سوال:
میں ایک کمپنی (Wealth Craft Lifestyle Pvt. Ltd.) کے ساتھ کام کرتا ہوں، جو صحت اور تندرستی سے متعلق مصنوعات فروخت کرتی ہے، اس کمپنی میں کمائی کا نظام اس طرح ہے کہ جب تک مصنوعات کی فروخت نہیں ہوتی، اس وقت تک کوئی کمیشن نہیں ملتا، یعنی آمدنی کی بنیاد مکمل طور پر مصنوعات کی فروخت پر ہے۔
کمپنی میں تین طرح کے بونس ملتے ہیں: (1) میچنگ بونس (ٹیم کی سیل پر)
(2) ریفرل بونس (3) رینک انکم
کمپنی کے پلان کے مطابق: 50 PV پر تقریباً ₹7,20,000 کا کاروبار ہوتا ہے، جس پر ₹23,750 آمدنی ملتی ہے۔
₹100 کے کاروبار پر تقریباً ₹3.30 کمیشن بنتا ہے، جو مختلف بونس کی صورت میں دیا جاتا ہے۔
اس نظام میں بغیر مصنوعات کی فروخت کے کوئی آمدنی نہیں ہوتی اور آمدنی دراصل مصنوعات کے کاروبار سے منسلک ہے۔
میرا سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح کے نیٹ ورک مارکیٹنگ کاروبار میں کام کرنا اور اس سے آمدنی حاصل کرنا شریعت کے مطابق حلال ہے یا حرام؟ براہ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔ جزاک اللہ خیراً
جواب: آپ نے جس کمپنی (Wealth Craft Lifestyle Pvt. Ltd.) اور اس کے طریقہ کار کا ذکر کیا ہے، اسے عرفِ عام میں نیٹ ورک مارکیٹنگ (Multi-Level Marketing) کہا جاتا ہے۔ اگرچہ آپ نے یہ واضح کیا ہے کہ آمدنی کا مدار مصنوعات کی فروخت پر ہے، لیکن شرعی نقطہ نظر سے اس طرح کے معاملات میں چند ایسی بنیادیں پائی جاتی ہیں جن کی وجہ سے جمہور علمائے کرام و مفتیان کرام اس کاروبار کو ناجائز قرار دیتے ہیں۔
اس نظام کے ناجائز ہونے کی چند اہم فقہی وجوہات درج ذیل ہیں:
١) آپ نے ذکر کیا ہے کہ "میچنگ بونس" ٹیم کی سیل پر ملتا ہے۔ شریعت کا اصول ہے کہ اجرت (کمیشن) اس کام پر ملتی ہے جو انسان خود کرے یا اس کی نگرانی میں ہو۔ نیٹ ورک مارکیٹنگ میں نیچے والے درجے کے لوگ (Downlines) جو فروخت کرتے ہیں، اس میں اوپر والے شخص کی محنت یا عمل شامل نہیں ہوتا، بلکہ وہ محض ایک "نظام" کا حصہ ہونے کی وجہ سے کمیشن پاتا ہے۔ اسے فقہ کی اصطلاح میں "اکل اموال الناس بالباطل" (لوگوں کا مال ناحق کھانا) کے زمرے میں رکھا جاتا ہے۔
۲) اس نظام میں اصل مقصد مصنوعات کی فروخت نہیں ہوتی، بلکہ ممبر سازی کا ایک ایسا سلسلہ ہوتا ہے جس کا انجام نامعلوم ہوتا ہے۔ "میچنگ بونس" حاصل کرنے کے لیے مخصوص شرائط (مثلاً: دائیں اور بائیں بازو کی سیل برابر ہونا) پوری کرنا ضروری ہوتی ہیں۔ اگر وہ شرط پوری نہ ہو تو محنت کے باوجود کچھ نہیں ملتا۔ یہ غرر (Uncertainty) اور قمار (Gambling) کی ایک صورت ہے، جہاں انسان اپنا مال یا محنت اس امید پر لگاتا ہے کہ اسے بڑا نفع ملے گا، لیکن نفع ملنا یا نہ ملنا دوسروں کی کارکردگی پر منحصر ہوتا ہے جو اس کے اختیار میں نہیں۔
۳) اکثر ایسی کمپنیوں میں ممبر بننے کے لیے مصنوعات خریدنا شرط ہوتا ہے، یعنی آپ کمپنی کے "گاہک" بھی بن رہے ہیں اور "ایجنٹ" بھی۔ شریعت میں ایک سودے کو دوسرے سودے کے ساتھ اس طرح مشروط کرنا کہ ایک کے بغیر دوسرا نہ ہو سکے، ممنوع قرار دیا گیا ہے (لا یحل سلف وبیع، ولا شرطان فی بیع)۔
۴) عمومی طور پر ایسی کمپنیوں میں مصنوعات کی قیمت ان کی مارکیٹ ویلیو سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ گاہک وہ چیز ضرورت کے لیے نہیں بلکہ "بزنس آئی ڈی" یا "کمانے کے موقع" کے حصول کے لیے خریدتا ہے۔ اگر یہ اس سے نکال دی جائیں تو کوئی بھی شخص اتنی مہنگی چیز نہیں خریدے گا، لہٰذا یہاں "بیع" (فروخت) محض ایک قانونی راستہ (حیلہ) ہوتی ہے، اصل مقصود نیچے سے پیسہ اکٹھا کر کے اوپر تقسیم کرنا ہوتا ہے۔
خلاصہ فتویٰ:
آپ نے جو نظام ذکر کیا ہے (بالخصوص میچنگ بونس، ریفرل بونس اور رینک انکم)، اس میں درج ذیل خرابیاں موجود ہیں:
1) سود (ربا): پیسے کے بدلے زیادہ پیسے کا حصول (بذریعہ حیلہ)،
2) جوا (قمار): ممبرز کی سیل پر مشروط آمدنی جس کا حصول یقینی نہیں۔
3) دھوکہ (غرر): نیٹ ورک کے آخری سرے پر موجود لوگوں کا نقصان یقینی ہونا۔
چنانچہ جس کمپنی میں مذکورہ شرائط پائی جائیں، ایسی کمپنی کے ساتھ کام کرنا اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی شرعی طور پر حلال نہیں ہے۔
آپ کے لیے بہتر یہی ہے کہ اپنی صلاحیتیں کسی ایسے کاروبار میں لگائیں جو "بیعِ حقیقی" (Real Trade) پر مبنی ہو، جہاں آپ کی اجرت آپ کی اپنی محنت یا براہِ راست دلالی (سمسرہ) سے وابستہ ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
البناية شرح الهداية: (8/ 158، ط: دار الكتب العلمية - بيروت، لبنان)
وقد «نهى النبي - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عن بيع الملامسة والمنابذة» ش: وقد مر هذا عن قريب من حديث أنس - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - وغيره، والمنابذة تتناول الكل.وقال الأكمل - رَحِمَهُ اللَّهُ -: وعبارة الكتاب تشير إلى أن المنهي عنه منع الملامسة والمنابذة وبيع إلقاء الحجر ملحق بهما، لأنه في معناهما.قلت: قد جاء في حديث أخرجه مسلم والأربعة عن أبي هريرة - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قال: «نهى رسول الله - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عن بيع الغرر وبيع الحصاة» وما وقف الأكمل - رَحِمَهُ اللَّهُ - على هذا الحديث، فلذلك اقتصر على الكلام الذي قاله.م: (ولأن فيه) ش: أي ولأن في كل واحد من هذه البيوع م: (تعليقا) ش: أي تعليق التمليك م: (بالخطر) ش: وفي " المغرب "، الخطر: الإشراف على الهلاك، قالت الشراح: وفيه معنى القمار لأن التمليك لا يحتمل التعليق لإفضائه إلى معنى القمار.
الموسوعة الفقهية الكويتية: (39/ 404)
وقال ابن حجر المكي: الميسر: القمار بأي نوع كان، وقال المحلي: صورة القمار المحرم التردد بين أن يغنم وأن يغرم. وقال مالك: الميسر: ميسران، ميسر اللهو وميسر القمار فمن ميسر اللهو النرد والشطرنج والملاهي كلها، وميسر القمار ما يتخاطر الناس عليه. وبمثل ذلك قال ابن تيمية.
والله تعالیٰ اعلم باالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی