resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: پروپرائٹری ٹریڈنگ ایویلیوایشن پروگرام (Proprietary Trading Evaluaatiom Program) اور ٹریڈنگ سافٹ ویئر (Trading softwares) کی خرید و فروخت کا حکم

(50282-No)

سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! شرعی رہنمائی کی درخواست ہے۔
موضوع: پروپرائٹری ٹریڈنگ ایویلیوایشن پروگرامز اور ٹریڈنگ اسٹریٹیجیز کی فروخت کے بارے میں شرعی حکم (امریکہ میں قائم کاروبار)
میں درج ذیل کاروباری سرگرمیوں کے بارے میں شرعی رہنمائی کی درخواست کرتا ہوں۔ میں نے جان بوجھ کر ان سرگرمیوں کی حقیقت اور عملی صورتِ حال کو غیر جانب دار اور حقائق پر مبنی انداز میں بیان کیا ہے، اور ان کی حقیقی ساخت اور طریقۂ کار کی بنیاد پر شرعی حکم معلوم کرنا چاہتا ہوں۔
مسئلہ نمبر 1: پروپرائٹری ٹریڈنگ ایویلیوایشن اور فنڈڈ اکاؤنٹ ٹریڈنگ
پس منظر: ایک پروپرائٹری ٹریڈنگ کمپنی ٹریڈرز کو ایویلیوایشن (جانچ) اکاؤنٹس فراہم کرتی ہے۔ ٹریڈر اس جانچ کے عمل میں شرکت کے لیے ایک فیس ادا کرتا ہے۔ یہ فیس ایویلیوایشن پروگرام، ٹریڈنگ پلیٹ فارم، مارکیٹ ڈیٹا، رسک مینجمنٹ ٹولز اور کارکردگی کے جائزے تک رسائی کے عوض ادا کی جاتی ہے۔ ٹریڈر خود ٹریڈنگ اکاؤنٹ میں کوئی سرمایہ جمع نہیں کراتا، بلکہ پروپرائٹری فرم خود ٹریڈنگ کے لیے سرمایہ فراہم کرتی ہے اور اس کے لیے مخصوص رسک حدود اور ضوابط مقرر کرتی ہے۔
ٹریڈنگ کا طریقۂ کار:
ٹریڈر مارکیٹ کا تجزیہ درج ذیل ذرائع سے کرتا ہے:
پرائس ایکشن (Price Action)، ٹیکنیکل اینالیسس (Technical Analysis)، والیوم اینالیسس (Volume Analysis)، آرڈر فلو اینالیسس (Order Flow Analysis)، مارکیٹ اسٹرکچر (Market Structure)، پروپرائٹری ٹریڈنگ اسٹریٹیجیز (Proprietary Trading Strategies)
ٹریڈر کو بروکریج اور ایکسچینج فیڈز کے ذریعے حقیقی وقت (Real-Time) کا مارکیٹ ڈیٹا فراہم کیا جاتا ہے۔
بنیادی طور پر جس مالیاتی آلے (Instrument) میں ٹریڈنگ کی جاتی ہے وہ ایک انڈیکس کنٹریکٹ (Index Contract) ہے۔ ٹریڈر کسی کنٹریکٹ کو خرید کر یا فروخت کر کے پوزیشن لیتا ہے اور بعد میں اسی کنٹریکٹ کو فروخت کر کے یا دوبارہ خرید کر پوزیشن بند کر دیتا ہے۔نفع یا نقصان کنٹریکٹ کی خرید و فروخت (یا فروخت و خرید) کے وقت کی قیمتوں کے فرق کی بنیاد پر حاصل ہوتا ہے۔ مثالیں:
ایک کنٹریکٹ ایک قیمت پر خریدا گیا اور بعد میں زیادہ قیمت پر فروخت کیا گیا، جس سے نفع حاصل ہوا۔
ایک کنٹریکٹ ایک قیمت پر خریدا گیا اور بعد میں کم قیمت پر فروخت کیا گیا، جس سے نقصان ہوا۔
ایک کنٹریکٹ فروخت کیا گیا اور بعد میں مختلف قیمت پر دوبارہ خریدا گیا، جس سے قیمت کی تبدیلی کے مطابق نفع یا نقصان حاصل ہوا۔
پروپرائٹری فرم روزانہ زیادہ سے زیادہ نقصان (Maximum Daily Loss)، زیادہ سے زیادہ ڈرا ڈاؤن (Maximum Drawdown)، پوزیشن سائزنگ کی حدود (Position Sizing Restrictions) اور دیگر رسک کنٹرولز نافذ کرتی ہے۔
معاوضے کا طریقۂ کار
اگر ٹریڈر کمپنی کی مقررہ شرائط پوری کر لے اور فنڈڈ (Funded) ٹریڈر بن جائے تو اسے پہلے سے طے شدہ منافع کی تقسیم (Profit Sharing) کے مطابق حاصل شدہ منافع کا ایک مخصوص حصہ دیا جاتا ہے، باقی منافع پروپرائٹری فرم کو ملتا ہے، ٹریڈر سے نہ کوئی سود وصول کیا جاتا ہے اور نہ ہی اسے کوئی سود ادا کیا جاتا ہے۔
مسئلہ نمبر 2: ٹریڈنگ اسٹریٹیجیز، انڈیکیٹرز اور خودکار نظاموں کی فروخت اور لائسنسنگ
پس منظر: ایک علیحدہ کاروباری سرگرمی میں ٹریڈنگ سے متعلق سافٹ ویئر ٹولز تیار کیے جاتے ہیں اور صارفین کو فروخت یا لائسنس پر فراہم کیے جاتے ہیں، ان میں درج ذیل چیزیں شامل ہو سکتی ہیں:
مارکیٹ تجزیہ کے انڈیکیٹرز (Market Analysis Indicators)، ٹریڈنگ ڈیش بورڈز (Trading Dashboards)، ٹریڈ مینجمنٹ ٹولز (Trade Management Tools)، رسک مینجمنٹ ٹولز (Risk Management Tools)، خودکار حکمتِ عملی پر مبنی سافٹ ویئر (Automated Strategy Software)، تعلیمی نوعیت کے ٹریڈنگ سسٹمز (Educational Trading Systems)
سافٹ ویئر تیار کرنے والا شخص اس سافٹ ویئر کو صارفین کے استعمال کے لیے لائسنس دیتا ہے۔
کاروباری ماڈل:
صارفین درج ذیل امور کے عوض ادائیگی کرتے ہیں:
سافٹ ویئر تک رسائی، سافٹ ویئر لائسنس، اپ ڈیٹس، تکنیکی معاونت (Technical Support)، تربیتی اور تعلیمی مواد۔ یہ سافٹ ویئر خود صارفین کے مالی وسائل یا رقوم اپنے پاس نہیں رکھتا، سافٹ ویئر مارکیٹ ڈیٹا کا تجزیہ کرتا ہے اور پہلے سے متعین اصولوں کے مطابق ٹریڈنگ سگنلز فراہم کر سکتا ہے یا ٹریڈنگ فیصلوں کو خودکار بنا سکتا ہے۔
آمدنی کے ذرائع:
آمدنی درج ذیل طریقوں سے حاصل ہوتی ہے:
سافٹ ویئر کی ایک مرتبہ فروخت (One-Time Software Sales)، ماہانہ سبسکرپشنز (Monthly Subscriptions)، لائسنسنگ معاہدے (Licensing Agreements)، تکنیکی معاونت کی خدمات (Technical Support Services)
میں اسلامی تجارتی قانون (فقہ المعاملات) اور عصر حاضر کے مالیاتی معاملات کے اصولوں کی روشنی میں مذکورہ دونوں مسائل کا تفصیلی شرعی تجزیہ اور حکم معلوم کرنا چاہتا ہوں۔ جزاکم اللہ خیراً

جواب: 1) پوچھی گئی صورت میں پروپرائٹری ٹریڈنگ ایویلیوایشن پروگرام (Proprietary Trading Evaluaatiom Program) کے تحت بظاہر حقیقی اثاثہ جات (Assets) کی خرید و فروخت نہیں ہو رہی ہو، نہ ہی وہ مقصود ہے، بلکہ محض فیوچرز (Futures)، انڈیکس کنٹریکٹس یا ایسے فرضی معاہدات/ معاملات کے ذریعے قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے فرق سے نفع و نقصان حاصل کیا جاتا ہے، (جیسا کہ سوال سے معلوم ہوتا ہے) اس طرح کا معاملہ کرنا متعدد شرعی مفاسد، مثلاً: غرر (Uncertianity)، قمار (Gambling)، ملکیت (Ownership) اور قبضہ (Possession) کے بغیر فرضی اشیاء کی خرید و فروخت پر مشتمل ہونے کی وجہ سے شرعاً جائز نہیں ہے، لہٰذا ایسی ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی جائز نہیں ہوگی۔
تاہم اگر اس نظام کے تحت حقیقی اثاثہ جات (Assets) کی واقعی خرید و فروخت ہو رہی ہو اور اس میں حلال اشیاء کی ملکیت کی منتقلی اور قبضہ (possession) کی شرائط پوری ہوں تو اس کاروبار کی نوعیت، شرائط و ضوابط، اثاثہ جات کی تفصیل اور عملی طریقہ کی مکمل تفصیلات لکھ کر دوبارہ شرعی حکم معلوم کرسکتے ہیں۔
2) ٹریڈنگ سافٹ ویئر، انڈیکیٹرز، ٹولز اور تعلیمی مواد کی تیاری اور خرید و فروخت درج ذیل شرائط کے ساتھ جائز ہے:
الف) وہ سافٹ ویئرز کسی خلاف شرع معاملہ، مثلاً: موسیقی، خواتین کی تصاویر/ویڈیوز وغیرہ) پر مشتمل نہ ہو۔
ب) ان کا جائز استعمال موجود ہو۔
ج) ان سافٹ ویئیرز کے ذریعے کسی ناجائز کاروباری معاملات (مثلاً: فرضی کاروباری سرگرمی) میں معاونت مقصود نہ ہو۔
د) معاہدہ کی شرائط و ضوابط میں کوئی خلاف شرع معاملہ نہ ہو۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*دلائل:*

*القران الکریم: (المائدۃ، الایة: 90)*
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنَّمَا الۡخَمۡرُ وَ الۡمَیۡسِرُ وَ الۡاَنۡصَابُ وَ الۡاَزۡلَامُ رِجۡسٌ مِّنۡ عَمَلِ الشَّیۡطٰنِ فَاجۡتَنِبُوۡہُ لَعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَo

*سنن الترمذی: (کراہیۃ بیع ما لیس عندك، رقم الحدیث: 1232)*
عن حکیم بن حزام قال : أتیت رسول الله صلی الله علیه وسلم فقلت : یأتیني الرجل یسألني من البیع ما لیس عندي أبتاع له من السوق ثم أبیعه ؟ قال: ’’لا تبع ما لیس عندك ."

*عمدۃ القاری: (435/8)*
الغرر هو فی الاصل الخطر، و الخطر ھو الذی لا یدری أ یکون ام لا، و قال ان عرفة: الغرر ھو ما کان ظاھرہ یغر و باطنه مجهول، قال و الغرور ما راأیت لہ ظاہرا تحبہ و باطنہ مکروہ أو مجہول، و قال الأزہری: البیع الغرر ما یکون علی غیر عهدۃ و لا ثقة، و قال صاحب المشارق: بیع الغرر بیع المخاطرۃ، و ھو الجهل بالثمن أو المثمن أو سلامته أو أجله۔

*مصنف ابن ابی شیبة: (کتاب البیوع و الاقضیة، 483/4، ط: مکتبة الرشد)*
عن ابن سیرین قال: کل شيءٍ فیه قمار فهو من المیسر

*الھندیة: (الفصل الثالث فی معرفة المبیع والثمن والتصرف، 13/3، ط: دار الفکر)*
فنقول من حکم المبیع اذا کان منقولا ان لایجوز بیعه قبل القبض....واما اذا تصرف فیه مع بائعه فان باعه منه لم یجز بیعه اصلا قبل القبض۔

*رد المحتار: (کتاب الحظر و الاباحۃ، 403/6، ط: سعید)*
(قوله: لأنه يصير قماراً)؛ لأن القمار من القمر الذي يزداد تارةً وينقص أخرى، وسمي القمار قماراً؛ لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص

واللہ تعالٰی أعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Business & Financial