resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: گندم پسوائی میں گندم بطورِ اجرت دینا

(34605-No)

سوال: مفتی صاحب! ہمارا آٹا گندم پسائی کا کام ہے، کبھی کوئی گاہک گندم لے کر پِسائی کے لیے آتا ہے تو اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اسی وقت ہمارے لیے چکی چلانا ممکن نہیں ہوتا یا تو نماز کا وقت ہونے والا ہوتا ہے یا شام ہو جاتی ہے یا بجلی بند ہوتی ہے۔ ایسی صورت میں کسٹمر کہتا ہے کہ مجھے ابھی آٹا چاہیے، ورنہ آپ اپنے پاس سے دو چار کلو آٹا دے دیں، پھر جب ہمارا آٹا پِسے گا تو اس میں سے کاٹ لینا، اس بارے میں رہنمائی فرما دیں کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ جزاکم اللہ خیراً

جواب: واضح رہے کہ آٹا، چینی اور اس طرح کی دیگر اشیاء جن کی لین دین ناپ کر یا تول کر ہوتی ہے، (جن کو "اشیاء ربویہ" بھی کہا جاتا ہے) ان کی باہمی خرید و فروخت میں شرعاً ضروری ہے کہ یہ سودا ہاتھ در ہاتھ ہو، ادھار نہ ہو، اور اگر دونوں طرف سے جنس ایک ہو تو دونوں چیزوں کا برابر ہونا بھی لازم ہے، لیکن اگر ان کا معاملہ خرید و فروخت کے طور پر نہ کیا جائے، بلکہ قرض کے طور پر کیا جائے تو اس میں ہاتھ در ہاتھ ہونا ضروری نہیں ہے، بلکہ اس میں ادھار جائز ہے۔
لہذا نماز کا وقت ہونے کی وجہ سے یا بجلی بند ہو نے کی وجہ سے کسٹمر کے گندم کی پسائی نہ ہونے پر دو چار کلو آٹا اس کو دے کر پسائی کے بعد اتنا ہی آٹا کاٹنا قرض کی بنیاد پر شرعاً جائز ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

صحیح مسلم: (99/1، ط: دار احیاء التراث العربی)
عن ابی ھریرة رضی الله عنه ان رسول الله صلی الله علیه وسلم مر علی صبرة طعام ۔۔۔ وفی آخره: من غش فلیس منی.

درر الحکام شرح مجلة الاحکام: (98/1، ط: دار الجیل)
(المادۃ: 97) لایجوز لاحد ان یاخذ مال احد بلا سبب شرعی
قیدت هذه المادة بقوله (بلا سبب شرعی) لانه بالاسباب الشرعیة کالبیع و الاجارة و الهبة و الکفالة و الحوالة یحق اخذ مال الغیر.

الدر المختار مع رد المحتار: (باب الاجارۃ الفاسدۃ، 58/6، ط: دار الفکر)
’’(ولو) (دفع غزلاً لآخر لينسجه له بنصفه) أي بنصف الغزل (أو استأجر بغلاً ليحمل طعامه ببعضه أو ثوراً ليطحن بره ببعض دقيقه) فسدت في الكل؛ لأنه استأجره بجزء من عمله، والأصل في ذلك نهيه صلى الله عليه وسلم عن قفيز الطحان وقدمناه في بيع الوفاء. والحيلة أن يفرز الأجر أولاً أو يسمي قفيزاً بلا تعيين ثم يعطيه قفزا منه فيجوز.
(قوله: والحيلة أن يفرز الأجر أولاً) أي ويسلمه إلى الأجير، فلو خلطه بعد وطحن الكل ثم أفرز الأجرة ورد الباقي جاز، ولا يكون في معنى قفيز الطحان إذ لم يستأجره أن يطحن بجزء منه أو بقفيز منه كما في المنح عن جواهر الفتاوى. قال الرملي: وبه علم بالأولى جواز ما يفعل في ديارنا من أخذ الأجرة من الحنطة والدراهم معاً، ولا شك في جوازه اه. (قوله: بلا تعيين) أي من غير أن يشترط أنه من المحمول أو من المطحون فيجب في ذمة المستأجر، زيلعي.‘‘

الفتاوی الھندیة: (الباب التاسع عشر فی القرض و الاستقراض، 201/3)
ویجوز القرض فیما ھو من ذوات الامثال کالمکیل والموزون۔

الدر المختار: (فصل فی القرض، 191/4)
ھو عقد مخصوص یرد علی دفع مال مثلی لآخر لیرد مثله وصح القرض فی مثلی.
وفي الدر مع الرد:

و فيه أيضا: (415/7، ط. رشيدية)
وفيها استقراض العجين وزنا يجوز
قوله: (استقراض العجين وزنا يجوز) هو المختار مختار الفتاوى واحترز بالوزن عن المجازفة فلا يجوز

واللہ تعالیٰ أعلم بالصواب
دار الافتاء الخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Business & Financial