سوال:
مفتی صاحب! ایک مسئلے کے بارے میں شرعی رہنمائی چاہیے۔
ایک دوست کا خالی پلاٹ ہے، دوسرا دوست اسے کہہ رہا ہے کہ اس پلاٹ پر میں دکانیں تعمیر کرکے دوں گا اور کاروبار کرنے کیلیے سارا سامان بھی میں لے کر دوں گا، آپ کام کرو کاروبار کو سنبھالو، سامان وغیرہ اور دکانیں بنانے کا سارا خرچہ میرا ہوگا۔
آپ مجھے ماہانہ بنیادوں پر فکس نفع دیں گے، چاہے کاروبار میں نفع ہو یا نقصان وہ آپ کا ہے، مجھے اپنا ماہانہ فکس نفع دینا ہے، البتہ اگر زلزلہ وغیرہ کی وجہ سے دکانوں کی تعمیر کو کوئی بھی نقصان پہنچے تو وہ میرا ہوگا۔ یعنی کاروبار کا نقصان کام کرنے والے (پلاٹ کے مالک) کا ہوگا اور بلڈنگ کا نقصان پیسہ لگانے والے کا ہوگا۔ کیا اس طرح معاملہ جائز ہے اگر جائز نہیں تو اس کا جائز طریقہ کیا ہوگا؟
جواب: پوچھی گئی صورت میں مذکورہ طریقے کے مطابق یہ معاملہ شرعاً درست نہیں ہے، کیونکہ اس میں دوسرے فریق (پلاٹ کے مالک) کو ماہانہ کی بنیاد پر ہر حال میں متعین (فکس) نفع دینے کا پابند کیا جارہا ہے، اور نقصان برداشت کرنے کی شرط بھی اس پر عائد کی جارہی ہے، حالانکہ اس طرح کے معاملات میں دوسرے فریق کو متعین نفع دینے کی پابند بنانا اور نقصان برداشت کرنے کی ذمّہ داری اس پر عائد کرنا شرعاً درست نہیں ہوتا۔
البتہ اس کی جائز متبادل صورت یہ ہوسکتی ہے کہ یہ معاملہ مُضاربت کی بنیاد پر کیا جائے، جس کے تحت سرمایہ لگانے والے کی طرف سے سامان مُہیّا کیا جائے گا، اور تجارت سنبھالنے کی ذمّہ داری پلاٹ کے مالک کی ہوگی، جبکہ نفع اور نقصان کے متعلق یہ حکم ہوگا کہ کسی ایک فریق کے لیے نفع کو ماہانہ کی بنیاد پر متعین (فکس) نہیں کیا جائے گا، بلکہ جو بھی نفع ہوگا، وہ دونوں کے درمیان مشترک رہے گا، تاہم نفع کے سلسلے میں شرعاً کوئی خاص تناسب لازم نہیں ہے، لہٰذا فریقین باہمی رضامندی سے کوئی بھی فیصدی تناسب طے کرسکتے ہیں، اور نقصان کے متعلق یہ تفصیل ہوگی کہ نقصان ہونے کی صورت میں (اگر کاروبار میں پہلے نفع ہوا ہو تو) حاصل شدّہ نفع سے نقصان کی تلافی کی جائے گی، اور اگر نقصان نفع سے تجاوز کرجائے اور اصل سرمایہ کم ہونا شروع ہوجائے تو یہ سرمایہ کا نقصان رب المال (سرمایہ لگانے والے) کا شمار ہوگا، دوسرے فریق (مضارب) کو اس میں شریک نہیں ٹھہرایا جائے گا،اس کی محنت ضائع ہوجائے گی، تاہم اگر نقصان دوسرے فریق(مضارب) کی غفلت اور لاپرواہی کی وجہ سے ہو جائے تو ایسی صورت میں سارے نقصان کا ذمّہ دار وہی مضارب ہوگا۔
جہاں تک پلاٹ اور اس پر دکانوں کی تعمیر کا تعلق ہے تو اس کے متعلق فریقین کے درمیان جو کچھ طے ہوا ہے، اس کی مکمل تفصیل لکھ کر اس کا حکم دوبارہ معلوم کرسکتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*الدلائل:*
*الھدایة: (200/3، ط: دار احیاء التراث العربی)*
قال: "المضاربة عقد على الشركة بمال من أحد الجانبين" ومراده الشركة في الربح وهو يستحق بالمال من أحد الجانبين "والعمل من الجانب الآخر" ولا مضاربة بدونها؛ ألا ترى أن الربح لو شرط كله لرب المال كان بضاعة، ولو شرط جميعه للمضارب كان قرضا۔۔۔۔ قال: "ومن شرطها أن يكون الربح بينهما مشاعا لا يستحق أحدهما دراهم مسماة" من الربح لأن شرط ذلك يقطع الشركة بينهما ولا بد منها كما في عقد الشركة۔۔۔الخ
*الدر المختار مع رد المحتار: (656/5، ط: سعید)*
"(وما هلك من مال المضاربة يصرف إلى الربح) ؛ لأنه تبع (فإن زاد الهالك على الربح لم يضمن) ولو فاسدة من عمله؛ لأنه أمين (وإن قسم الربح وبقيت المضاربة ثم هلك المال أو بعضه ترادا الربح ليأخذ المالك رأس المال وما فضل بينهما، وإن نقص لم يضمن)
*بدائع الصنائع: (82/6)*
أن يكون رأس المال من الدراهم أو الدنانير عند عامة العلماء فلا تجوز المضاربة بالعروض، وعند مالك رحمه اللہ : هذا ليس بشرط وتجوز المضاربة بالعروض.
*فتاوی عثمانی: (38/3، ط. مکتبة دارالعلوم کراتشی)*
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی