سوال:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
محترم مفتی صاحب! میں پاکستان میں رہنے والا ایک مسلمان ہوں اور آن لائن سروس بیسڈ کاروبار (Agency Business) شروع کرنا چاہتا ہوں، اس سلسلے میں شرعی رہنمائی مطلوب ہے۔
میرا بزنس ماڈل یہ ہوگا کہ میں امریکہ (USA) کے مختلف کاروباروں کو AI Automation، CRM اور Appointment Booking کی سروسز فراہم کروں گا۔ یہ سروسز بنیادی طور پر سافٹ ویئر اور آٹومیشن سے متعلق ہوں گی، یعنی میں خود ان کے کاروبار میں عملی طور پر شامل نہیں ہوں گا بلکہ صرف ٹیکنالوجی اور سسٹم مہیا کروں گا۔
ہماری سروسز کی تفصیل درج ذیل ہے:
1) AI Voice Agent / AI Receptionist:
اگر کسی کاروبار کو کوئی کسٹمر کال کرے تو ایک AI سسٹم خودکار طریقے سے کال اٹھائے گا، کسٹمر سے بات کرے گا، بنیادی سوالات کے جواب دے گا اور اپائنٹمنٹ بک کر دے گا۔
2) Chat Bot / Messaging Automation:
اگر کسٹمر ویب سائٹ، SMS یا WhatsApp پر پیغام کرے تو AI Chatbot اس سے بات کرے گا، سوالات کے جواب دے گا اور اپائنٹمنٹ بک کرے گا۔
3) Appointment Booking System:
کسٹمرز کے لیے کیلنڈر سسٹم ہوگا جس میں وہ وقت منتخب کر کے اپائنٹمنٹ بک کر سکیں گے۔
4) Missed Call Text Back:
اگر کاروبار کسی کال کو نہ اٹھا سکے تو سسٹم خودکار طور پر کسٹمر کو میسج بھیج دے گا۔
5) Review Management:
ہم کاروبار کے کسٹمرز کو Google Reviews دینے کے لیے Reminder Messages بھیجیں گے تاکہ ان کے مثبت ریویوز بڑھ سکیں۔
6) SEO (Search Engine Optimization):
ہم ان کی ویب سائٹ کو گوگل سرچ میں بہتر رینک کروانے کی کوشش کریں گے تاکہ زیادہ لوگ ان تک پہنچ سکیں۔
7) CRM System:
کسٹمرز کا ریکارڈ، اپائنٹمنٹس، Follow-ups وغیرہ منظم کرنے کے لیے سسٹم فراہم کیا جائے گا۔
اب سوال یہ ہے کہ میں یہ سروسز امریکہ کے درج ذیل کاروباروں کو دینا چاہتا ہوں:
1۔ Med Spas
یہ Beauty/Aesthetic Clinics ہوتے ہیں جہاں مختلف قسم کی Skin Care، Laser، Facial، Botox، Fillers، Acne Treatment اور Cosmetic Services وغیرہ دی جاتی ہیں۔ بعض خدمات علاج یا Skin Care سے متعلق ہوتی ہیں جبکہ بعض صرف Beauty Enhancement کے لیے ہوتی ہیں، اس لیے ان میں حلال و حرام یا جائز و ناجائز امور ملے جلے ہو سکتے ہیں۔
2۔ Barber Shops
یہ مردوں کے Hair Cutting اور Grooming کے کاروبار ہوتے ہیں، ان میں بال کاٹنا، Beard Trimming وغیرہ ہوتی ہے۔ امریکہ میں اکثر Barber اور ان کے کسٹمرز غیر مسلم ہوتے ہیں اور بعض لوگ مکمل Beard Shaving بھی کرواتے ہیں۔
3۔ Hair Salons
یہ Hair Styling اور Beauty سے متعلق کاروبار ہوتے ہیں جن میں Hair Cut، Hair Styling، Coloring وغیرہ کی خدمات دی جاتی ہیں، ان میں بھی بعض امور جائز اور بعض ممکنہ طور پر ناجائز یا خلافِ شرع ہو سکتے ہیں۔
اہم بات یہ ہے کہ میں خود کسی حرام کام کو انجام نہیں دوں گا، میں صرف Software، Automation اور Marketing/Communication Tools فراہم کروں گا، کاروبار اور ان کے زیادہ تر کسٹمرز غیر مسلم ہوں گے، میری سروسز عمومی Business Automation نوعیت کی ہوں گی، نہ کہ کسی خاص حرام عمل کو Promote کرنے کے لیے۔
اب شرعی رہنمائی مطلوب ہے کہ
1) کیا میرے لیے ایسے کاروباروں کو یہ سروسز فراہم کرنا جائز ہے؟
2) کیا Med Spas، Barber Shops اور Hair Salons تینوں کا حکم ایک جیسا ہوگا یا مختلف؟
3) اگر کسی کاروبار میں حلال اور حرام دونوں قسم کی خدمات موجود ہوں تو اس کو عمومی Business Automation سروس دینا جائز ہے یا نہیں؟
4) اگر Barber Shop میں غیر مسلم لوگ Beard Shaving کرواتے ہوں تو کیا ایسی صورت میں ان کو AI Receptionist یا Appointment Booking سسٹم دینا جائز ہوگا؟
5)اگر ان کاروباروں کے اکثر مالک اور کسٹمرز غیر مسلم ہوں تو کیا اس سے حکم میں فرق آئے گا؟
6) ایسی کمائی شرعاً حلال ہوگی یا مشتبہ یا ناجائز؟ براہِ کرم قرآن و سنت اور فقہی اصولوں کی روشنی میں رہنمائی فرما دیں۔ جزاکم اللہ خیراً
جواب:
1-6) پوچھی گئی صورت میں آپ کا بنیادی کام مختلف کاروباروں کو مصنوعی ذہانت پر مبنی تیکنیکی اور عمومی سہولیات فراہم کرنا ہے، لہذا اگر یہ خدمات عمومی نوعیت کی ہوں، جن سے کسی مخصوص ناجائز عمل کی ترویج اور معاونت نہ ہوتی ہو تو ایسی خدمات دینا شرعاً درست ہے۔
البتہ اگر کسی کاروبار میں غالب سرگرمیاں ناجائز ہوں یا آپ عمومی خدمات کی بجائے کسی مخصوص ناجائز کام کیلیے براہ راست سروس دیں تو ایسی صورت میں خدمات فراہم کرنا ناجائز کام میں براہ راست معاونت (تعاون علی الاثم) پر مشتمل ہونے کی وجہ سے جائز نہیں ہوگا۔
واضح رہے کہ حکم کا اصل مدار کاروبار کی نوعیت اور دی جانے والی خدمات پر ہوتا ہے، مسلم یا غیر مسلم کو اس طرح کی سروسز دینے سے حکم میں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*القرآن الکریم: (المائدة، الایة: 2)*
ولا تعاونوا علی الاثم و العدوان ... الخ
*تفسیر ابن کثیر: (10/2، ط: دار السلام)*
(ولا تعاونوا على الاثم و العدوان)، یأمر تعالی عبادہ المؤمنین بالمعاونة علی فعل الخیرات وهوالبر و ترك المنکرات و هو التقوی، و ینهاهم عن التناصر علی الباطل و التعاون علی المآثم والمحارم
*رد المحتار: (268/4، ط: دار الفکر)*
وكذا لايكره بيع الجارية المغنية والكبش النطوح والديك المقاتل والحمامة الطيارة؛ لأنه ليس عينها منكراً، وإنما المنكر في استعمالها المحظور اه قلت: لكن هذه الأشياء تقام المعصية بعينها لكن ليست هي المقصود الأصلي منها، فإن عين الجارية للخدمة مثلاً والغناء عارض فلم تكن عين المنكر، بخلاف السلاح فإن المقصود الأصلي منه هو المحاربة به فكان عينه منكراً إذا بيع لأهل الفتنة، فصار المراد بما تقام المعصية به ما كان عينه منكر بلا عمل صنعة فيه، فخرج نحو الجارية المغنية؛ لأنها ليست عين المنكر، ونحو الحديد والعصير؛ لأنه وإن كان يعمل منه عين المنكر لكنه بصنعة تحدث فلم يكن عينه.
*جواهر الفقه: (تفصيل الكلام في مسئلة الإعانة على الحرام: 453/2- 439، ط: مكتبة دار العلوم)*
ثم السبب ان كان سببا محركا وداعيا إلى المعصية فالتسبب فيه حرام كالإعانة على المعصیة بنص القران كقوله تعالى: " لاتسبوا الذين يدعون من دون الله"، ....... وان لم يكن محرکا و داعيا، بل موصلا محضا، وهو مع ذلك سبب قريب بحيث لا يحتاج في إقامة المعصية به إلى إحداث صنعة من الفاعل كبيع السلاح من أهل الفتنة وبيع العصير ممن يتخذه خمرا وبيع الأمرد من يعصي به وإجارة البيت ممن يبيع فيه الخمر و يتخذها كنيسة أو بيت نار و أمثالها، فكله مكروه تحريما بشرط أن يعلم به البائع والأجر من دون تصريح به باللسان، فإنه إن لم يعلم كان معذورا، وإن علم كان داخلا في الإعانة المحرمة، وإن كان سببا بعيدا بحيث لا يفضي إلى المعصية على حالته الموجودة، بل يحتاج إلى إحداث صنعة فيه كبيع الحديد من أهل الفتنة وأمثالها فتكره تنزيها.
*فقه البیوع: (192/1، ط: معارف القرآن)*
الاعانۃ علی المعصیة حرام مطلقا بنص القرآن اعنی قوله تعالی: ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان (المائدۃ:2) وقوله تعالی: فلن اکون ظھیرا للمجرمین (القصص:17) ولکن الاعانة حقیقة ھی ما قامت المعصیۃ بعین فعل المعین، ولا یتحقق الا بنیة الاعانة او التصریح بھا الخ۔
*وفیه ایضاً: (264/2، ط: معارف القرآن)*
بیع الأشیاء إلیه (البنك) : وفیه تفصیل ، فإن کان المبیع ممایتمحض استخدامه فی عقد محرم شرعاً، مثل برنامج الحاسوب الذی صمم للعملیات الربویة خاصة، فإن بیعه حرام للبنک وغیرہ ، وکذلك بیع الحاسوب بقصد أن یستخدم فی ضبط العملیات المحرمة أوبتصریح ذلك فی العقد
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی