سوال:
السلام علیکم، حضرت مفتی صاحب! عرض سوال یہ ہے کہ ایک بندہ نے بیس سال پہلے کچھ زمین خریدی، اس وقت ایک مرلہ کی قیمت بالفرض پچاس ہزار تھی، آج کل کے لحاظ سے اس ایک مرلہ کی قیمت لاکھوں میں ہے، خریدنے والے نے اس وقت قیمت ادا نہیں کی تھی اب بیچنے والا مطالبہ کر رہا ہے کہ مجھے اس زمین کی موجودہ مارکیٹ ویلیو چاہیے اور خریدنے والا کہہ رہا ہے کہ اس وقت یعنی بیس سال پہلے جو قیمت بنتی ہے وہ دوںگا، اب اس کا شرعی حل کیا ہے؟ جزاکم اللہ خیرا
جواب: پوچھی گئی صورت میں اگر بیس سال پہلے باقاعدہ خرید وفروخت کا معاملہ ہو گیا تھا تو خریدار کے ذمہ شرعاً وہی قیمت لازم ہوگی، جو اس وقت خریداری کا معاملہ کرتے وقت طے کی گئی تھی، بیچنے والے کا موجودہ مارکیٹ ویلیو کے حساب سے قیمت کا مطالبہ کرنا درست نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية (1/ 255)*
(سئل) فيما إذا اشترى زيد من عمرو بضائع معلومة بثمن معلوم من الدراهم معاملة البلدة التي وقع فيها عقد البيع وتسلم زيد المبيع ولم ينقد الدراهم حتى تغيرت ونقصت قيمتها إلا أنها رائجة في التجارات فهل على المشتري رد مثلها للبائع؟
(الجواب) : حيث نقصت قيمتها قبل نقد الثمن وهي رائجة في التجارات فعلى زيد المشتري رد مثلها لعمرو البائع قال في الجوهرة قيد بالكساد؛ لأنها إذا غلت أو رخصت كان عليه رد مثلها بالاتفاق كذا في النهاية ونقل العلامة قاضي خان في فصل قبض الثمن ولو اشترى شيئا بدراهم بنقد البلد ولم يقبض حتى تغيرت فإن كانت لا تروج في التجارات فسد البيع وهو بمنزلة ما لو اشترى شيئا بالفلوس الرائجة فكسدت قبل القبض وقد مر وإن كانت الدراهم بعد التغير تروج في التجارات إلا أنه انتقصت قيمتها لا يفسد البيع ولم يكن له إلا ذلك
واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی