resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: سکوّں اور کرنسی کی خرید وفروخت کا حکم

(50281-No)

سوال: کیا سکّوں یا کسی بھی قسم کی کرنسی (Money) کی خرید و فروخت جائز ہے؟

جواب: واضح رہے کہ جن قدیم سکّوں یا کرنسی کا رواج بالکل ختم ہوگیا ہو، اور وہ سونے یا چاندی کے نہ ہوں، یا ان میں سونا اور چاندی اگرچہ ہو، لیکن سونا یا چاندی کے مقابلے میں ان میں کھوٹ غالب ہو تو ایسے قدیم سکّے سامان اور عام مال کے حکم میں شمار ہوتے ہیں، لہٰذا اگر قانونی اعتبار سے ان کی خرید وفروخت پر پابندی نہ ہو تو ان کی خرید وفروخت کا معاملہ جائز ہوگا۔
البتہ آج کل کے رائج عام سکّوں اور کرنسی کی خرید وفروخت کا حکم یہ ہے کہ اگر ایک ہی ملک کے سکّوں یا کرنسی کا آپس میں تبادلہ کیا جا رہا ہو تو خرید وفروخت کے درست ہونے کے لیے جانبین سے برابری اور ایک ہی مجلس میں قبضے کا پایا جانا ضروری ہوگا، لیکن اگر دو مختلف ملکوں کے سکّوں یا کرنسی کا تبادلہ ہو رہا ہو تو اس میں اگرچہ جانبین سے برابری کی رعایت ضروری نہیں ہوگی، لیکن معاملے کی مجلس میں کسی ایک جانب سے قبضے کا پایا جانا ضروری ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*الدلائل:*

*البحر الرائق: (218/6، ط: دار الكتاب الإسلامي)*
(قوله: والتبايع والاستقراض بما يروج عددا أو وزنا أو بهما) ؛ لأن المعتبر فيما لا نص فيه العادة؛ لأنها صارت بغلبة الغش كالفلوس فيعتبر فيها العادة كالفلوس فإن كانت تروج بالوزن فبه وبالعد فبه وبهما فبكل منهما. قوله (ولا يتعين بالتعيين لكونها أثمانا) يعني ما دامت تروج؛ لأنها بالاصطلاح صارت أثمانا فما دام ذلك الاصطلاح موجودا لا تبطل الثمنية لقيام المقتضى. قوله (وتتعين بالتعين إن كانت لا تروج ) لزوال المقتضى للثمنية وهو الاصطلاح وهذا لأنها في الأصل سلعة وإنما صارت أثمانا بالاصطلاح فإذا تركوا المعاملة بها رجعت إلى أصلها.

*الفتاویٰ التاتارخانیۃ: (348/8، ط: زکریا)*
إن الأوراق النقدیۃ ثمن عرفي لیست ثمنًا حقیقیًا والربا یجري في الثمن الخلقي الذاتي إذا في الأوراق النقدیۃ في مختلف الدولۃ ینفی القدر والجنس، أما الجنس فظاہر الاختلاف الدولۃ، وأما القدر؛ لأنہا لیست من جنس الآثمان الخلقیۃ؛ بل عرفیۃ، فیجوز التفاضل والنسیۃ إلا أن القبض علی أحد البدلین ضروري؛ لئلا یقع في بیع الکالي بالکالي۔

*الدر المختار مع رد المحتار: (باب الربا، 403/7، ط: زکریا)*
وعلتہ: أي علۃ التحریم الزیادۃ القدر المعہود بکیل أو وزن مع الجنس، فإن وجدا حرم الفضل والنساء، وإن عد ما حلا، وإن وجد أحدہما حل الفضل وحرم النساء۔

*مختصر القدوري: (ص: 91، ط: دار الفكر)*
وإذا كان الغالب على الدراهم الفضة فهي فضة وإن كان الغالب على الدنانير الذهب فهي ذهب ويعتبر فيهما من تحريم التفاضل ما يعتبر في الجياد وإن كان الغالب عليهما الغش فليسا في حكم الدراهم والدنانير
فإذا بيعت بجنسها متفاضلا جاز.

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Business & Financial