سوال:
حنفی مذہب پر چلنے والے لوگوں کے لیے اپنے آپ کو سلفی اقرار کرنے والوں کے ساتھ دینی امور اور شریعت کے متعلق چیزوں کے علاوہ معاملات و خرید و فروخت اور سماجی یا معاشرتی طور پر تعلق رکھنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب: واضح رہے کہ سلفی یعنی غیر مُقلّد حضرات اگرچہ بعض شرعی مسائل میں جمہورِ امّت سے الگ مؤقّف رکھتے ہیں، مگر ان کے ساتھ معاملات اور معاشرتی تعلقات قائم رکھنا جائز ہے، بلکہ موجودہ دور میں امّت کو جس شدّت کے ساتھ باہمی اتّحاد و اتّفاق کی ضرورت ہے، اس کا تقاضہ یہ ہے کہ ایک دوسرے کے بارے میں معمولی معمولی باتوں میں نکتہ چینی کے بجائے جس قدر اتّفاقی صورتیں ہوسکتی ہیں، ان کی طرف زیادہ توجہ دینی چاہیے، تاکہ امّت میں اتّحاد کی بہترین فضا قائم ہوسکے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*الدلائل:*
*القرآن الكريم: (آل عمران، الآية: 103)*
وَٱعۡتَصِمُوا۟ بِحَبۡلِ ٱللَّهِ جَمِیعࣰا وَلَا تَفَرَّقُوا۟ۚ وَٱذۡكُرُوا۟ نِعۡمَتَ ٱللَّهِ عَلَیۡكُمۡ إِذۡ كُنتُمۡ أَعۡدَاۤءࣰ فَأَلَّفَ بَیۡنَ قُلُوبِكُمۡ فَأَصۡبَحۡتُم بِنِعۡمَتِهِۦۤ إِخۡوَ ٰنࣰا وَكُنتُمۡ عَلَىٰ شَفَا حُفۡرَةࣲ مِّنَ ٱلنَّارِ فَأَنقَذَكُم مِّنۡهَاۗ كَذَ ٰلِكَ یُبَیِّنُ ٱللَّهُ لَكُمۡ ءَایَٰتِهِۦ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُونَ.
*کفایت المفتی: (335/1، ط: دار الإشاعت)*
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی