resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: پبلشر کے لیے باطل فرقوں کی کتابیں اور ناول چھاپنے کا حکم

(42060-No)

سوال: مفتی صاحب! پبلشر کا ناول اور فرقِ باطلہ کی کتابیں چھاپنا شرعًا جائز ہے یا نہیں؟ نیز مذکورہ کتابوں کی چھپائی کی کمائی شرعًا حلال ہے یا نہیں؟

جواب: ایسی کتابیں یا ناول جن میں بے حیائی، فحاشی، شہوت انگیزی یا اخلاق بگاڑنے والا مواد غالب ہو، جن سے معاشرے پر منفی اثرات مرتّب ہوتے ہوں، ان کی نشر و اشاعت اور خرید و فروخت جائز نہیں، البتہ اگر کوئی ناول بنیادی طور پر ادبی یا اصلاحی نوعیت کا ہو، اور اس میں ضمنی طور پر کچھ نامناسب مضامین آجائیں تو ایسی صورت میں اس کی نشر و اشاعت اگرچہ ناجائز نہیں ہوگی، تاہم اس میں کراہت پائی جائے گی، اس لئے حتی الامکان اس سے بھی اجتناب بہتر ہے۔
اسی طرح باطل فرقوں کے غلط عقائد و نظریات پر مشتمل کتابوں کی عام نشر و اشاعت "تعاون علی الاثم" (ناجائز کام میں معاونت) پر مشتمل ہونے کی وجہ سے جائز نہیں، تاہم ایسی کتابیں اگر تحقیقی یا تنقیدی مطالعے کے لیے ہوں، تا کہ طلبہ، محققین یا اہلِ علم ان کا تنقیدی مطالعہ کرکے ان کا رد کرسکیں تو ایسے اہلِ علم اور متعّلقہ افراد تک محدود انداز میں ان کی فراہمی کی گنجائش ہوگی، عام لوگوں کے لیے ان کتابوں کی نشر و اشاعت اور فروخت سے اجتناب ضروری ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*دلائل:*

*القران الکریم: (لقمان: 6)*
ومن الناس من یشتری لهو الحدیث لیضل عن سبیل الله بغیر علم ویتخذها هزوا اولئک لهم عذاب مهین

*فيه أيضا: (النور:19)*
ان الذین یحبون ان تشیع الفاحشة فی الذین اٰمنوا لهم عذاب الیم فی الدنیا والاٰخرة

*وفيه أيضا:(المائدۃ، الآیة: 2)*
وَ لَا تَعَاوَنُوۡا عَلَی الۡاِثۡمِ وَ الۡعُدۡوَانِ ۪ وَ اتَّقُوا اللہَ ؕ اِنَّ اللہَ شَدِیۡدُ الۡعِقَابِ

*جواهر الفقه: (تفصيل الكلام في مسئلة الإعانة على الحرام: 453/2- 439، ط: مكتبة دار العلوم)*
ثم السبب ان كان سببا محركا وداعيا إلى المعصية فالتسبب فيه حرام كالإعانة على المعصیة بنص القران كقوله تعالى: " لاتسبوا الذين يدعون من دون الله"، ....... وان لم يكن محرکا و داعيا، بل موصلا محضا، وهو مع ذلك سبب قريب بحيث لا يحتاج في إقامة المعصية به إلى إحداث صنعة من الفاعل كبيع السلاح من أهل الفتنة وبيع العصير ممن يتخذه خمرا وبيع الأمرد من يعصي به وإجارة البيت ممن يبيع فيه الخمر و يتخذها كنيسة أو بيت نار و أمثالها، فكله مكروه تحريما بشرط أن يعلم به البائع والأجر من دون تصريح به باللسان، فإنه إن لم يعلم كان معذورا، وإن علم كان داخلا في الإعانة المحرمة، وإن كان سببا بعيدا بحيث لا يفضي إلى المعصية على حالته الموجودة، بل يحتاج إلى إحداث صنعة فيه كبيع الحديد من أهل الفتنة وأمثالها فتكره تنزيها.

*فقه البیوع: (192/1، ط: معارف القرآن)*
الاعانۃ علی المعصیة حرام مطلقا بنص القرآن اعنی قوله تعالی: ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان (المائدۃ:2) وقوله تعالی: فلن اکون ظھیرا للمجرمین (القصص:17) ولکن الاعانة حقیقة ھی ما قامت المعصیۃ بعین فعل المعین، ولا یتحقق الا بنیة الاعانة او التصریح بھا الخ

واللہ تعالٰی أعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Employee & Employment