resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: جعلی حاضری کی بنیاد پر حاصل شدہ ڈگری اور اس کے ذریعے ملازمت کا حکم

(45188-No)

سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! میں ان دنوں فارغ التحصیل ہوا ہوں، لیکن مجھے ہمیشہ ایسے خیالات آتے رہتے ہیں اور اپنی تعلیم کے دوران کی گئی غلطیاں یاد آتی رہتی ہیں۔
اس سال میں نرسنگ کی تعلیم حاصل کر رہا تھا، دورانِ تعلیم عملی تربیت (ٹریننگ/انٹرن شپ) کے لیے بعض دنوں میں نہیں گیا، لیکن اس کے باوجود میں نے یونیورسٹی کی طرف سے دی گئی حاضری کی کاپی میں ان دنوں کی بھی حاضری درج کر دی اور اس پر دستخط بھی کر دیے کہ میں حاضر رہا ہوں۔
سال کے آخر میں ہم یہ کاپی یونیورسٹی میں جمع کراتے ہیں اور اسی حاضری کی بنیاد پر ہمیں نمبر دیے جاتے ہیں۔ میں نے جیسا کہ ذکر کیا کہ بعض دنوں کی حاضری جعلی طور پر درج کی تھی، اگر وہ نمبر نکال دیے جاتے تو ممکن ہے کہ میں ان مضامین میں ناکام ہو جاتا۔
اب میرا سوال یہ ہے کہ کیا مجھے یہ ڈگری چھوڑ دینی چاہیے اور اس کے ذریعے ملازمت نہیں کرنی چاہیے یا پھر کیا میں اللہ تعالیٰ سے سچی توبہ کر کے اسی ڈگری کے ذریعے ملازمت کر سکتا ہوں؟ حقیقت یہ ہے کہ میں اس معاملے کی وجہ سے بہت زیادہ پریشان اور تھک چکا ہوں۔

جواب: پوچھی گئی صورت میں جن دنوں آپ عملی تربیت/انٹرن شپ میں حاضر نہیں ہوئے تھے، ان دنوں کی حاضری درج کرنا اور اس پر دستخط کرنا جھوٹ، دھوکا اور خیانت پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ناجائز تھا، اس لئے آپ پر لازم ہے کہ اس پر توبہ واستغفار کریں، اور آئندہ اس طرح کے عمل سے اجتناب کریں۔
البتہ اگر اس ڈگری کی بنیاد پر آپ کو کوئی ایسی جائز ملازمت ملتی ہے، جس کے لیے آپ واقعی مطلوبہ صلاحیت اور قابلیت رکھتے ہیں، اور متعلقہ کام کو مطلوبہ معیار کے مطابق انجام دے سکتے ہیں، اور اپنی ذمہ داریاں دیانت داری سے ادا کرتے ہیں تو ایسی صورت میں چونکہ ملنے والی تنخواہ اس کام کے عوض ہوگی، اس لئے اس ملازمت کو اختیار کرنے اور اس کے عوض تنخواہ وصول کرنے کی گنجائش ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

القرآن الکریم: (النساء، الایة: 58)
إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا ... الخ

صحيح مسلم (كتاب الإيمان، 99/1، ط: دار إحياء التراث العربي)
من غش فليس مني.

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح: (74/6، ط: رشيدية)
من غش أي خان وهو ضد النصح، فليس مني أي ليس هو على سنتي وطريقتي.

المبسوط للسرخسي: (52/16، ط: دار المعرفة)
ولكن هذا النهي لمعنى في غير العقد فلا يمنع صحة الإجارة ووجوب الأجر إذا عمل كالنهي عن البيع وقت النداء.

واللہ تعالٰی أعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Employee & Employment