچھی گئی صورت میں کاروبار کے لیے استعمال ہونے والا سافٹ ویئر (software)، کاروبار کے قانونی دستاویزات (Registration) کی فیس، وائی فائی (Wi-Fi) کا بل، کاروبار کی تشہیر (marketing) میں حرام پیسے سے ادائیگی شرعاً درست نہیں، تاہم اگر کوئی لا علمی میں ایسا کر لے تو اس جائز کاروبار سے ہونے والا نفع کو حرام نہیں کہا جائے گا، بشرطیکہ ناجائز ہونے کی کوئی اور وجہ نہ پائی جائے، تاہم کراہت (شرعی ناپسندیدگی) رہے گی، لہذا حتی الامکان ان پیسوں کو شرعی مصرف (اصل مالک/ورثاء یا بلا نیت ثواب صدقہ) میں لگانے کی کوشش کی جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*فقه البيوع علی المذاهب الأربعة: (1006/2، ط: مکتبة معارف القرآن)*
وإنّه حرامٌ للغاصب الانتفاعُ به أو التّصرّفُ فيه، فيجبُ عليه أن يرُدّه إلى مالكه، أو إلى وارثه بعد وفاتِه، وإن لم يُمكن ذلك لعدم معرفةِ المالك أو وارثه، أو لتعذّر الرّدّ عليه لسببٍ من الأسباب، وجب عليه التّخلّصُ منه بتصدّقه عنه من غير نيّةِ ثوابِ الصّدقةِ لنفسه.
*رد المحتار: (385/6، ط: دار الفکر)*
سبيل الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد على صاحبه.
*رد المحتار: (مطلب إذا اکتسب حرامًا ثم اشتری علی خمسة أوجه، 235/2، ط: سعید)*
رجل اكتسب مالا من حرام ثم اشترى فهذا على خمسة أوجه: أما إن دفع تلك الدراهم إلى البائع أولا ثم اشترى منه بها أو اشترى قبل الدفع بها ودفعها، أو اشترى قبل الدفع بها ودفع غيرها، أو اشترى مطلقا ودفع تلك الدراهم، أو اشترى بدراهم أخر ودفع تلك الدراهم. قال أبو نصر: يطيب له ولا يجب عليه أن يتصدق إلا في الوجه الأول، وإليه ذهب الفقيه أبو الليث، لكن هذا خلاف ظاهر الرواية فإنه نص في الجامع الصغير: إذا غصب ألفا فاشترى بها جارية وباعها بألفين تصدق بالربح. وقال الكرخي: في الوجه الأول والثاني لا يطيب، وفي الثلاث الأخيرة يطيب، وقال أبو بكر: لا يطيب في الكل، لكن الفتوى الآن على قول الكرخي دفعا للحرج عن الناس۔
*معارف السنن: (باب ما جاء لا تقبل صلاۃ بغیر طھور، 34/1، ط: سعید)*
"قال شیخنا: ویستفاد من کتب فقہائنا کالهدایة وغیرها: أن من ملك بملك خبیث، ولم یمکنه الرد إلی المالك، فسبیله التصدقُ علی الفقراء … قال: إن المتصدق بمثله ینبغي أن ینوي به فراغ ذمته، ولا یرجو به المثوبة"
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی