resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: آفس سے کورئیر کمپنی تک مال پہنچانے اور پیکنگ کے اخراجات کو ڈیلیوری کے اخراجات میں شامل کرنا

(41945-No)

سوال: السلام عليكم، محترم مفتی صاحب! ایک مسئلہ میں رہنمائی درکار ہے، مسئلہ یہ ہے کہ ہم باہر ممالک مال بھیجتے ہیں اور کورئیر کمپنی ہمارا مال گاہک تک پہنچاتی ہے، کورئیر کمپنی کا عموماً عام گاہکوں کے لئے فی کلو چارجز 13، 14 روپے ہوتا ہے اور ہمیں 10 روپے کلو ملتا ہے اور ہم خریدار کو 11، 12 روپے دیتے ہیں جو مبیع کی کل مالیت سے علیحدہ ہوتا ہے (یعنی ڈیلیوری چارجز) ہم جو 1،2 روپے بڑھاتے ہیں، اس میں پیکنگ کا خرچہ اور اپنے آفس کورئیر پہنچانے کا خرچہ شامل کرلیتے ہیں۔ نیز کورئیر والوں نے ہم سے یہ بھی کہا ہے کہ اگر آپ ہماری طرف گاہک لاتے ہیں تو 2، 3 روپے آپ کے لئے کمیشن ہے۔
سوال یہ ہے کہ مندرجہ بالا دونوں صورتوں میں 10 روپے کے بجائے 11 یا 12 روپے خریدار سے وصول کرنا ہمارے لیے درست ہے یا نہیں؟

جواب: پوچھی گئی صورت میں اگر آپ گاہک کے ساتھ مجموعی طور پر (lump sum) ڈلیوری چارجز طے کرتے ہیں تو ایسی صورت میں آپ اپنے آفس سے کوریئر کمپنی کے آفس تک مال پہنچانے اور پیکنگ کا خرچہ شامل کرکے طے شدہ مجموعی اجرت/ چارجز لے سکتے ہیں، لیکن اگر گاہک کے ساتھ یہ بات طے ہو کہ کوریئر کمپنی کے چارجز لیے جائیں گے تو ایسی صورت میں صرف کوریئر کمپنی کی طرف سے لیے جانے والے حقیقی چارجز لیے جاسکتے ہیں، اس کے علاوہ اضافی چارجز لینا شرعاً درست نہیں ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

الفتاوی الھندیۃ ج:3، ص:27، ط:دارالفکر بیروت
"ولو اشترى حنطة مكايلة فالكيل على البائع وصبها في وعاء المشتري على البائع أيضا هو المختار كذا في الخلاصة وكذا لو اشترى ماء من سقاء في قربة كان صب الماء على السقاء والمعتبر في هذا العرف."

مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر (٢ / ٧٥، ط: دار إحياء التراث العربي)
" (ويجوز أن يضم إلى رأس المال أجرة القصارة والصبغ) سواء كان أسود أو غيره (والطراز) بكسر الطاء وبالراء المهملتين وآخره زاي: علم الثوب (والفتل) بفتح الفاء ما يصنع بأطراف الثياب بحرير أو كتان (والحمل) أي أجرة حمل المبيع من مكان إلى مكان برا أو بحرا (وسوق الغنم والسمسار) لأن العرف جار بإلحاق هذه الأشياء برأس المال في عادة التجار والأصل فيه أن كل ما يزيد في المبيع أو قيمته كالصبغ والحمل يلحق به وما لا فلا، وقيد بالأجرة لأنه لو فعل شيئا من ذلك بيده لا يضمه ."

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Employee & Employment