resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: اسرائیلی پلیٹ فارم پر آن لائن کام کرنا اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کا حکم

(39927-No)

سوال: میں اپنی آمدنی کے حوالے سے رہنمائی چاہتاہوں۔ میں کچھ عرصے سے آن لائن پلیٹ فارم Fiverr کے ذریعے کام کر رہا ہوں، جو ایک اسرائیلی کمپنی ہے۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے میں فری لانس سروسز فراہم کرتا ہوں اور گھر بیٹھے اپنی روزی کماتا ہوں۔
تاہم فلسطین کی موجودہ صورتحال اور اسرائیل کے اقدامات کی وجہ سے مجھے تشویش لاحق ہے۔ چونکہ Fiverr ایک اسرائیلی کمپنی ہے، یہ ہر آرڈر پر 20٪ کمیشن لیتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر میں 10,000 کماتاہوں تو وہ 2,000 اپنی فیس کے طور پر لے لیتی ہے۔
میری فکر یہ ہے کہ میری کمائی کا یہ حصہ ایسے کاموں میں استعمال ہو سکتا ہے جو ہمارے فلسطینی بھائیوں اور بہنوں کے لیے نقصان دہ ہوں۔ اس وجہ سے میں پریشان ہوں کہ آیا اس پلیٹ فارم سے حاصل ہونے والی میری آمدنی حلال ہے یا نہیں؟
یہ اس وقت میری آمدنی کا بنیادی ذریعہ ہے۔ میں یہ جاننا چاہتاہوں:
کیا اس صورتحال میں Fiverr کے ذریعے کمائی کرنا حلال ہے؟
کیا اس پلیٹ فارم پر کام جاری رکھنے سے میں گناہگار ہوں گا؟
کیا مجھے یہ کام چھوڑ کر کوئی متبادل ذریعۂ آمدن تلاش کرنا چاہیے؟
براہِ کرم اس معاملے میں میری رہنمائی فرمائیں تاکہ میں اسلامی تعلیمات کے مطابق عمل کر سکوں

جواب: اس سوال کا اصل تعلّق غیرتِ ایمانی سے ہے، یعنی جو ممالک مسلمانوں پر ظلم و زیادتی کرنے اور شعائرِ اسلام کی توہین کے مر تکب ہیں، ان کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے، شعائر اسلام کی توہین پر ان سے اظہارِ نفرت اور مسلمانوں پر ظلم و بربریت ڈھانے کے خلاف احتجاج کے طور پر ان ممالک کو کسی بھی قسم کا معاشی فائدہ پہنچانے سے اجتناب کرنا ایمانی غیرت و حمیّت کا عین تقاضا ہے، لیکن اگر آپ اپنی مجبوری کی وجہ سے ان کے بنائے ہوئے پلیٹ فارم (Fiverr) کے ذریعہ حلال اور جائز کام کرتے ہوں تو اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کو حرام نہیں کہا جائے گا، البتہ غیرتِ ایمانی اور اسلامی حمیّت کا تقاضا یہ ہے کہ آپ اپنے روزگار کے لئے متبادل کام کی تلاش جاری رکھیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

القرآن الکریم: (المائدة، الآية: 2):
وَ تَعَاوَنُوۡا عَلَی الۡبِرِّ وَ التَّقۡوٰی وَ لَا تَعَاوَنُوۡا عَلَی الۡاِثۡمِ وَ الۡعُدۡوَانِ ... الخ

التفسير المظهري: (123/5، ط: مكتبة الرشيدية):
ولا تركنوا إلى الذين ظلموا قال ابن عباس اى لا تميلوا والركون المحبة والميل بالقلب. وقال ابو العالية لا ترضوا بأعمالهم. وقال السدى لا تداهنوا الظلمة. وقال عكرمة لا تطيعوهم. وقيل لا تسكنوا الى الذين ظلموا قال البيضاوي لا تميلوا إليهم ادنى ميل فان الركون هو الميل اليسير كالتزين بزيهم وتعظيم ذكرهم فتمسكم النار بركونكم إليهم. قال البيضاوي وإذا كان الركون الى الظالمين كذلك فما ظنك بالميل كل الميل إليهم.

أحكام القرآن للتهانوي (2/11 – تحت قول الله تعالى: لا يتخذ المؤمنون الكافرين أولياء....إلى آخر الآية):
قلت ولعلك قد عرفت بذالك كله ان البيع والشراء من الكفار ولبس ما نسجوه من الثياب ليس من الموالاة المنهى عنها في شيء، الاما نص عليه الفقهاء من بيع السلاح والكراع لهم لما فيه من النصرة والمعونة على قتال المسلمين. ومن قاس شراء الثوب منهم على بيع السلاح لهم فقد اخطا القياس، نعم؛ لو راى امير المسلمين مصلحة في منعهم من شراء اموال اهل الحرب مطلقا ومن بيعهم لهم شيئا منها فله ذالك وعليهم اطاعته، واذا لم يكن لهم امير فلهم شراء كل شيء من اموالهم لاهل الحرب غير السلاح والكراع فافهم.

الدر المختار مع رد المحتار: (268/4، ط: دار الفكر):
(ويكره) تحريما (بيع السلاح من أهل الفتنة إن علم) لأنه إعانة على المعصية (وبيع ما يتخذ منه كالحديد) ونحوه يكره لأهل الحرب (لا) لأهل البغي لعدم تفرغهم لعمله سلاحا لقرب زوالهم، بخلاف أهل الحرب زيلعي.
قلت: وأفاد كلامهم أن ما قامت المعصية بعينه يكره بيعه تحريما وإلا فتنزيها نهر.

وکذا فی التبویب لجامعۃ دار العلوم کراتشی (2542/61)

واللہ تعالٰی أعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Employee & Employment