سوال:
میں ایک دوست کے ساتھ ایک یونیورسٹی پروجیکٹ میں سرمایہ کاری کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ وہ میری سرمایہ کاری سے لائسنس حاصل کریں گے اور لیبارٹریاں قائم کریں گے، اس کے بدلے میں وہ ہر نئے داخلے (Admission) پر مجھے ایک متعین رقم ادا کریں گے۔
ایک سمسٹر مکمل ہونے کے بعد مجھے اختیار ہوگا کہ یا تو اپنی اصل رقم منافع کے ساتھ واپس لے لوں یا باہمی رضامندی سے سرمایہ کاری جاری رکھوں۔
اس پورے معاہدے میں میری اصل سرمایہ (Principal Amount) ہر حال میں محفوظ رہے گا، جبکہ منافع داخلوں کی تعداد پر منحصر ہوگا۔
کیا شرعی اعتبار سے یہ سرمایہ کاری اور مذکورہ معاہدہ جائز ہے؟
جواب: پوچھی گئی صورت میں مذکورہ بالا طریقہ کار کے مطابق معاملہ کرنا شرعاً جائز نہیں، کیونکہ یہ قرض پر متعین اضافہ لینے کی صورت بن رہی ہے، جو کہ سود ہے۔
اس کی جائز متبادل صورت ایک تو یہ ہو سکتی ہے کہ شرکت (Partnership/Musharaka) کا معاملہ کر لیا جائے، یعنی آپ اور آپ کا دوست دونوں مل کر یونیورسٹی کی لیب میں ایک تناسب (مثلاً 60% اور 40%) سے سرمایہ لگائیں اور فیس اور ایڈمیشن کی مد میں آنے والی آمدنی میں فیصد (Percentage) کے حساب سے نفع طے کر لیں (مثلاً 50-50 یا 60-40)۔ شرکت میں نفع کا تناسب سرمایہ سے مختلف بھی ہو سکتا ہے، البتہ جو شریک کام نہیں کر رہا (Sleeping Partner) اس کا نفع اس کے سرمائے کے تناسب سے زیادہ نہیں ہو سکتا۔ البتہ نقصان کی صورت میں ہر شریک اپنے اپنے سرمائے کے تناسب سے نقصان برداشت کرے گا، یعنی جس نے جتنا فیصد سرمایہ لگایا ہے، اسے اتنے ہی تناسب سے نقصان برداشت کرنا پڑے گا۔
اس کی دوسری جائز متبادل صورت یہ ہو سکتی ہے کہ آپ اجارہ (Ijarah/Leasing) یعنی کرایہ داری کا معاملہ کر لیں۔ کمپیوٹر اور لیب سے متعلق دیگر مطلوبہ اشیاء آپ اپنی رقم سے خرید کر، یونیورسٹی کو ماہانہ/سالانہ متعین کرایہ (Fixed Rent) پر ایک مدت کے لیے دے دیں۔ مدت مکمل ہونے کے بعد جب آپ معاہدہ ختم کرنا چاہیں تو لیب کا موجودہ سامان آپ یونیورسٹی کو الگ معاہدہ کے تحت، اس وقت کے موجودہ مارکیٹ ریٹ پر فروخت کر سکتے ہیں۔
اس صورت میں اگر لیب کا سامان کرایہ دار کی غفلت کے بغیر، قدرتی آفت یا حادثاتی طور پر ضائع ہو جائے تو اس کا نقصان آپ برداشت کریں گے۔ یونیورسٹی صرف اپنی غفلت یا کوتاہی کی صورت میں بقدرِ نقصان ذمہ دار ہوگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*القرآن الکریم: (البقرۃ، الایۃ: 276)*
أَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا....الخ
*الهندية: (کتاب الشركة، فصل فى بيان شرائط انواع الشركة، 56/6، ط: دار الكتب العلمية)*
(ومنها): أن يكون الربح جزءًا شائعًا في الجملة، لا معينًا، فإن عينا عشرةً، أو مائةً، أو نحو ذلك كانت الشركة فاسدةً؛ لأن العقد يقتضي تحقق الشركة في الربح والتعيين يقطع الشركة لجواز أن لايحصل من الربح إلا القدر المعين لأحدهما، فلا يتحقق الشركة في الربح
*بدائع الصنائع: (395/7، ط: دار الکتب العلمیۃ)*
(وأما) الذي يرجع إلى نفس القرض: فهو أن لا يكون فيه جر منفعة، فإن كان لم يجز، نحو ما إذا أقرضه دراهم غلة، على أن يرد عليه صحاحا، أو أقرضه وشرط شرطا له فيه منفعة؛ لما روي عن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أنه «نهى عن قرض جر نفعا» ؛ ولأن الزيادة المشروطة تشبه الربا؛ لأنها فضل لا يقابله عوض، والتحرز عن حقيقة الربا، وعن شبهة الربا واجب هذا إذا كانت الزيادة مشروطة في القرض
*الفتاوى الهندية (4/ 411) دار الفكر،بيروت*
وأما شرائط الصحة فمنها رضا المتعاقدين. ومنها أن يكون المعقود عليه وهو المنفعة معلوما علما يمنع المنازعة فإن كان مجهولا جهالة مفضية إلى المنازعة يمنع صحة العقد وإلا فلا. ومنها بيان محل المنفعة حتى لو قال: آجرتك إحدى هاتين الدارين أو أحد هذين العبدين، أو: استأجرت أحد هذين الصانعين لم يصح العقد. ومنها بيان المدة في الدور والمنازل والحوانيت وفي استئجار الظئر. وأما بيان ما يستأجر له في إجارة المنازل فليس بشرط حتى لو استأجر شيئا من ذلك ولم يسم ما يعمل فيه جاز، وأما في إجارة الأرض فلا بد من بيان ما يستأجر له.
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی