سوال:
میں نے یوٹیوب، فیس بک اور انسٹاگرام پر حلال اور جائز موضوعات پر مبنی اینیمیشن ویڈیوز بنا کر کمائی کی نیت سے اپ لوڈ کی ہیں۔ ان ویڈیوز میں میرا اپنا چہرہ یا تصویر شامل نہیں ہوتی، بلکہ سارا کام AI ٹولز کے ذریعے کیا جاتا ہے، البتہ ان پلیٹ فارمز پر اشتہارات (Ads) چلتے ہیں، اور بعض اوقات ان اشتہارات میں خواتین بھی دکھائی دیتی ہیں، حالانکہ یہ اشتہارات میری طرف سے تیار یا منتخب نہیں کیے جاتے۔ اس صورت میں معلوم کرنا یہ ہے کہ ان ویڈیوز سے حاصل ہونے والی آمدنی میرے لیے حلال ہے یا نہیں؟
جواب: پوچھی گئی صورت میں اگر آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کی مدد سے بنائی جانے والی ویڈیوز (3D Animation) جائز اور مباح مقاصد پر مشتمل ہوں، اور ان میں کوئی غیر شرعی مواد اور میوزک وغیرہ نہ ہو، نیز ان کے ذریعے کسی ناجائز یا غیر شرعی امر کی ترویج بھی نہ کی جائے تو ایسی ویڈیوز بنانے اور ان سے حاصل ہونے والی آمدن اصولی طور پر جائز اور حلال ہوگی۔
البتہ اگر ان ویڈیوز کے ساتھ یوٹیوب یا دیگر پلیٹ فارمز کی جانب سے بعض اوقات غیر شرعی یا نامناسب اشتہارات ظاہر ہو جاتے ہوں تو چینل کے مالک پر لازم ہے کہ اشتہارات کو فلٹر کرے اور ناجائز اشتہارات کو حتی المقدور روکنے کی کوشش کرے، اس کے باوجود اگر بعض ناجائز اشتہارات ظاہر ہو جائیں تو ایسے اشتہارات سے حاصل ہونے والی آمدن کو بغیر ثواب کی نیت کے صدقہ کرنا ضروری ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
المبسوط للسرخسي: (133/1، ط: دار المعرفة)
وَيَرْفَعُ صَوْتَهُ بِالْأَذَانِ وَالْمَرْأَةُ مَمْنُوعَةٌ مِنْ ذَلِكَ لِخَوْفِ الْفِتْنَةِ، فَإِنْ صَلَّيْنَ بِأَذَانٍ وَإِقَامَةٍ جَازَتْ صَلَاتُهُنَّ مَعَ الْإِسَاءَةِ لِمُخَالَفَةِ السُّنَّةِ وَالتَّعَرُّضِ لِلْفِتْنَةِ.
رد المحتار: (فصل في النظر و اللمس، 406/1، ط: دار الفکر)
نغمة المرأۃ عورۃ … ذکر الإمام أبو العباس القرطبي في کتابه في السماع: ولا یظن من لا فطنة عندہ أنا إذا قلنا صوت المرأۃ عورۃ، أنا نرید بذٰلك کلامها؛ لأن ذٰلك لیس بصحیح، فإنا نجیز الکلام مع النساء للأجانب ومحاورتهن عند الحاجة إلی ذٰلك، ولا نجیز لهن رفع أصواتهن ولا تمطیطها ولا تلیینها وتقطیعها، لما في ذٰلك من استمالة الرجال إلیهن وتحریك الشهوات منهم، ومن هذا لم یجز أن تؤذن المرأۃ، قلت: ویشیر إلی تعبیر النوازل بالنغمة۔
فقه البیوع: (325/1، ط: مکتبة معارف القرآن)
ولكن معظم استعمال التلفزيون في عصرنا في برامج لاتخلو من محظور شرعي، وعامة المشترين يشترونه لهذه الأغراض المحظورة من مشاهدة الأفلام والبرامج الممنوعة، إن كان هناك من لا يقصد به ذلك. فبما أن غالب استعماله في مباح ممكن فلا نحكم بالكراهة التحريمنية في بيعه مطلقا، إلا إذا تمحض لمحظور، ولكن نظرا إلى أن معظم استعماله لا يخلو من كراهة تنزيهية . وعلى هذا فينبغي أن يتحوط المسلم في اتخاذ تجارته مهنة له في الحالة الراهنة إلا إذا هيأ الله تعالی جوا يتمحض أو يكثر فيه استعماله المباح.
رد المحتار: (385/6)
وقال في النهاية: قال بعض مشايخنا: كسب المغنية كالمغصوب لم يحل أخذه، وعلى هذا قالوا لو مات الرجل وكسبه من بيع الباذق أو الظلم أو أخذ الرشوة يتورع الورثة، ولا يأخذون منه شيئا وهو أولى بهم ويردونها على أربابها إن عرفوهم، وإلا تصدقوا بها لأن سبيل الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد على صاحبه.
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی