resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: ملازمت میں ملنے والے پٹرول الاؤنس (Petrol Allowance) کے ذاتی استعمال کا حکم

(42030-No)

سوال: ایک شخص کو کمپنی سے گاڑی کا پٹرول 100 لٹر ماہانہ ملتا ہے، اس کے خرچ کے بارے میں کسی بھی جگہ لکھا ہوا نہیں ہے کہ کن مقاصد کے لیے استعمال کرنا ہے۔ کمپنی آنے اور جانے میں تقریبا 60-70 لٹر استعمال ہوتا ہے۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا بقیہ پٹرول اپنے گھر کے استعمال، اپنے بھائی یا دوست کی گاڑی میں استعمال کیا جاسکتا ہے؟ یا کیا بقیہ پٹرول کسی کو کچھ کم قیمت پر بیچا جاسکتا ہے؟

جواب: اسلامی شریعت میں ملازمت کے دوران ملنے والی سہولیات اور الاؤنسز کا دارومدار کمپنی کے ساتھ ہونے والے معاہدے، عرف اور پالیسی پر ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں کا عام عرف یہ ہے کہ کسی بھی ادارے کی طرف سے ملازمین کے لیے پیٹرول کی مد میں سہولت میَسّر کرنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ملازم اس مقدار تک اس سہولت سے فائدہ حاصل کر سکتا ہے اور اس مقرّرہ حد سے زیادہ کی ذمّہ داری ادارے پر عائد نہ ہوگی۔ اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں ہوتا کہ مطلوبہ مقدار مکمل کرنا لازمی اور ضروری ہے، اور نہ ہی یہ مطلب ہوتا ہے کہ بقیہ پیٹرول اپنے گھر کے استعمال میں لایا جائے یا اپنے کسی بھائی یا دوست کی گاڑی میں استعمال کرلیا جائے۔
لہٰذا سائل کو کمپنی کی طرف سے ملنے والے پیٹرول میں سے اگر کچھ بچ جائے تو اسے کمپنی میں واپس جمع کرانا ضروری ہوگا، اسے کسی کو کم قیمت پر بیچنا یا اپنے گھر کے استعمال میں لانا جائز نہیں ہوگا۔
ہاں! اگر کسی جگہ کمپنی کی طرف سے دیا جانے والا پیٹرول ملازم کی تنخواہ یا مستقل الاؤنس کا حصہ ہو، اس طور پر کہ کمپنی نے اس ملازم کو اس کا مالک بنا دیا ہو تو پھر اس صورت میں بچ جانے والا پیٹرول ذاتی استعمال میں لانا، اپنے اہلِ خانہ یا دوستوں کی گاڑی میں استعمال کرنا یا فروخت کرنا جائز ہوگا، کیونکہ اس صورت میں ملکیت منتقل ہو چکی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الدلائل:
*درر الحكام فی شرح مجلۃ الأحكام: (51/1، ط: دارالجيل)*
[ ‌‌(المادة 43) المعروف عرفا كالمشروط شرطا]
"المعروف عرفا كالمشروط شرطا وفي الكتب الفقهية عبارات أخرى بهذا المعنى " الثابت بالعرف كالثابت بدليل شرعي " و " المعروف عرفا كالمشروط شرعا " و " الثابت بالعرف كالثابت بالنص والمعروف بالعرف كالمشروط باللفظ، وقد سبق لنا أن عرفنا العرف والعادة

*شرح المجلۃ: ( ج 1 ص 96 ط: دارالفکر)*
لا يجوز لأحد أن يتصرف في ملك الغير بلا إذنه هذه المادة مأخوذة من المسألة الفقهية (لا يجوز لأحد التصرف في مال غيره بلا إذنه ولا ولايته) الواردة في الدر المختار.

*وفیہ ایضاً: ( الشرکات الباب الثالث ،المادۃ : 1192 ج 3 ص 201 ط: دارالفکر)*
(كل يتصرف في ملكه كيفما شاء. لكن إذا تعلق حق الغير به فيمنع المالك من تصرفه على وجه الاستقلال. الخ .

والله تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی


Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Employee & Employment