سوال:
میں ایک ڈیجیٹل کمائی کے معاملے میں آپ کی رہنمائی چاہتا ہوں، میں نے کچھ وقت پہلے ٹیلی گرام پر کرپٹو گیمز کھیلی، جن میں سے کچھ گیمز ایئر ڈراپس (فری کرپٹو ٹوکن) دیتی تھی، میں ان ایئر ڈراپس کو بعد میں کرپٹو ایکسچینج پر سیل کرتا رہا ہوں اور اس سے مجھے یو ایس ڈالر ملے، جو میں نے پاکستانی پیسوں میں کنورٹ کر لئیے۔
تفصیلات : پہلی گیم : کوئی انویسٹمنٹ نہیں کی، صرف گیم کھیل کر چھ ڈالر ملے، محنت پر مبنی کمائی تھی۔
دوسری گیم: گیم کو پروموٹ کرنے کے لئے پہلے ملے ہوئے چھ ڈالر میں سے 1.2 ڈالر انویسٹ کیے، (آپشنل پروموشن) واپس کچھ خاص نہیں ملا، انویسٹمنٹ آپشنل تھی، کوئی جوا یا یقینی واپسی کا وعدہ نہیں تھا۔
تیسری گیم : پروموشن کے لئے 0.10 ڈالر انویسٹ کیا، واپسی میں 2.6 ڈالر ملا، اس میں بھی انویسٹمنٹ آپشنل تھی۔
باقی گیمز : کسی میں کوئی پیسہ نہیں لگایا، صرف ٹاسک مکمل کیے، جیسے ریفر کرنا یا ڈیلی چیک ان وغیرہ پوری محنت اور وقت سے کمائی کی تھی۔
ٹوٹل پیسہ : مجھے اس پروسیس سے لگ بھگ 6399 روپے ملے ہیں۔ سوال : کیا یہ پیسہ حلال ہے؟ کیا اس میں سے کوئی حصہ شبہ یا حرام میں آتا ہے؟ اگر شبہ ہے تو اس سے نکالنے کا بہترین طریقہ کیا ہوگا؟
جواب: پوچھی گئی صورت میں کرپٹو گیمز (crypto games) کے ذریعے جو انعام ملتا ہے، وہ کرپٹو ٹوکنز کی صورت میں ہوتا ہے، جنہیں بعد میں اصل کرنسی میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ کرپٹو کرنسی چونکہ کرنسی کی ایک جدید ڈیجیٹل شکل ہے، جس کی حقیقت اور شرعی حیثیت ابھی مکمل طور پر واضح نہیں، اس لیے فی الحال اس کے ذریعے لین دین اور نفع حاصل کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔
اس کے علاوہ ان میں سے ہر قسم کے گیم میں درج ذیل شرعی خرابیاں بھی پائی جاتی ہیں:
پہلی گیم: صرف گیم کھیل کر اجرت لینا شرعاً درست نہیں، کیونکہ گیم کھیلنا کوئی ایسا کام ( منفعتِ مقصودہ) نہیں ہے جس کے بدلے شرعاً اجرت لی جا سکے۔
دوسری اور تیسری گیم: ان میں پروموشن کے لیے ڈالر لگا کر مزید ڈالر حاصل کیے گئے۔ اس صورت میں یہ دیکھنا ضروری ہے کہ رقم کہاں لگائی جا رہی ہے۔ اگر صرف رقم لگا کر اس سے زائد رقم ملتی ہے، یا رقم ضائع ہو جاتی ہے، اور کوئی حقیقی جائز سرمایہ کاری نہیں ہو رہی تو یہ جوئے کے حکم میں داخل ہوگا، جو ناجائز ہے۔
چوتھی قسم کی گیمز: جن گیمز میں ٹاسک مکمل کیے گئے، جیسے ریفر کرنا یا ڈیلی چیک اِن وغیرہ، ان ٹاسکس کا شرعاً جائز ہونا ضروری ہے۔ چونکہ یہ گیمز اور ان سے حاصل ہونے والی آمدنی شرعاً جائز نہیں، اس لیے ان کی طرف ریفر کرنا بھی درست نہیں۔ اسی طرح محض ڈیلی چیک اِن کرنا بھی کوئی ایسا کام نہیں ہے جس کے بدلے شرعاً اجرت لی جا سکے۔
خلاصہ یہ ہے کہ سوال میں ذکر کیے گئے گیمز کے ذریعے کمائی کرنا جائز نہیں،۔لہٰذا حاصل شدہ رقم بلا نیتِ ثواب صدقہ کر دی جائے، اور آئندہ اس طرح کے کاموں سے مکمل اجتناب کیا جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
بدائع الصنائع: (194/4، ط: دار الکتب العلمیة)
ومنها أن تكون المنفعة مقصودة يعتاد استيفاؤها بعقد الإجارة ويجري بها التعامل بين الناس؛ لأنه عقد شرع بخلاف القياس لحاجة الناس، ولا حاجة فيما لا تعامل فيه للناس.
الهداية: (380/4، ط: دار احياء التراث العربي، بيروت)
قال: "ويكره اللعب بالشطرنج والنرد والأربعة عشر وكل لهو"؛ لأنه إن قامر بها فالميسر حرام بالنص وهو اسم لكل قمار، وإن لم يقامر فهو عبث ولهو.
بدائع الصنائع: (206/6، ط: دار الکتب العلمیة)
(ومنها) أن يكون الخطر فيه من أحد الجانبين إلا إذا وجد فيه محللا حتى لو كان الخطر من الجانبين جميعا ولم يدخلا فيه محللا لا يجوز لأنه في معنى القمار
الفتاوى الهندية: (349/5، ط: دار الفكر بيروت)
والسبيل في المعاصي ردها وذلك هاهنا برد المأخوذ إن تمكن من رده بأن عرف صاحبه وبالتصدق به إن لم يعرفه
واللہ تعالٰی أعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی