resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: ای بے (eBay)، ایٹسی ( Etsy)، والمارٹ ( Walmart)، ایمازون (Amazon) ودیگر ویب سائٹس کے ذریعہ ڈراپ شپنگ (drop shipping) کرنے کا حکم

(35642-No)

سوال: مفتی صاحب! کیا ای بے (eBay)، ایٹسی ( Etsy)، والمارٹ ( Walmart) اور ایمازون (Amazon)پر ڈراپ شپنگ کرنا شرعاً جائز ہے؟
میں نے مرکز (Markaz) جو کہ ایک پاکستانی ایپ ہے، وہاں کام شروع کیا تھا، یہ سیلنگ کا کام تھا، مجھے کسی نے بتایا کہ اس کام میں ہمیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ ہم اصل میں کون سی چیز دکھا رہے ہیں اور کون سی چیز ڈیلیور کی جا رہی ہے، اس لیے یہ کام جائز نہیں ہوگا، اسی وجہ سے میں نے وہ کام چھوڑ دیا۔ براہِ کرم یہ بتائیں کہ کیا اس طرح کا کام کرنا واقعی درست نہیں ہے یا اس کی کوئی جائز صورت بھی ہو سکتی ہے؟
اسی طرح امریکہ میں Amazon، Etsy، eBay اور Walmart جیسے بڑے پلیٹ فارمز پر ڈراپ شپنگ کرنا (یہ بہت بڑے اور معروف پلیٹ فارمز ہیں، ان میں دھوکے کے امکانات بہت کم ہوتے ہیں) شرعاً کیسا ہے؟

جواب: ہماری معلومات کے مطابق ڈراپ شپنگ کے کاروبار کا عام طور پر طریقہ یہ ہوتا ہے کہ فروخت کرنے والا (seller) مختلف چیزوں (products) کی تصاویر اور تفصیلات اپنی ویب سائٹ پر یا اپنے پیج پر لگاتا ہے، ویب سائٹ یا پیج دیکھنے والا شخص ان میں سے کسی چیز کو پسند کرنے کے بعد خریداری کا آرڈر دیتا ہے، پھر فروخت کرنے والا شخص گاہک کے فراہم کردہ ایڈریس پر وہ چیز ڈلیور (deliver) کروا دیتا ہے۔
اس طریقہ کار میں عموماً فروخت کی جانے والی چیز (product) فروخت کرنے والے کے قبضہ اور بسا اوقات ملکیت میں بھی نہیں آتی، بلکہ فروخت کنندہ آرڈر وصول ہونے کے بعد کسی کمپنی یا ہول سیلر سے براہ راست اپنے گاہک کو بھیج (deliver) دیتا ہے‍۔
جبکہ شریعت کی رو سے کسی ایسی چیز کو فروخت کرنا جائز نہیں، جو فروخت کرنے والے شخص کی ملکیت (ownership) یا قبضہ (possession) میں نہ ہو، لہٰذا مذکورہ طریقہ کے مطابق ڈراپ شپنگ کا کاروبار شرعاً جائز نہیں ہے۔
چنانچہ پوچھی گئی صورت میں مرکز (Markaz) نامی ایپ یا ایمازون وغیرہ کے ذریعہ ڈراپ شپنگ کا کاروبار کرنے میں اگر یہی صورت اختیار کی جاتی ہو تو ان کے ذریعہ ڈراپ شپنگ کا کام کرنا جائز نہیں ہوگا، البتہ درج ذیل صورتوں میں سے کوئی صورت اختیار کرلی جائے تو یہ کاروبار جائز ہوسکتا ہے:
(1)گاہک کو مطلوبہ چیز (Product) فروخت کرنے سے پہلے وہ چیز خرید لی جائے، خریدنے کے بعد اگر خود یا اپنے کسی وکیل (agent) کے ذریعے اس چیز پر قبضہ کرلے (قبضہ چاہے حسّی ہو یا معنوی) اس کے بعد وہ اپنے کسٹمر کو وہ چیز فروخت کردے تو اس طریقہ سے خرید و فروخت کا معاملہ درست ہوجائے گا۔
(2)متعلّقہ ہول سیلر یا کمپنی کا بروکر یا ایجنٹ بن کر اس کی چیز فروخت کردے، اور اس کام کے عوض طے شدہ رقم یا فیصد کے اعتبار سے کمیشن طے کرلیا جائے کہ فی آئٹم فروخت کرنے پر میرا اتنا کمیشن ہوگا تو اس طریقہ سے بھی خرید و فروخت کا یہ معاملہ شرعاً درست ہوجائے گا۔

۔۔۔۔۔.........
دلائل:

السنن الكبري للبيهقي: (95/8، ط: دار الفكر)
عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ قَالَ قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ الرَّجُلُ يَطْلُبُ مِنِّى الْبَيْعَ وَلَيْسَ عِنْدِى أَفَأَبِيعُهُ لَهُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- :« لاَ تَبِعْ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ.

بدائع الصنائع: (35/7، کتاب البیوع، فصل وأما الذی یرجع الی المعقود علیه)
وَمِنْهَا وهو شَرْطُ انْعِقَادِ الْبَيْعِ لِلْبَائِعِ أَنْ يَكُونَ مَمْلُوكًا لِلْبَائِعِ عِنْدَالْبَيْعِ فَإِنْ لم يَكُنْ لَا يَنْعَقِدْ وَإِنْ مَلَكَهُ بَعْدَ ذلك بِوَجْهٍ من الْوُجُوهِ إلَّا السَّلَمَ خَاصَّةً وَهَذَا بَيْعُ ما ليس عِنْدَهُ وَنَهَى رسول اللَّهِ صلى اللَّهُ عليه وسلم عن بَيْعِ ما ليس عِنْدَ الْإِنْسَانِ وَرَخَّصَ في السَّلَمِ۔۔۔(ومنها) القبض في بيع المشتري المنقول فلا يصح بيعه قبل القبض؛ لما روي أن النبي - صلى الله عليه وسلم - «نهى عن بيع ما لم يقبض۔۔۔(ومنها) القبض في بيع المشتري المنقول فلا يصح بيعه قبل القبض؛ لما روي أن النبي - صلى الله عليه وسلم - «نهى عن بيع ما لم يقبض.

فتح القدیر: (511/6، ط: دار الفکر)
(قوله ومن اشترى شيئا مما ينقل ويحول لم يجز له بيعه حتى يقبضه) إنما اقتصر على البيع ولم يقل إنه يتصرف فيه لتكون اتفاقية، فإن محمدا يجيز الهبة والصدقة به قبل القبض۔۔۔أخرج النسائي أيضا في سننه الكبرى عن يعلى بن حكيم عن يوسف بن ماهك عن عبد الله بن عصمة عن حكيم بن حزام قال: قلت يا رسول الله إني رجل أبتاع هذه البيوع وأبيعها فما يحل لي منها وما يحرم؟ قال: لا تبيعن شيئا حتى تقبضه ورواه أحمد في مسنده وابن حبان

الدر المختار: (کتاب الإجارۃ، 5/6، ط: دار الفکر)
وشرطہا : کون الأجرۃ والمنفعۃ معلومتین، لأن جہالتہما تفضي إلی المنازعۃ

کذا فی تبویب فتاوي دار العلوم کراتشي: رقم الفتوي: (73/3058)

واللہ تعالٰی أعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Business & Financial