resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: حقِ شفعہ میں نئی قیمت پر رضامندی کا شرعی حکم اور دعوائے شفعہ کا سقوط

(42129-No)

سوال: میرے ایک پڑوسی نے وہ گھر جس کی دیوار میرے گھر کے ساتھ مشترک ہے، میری اطلاع اور اجازت کے بغیر کسی اور شخص کو فروخت کر دی۔ جب مجھے اس معاملے کا علم ہوا تو میں نے علاقے کے سرکاری ذمہ دار کے پاس حقِ شفعہ کا دعویٰ پیش کیا اور اس مسئلے کا شرعی حل طلب کیا۔
سرکاری ذمہ دار نے ہمارے قضیہ کو صلح کے لیے قبیلے کے معززین کے پاس بھیج دیا تاکہ وہ گھر کی قیمت مقرر کریں۔ میں نے بھی انہیں اختیار دیا کہ وہ گھر کی قیمت مقرر کریں، اس بنیاد پر کہ میں اسی مقررہ قیمت پر گھر خرید لوں گا، لیکن جب فیصلہ صادر ہوا تو مقرر کی گئی قیمت بہت زیادہ تھی، اس لیے میں نے اس فیصلے کو قبول کرنے سے انکار کر دیا، اب میں چاہتا ہوں کہ اپنے معاملے کو سرکاری شرعی عدالت کے ذریعے حل کرواؤں۔
سوال یہ ہے کہ کیا اوپر بیان کردہ صلحی فیصلہ میرے اس حق کو ختم کر دیتا ہے کہ میں شرعی عدالت میں حقِ شفعہ کا دعویٰ پیش کروں؟

جواب: حقِ شفعہ کا بنیادی اصول یہ ہے کہ شفیع کو جائیداد صرف اسی قیمت (ثمنِ عقد) پر لینے کا حق حاصل ہوتا ہے جس قیمت پر بائع اور مشتری کے درمیان اصل بیع منعقد ہوئی ہو، لہٰذا اگر شفیع اصل ثمن پر اصرار کرنے کے بجائے فریقین کی رضامندی سے معززین یا پنچایت کو یہ اختیار دے دے کہ وہ جائیداد کی نئی قیمت مقرر کریں اور وہ اس مقررہ قیمت پر خریدنے کے لیے آمادگی ظاہر کر دے تو یہ عمل فقہی اعتبار سے مساومہ اور حقِ شفعہ سے دستبرداری (اسقاطِ شفعہ) کے مترادف شمار ہوگا، جس کے نتیجے میں اس کا حقِ شفعہ ساقط ہو جاتا ہے اور بعد میں وہ اسی حق کی بنیاد پر شرعی عدالت میں مؤثر دعویٰ نہیں کر سکتا؛ البتہ اگر معززین کو صرف اصل ثمنِ عقد کی تحقیق اور حقیقت معلوم کرنے کے لیے مقرر کیا گیا ہو، نہ کہ نئی قیمت متعین کرنے کے لیے تو اس صورت میں حقِ شفعہ ساقط نہیں ہوتا، لیکن سوال میں مذکور تفصیلات اور الفاظ سے ظاہر یہی ہوتا ہے کہ معززین کو نئی قیمت مقرر کرنے کا اختیار دیا گیا تھا، اس لیے فقہی اصول "الساقط لا یعود" کے مطابق حقِ شفعہ کے دوبارہ دعوے کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الدلائل:

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 216 ط: دار الفکر)
الشفعة مناسبته تملك مال الغير بغير رضاه (هي) لغة: الضم وشرعا (تمليك البقعة جبرا على المشتري بما قام عليه) بمثله لو مثليا وإلا فبقيمته

العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية: (2/ 166، دار المعرفة)
(سئل) فيما إذا كان لزيد بيت ملاصق لبيت عمرو فباع زيد بيته بثمن معلوم من أجنبي فهل لعمرو أخذه بمثل الثمن بشفعة الجوار؟
(الجواب) : نعم وإنما قيدنا بمثله لقول الفقهاء الشفعة هي تملك البقعة جبرا على المشتري بما قام عليه بمثله لو مثليا وإلا فبقيمته كما في شرح التنوير للعلائي وفيه من باب طلب الشفعة في الشراء بمثلي يأخذ بمثله وفي القيمي بالقيمة. اه.

الاختيار لتعليل المختار: (2/ 47، مطبعة الحلبي)
وتبطل الشفعة بموت الشفيع وتسليمه الكل أو البعض، وبصلحه عن الشفعة بعوض، وببيع المشفوع به قبل القضاء بالشفعة، وبضمان الدرك عن البائع، وبمساومته المشتري بيعا وإجارة،

الاختيار لتعليل المختار (2/ 47، مطبعة الحلبي)
وأما مساومة المشتري بيعا وإجارة فلأنه دليل الرضا بثبوت الملك للمشتري وتصرفه فيه بيعا وإجارة، وذلك لا يكون إلا بعد إسقاط الشفعة، وكذلك إذا طلبها منه تولية أو أخذها مزارعة أو معاملة، وكل ذلك إذا كان بعد العلم بالشراء.

تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي: (5/ 258 المطبعة الكبرى الأميرية)
ولو اشتراها الشفيع من المشتري بطلت شفعته لأنه بالإقدام على الشراء من المشتري أعرض عن الطلب وبه تبطل الشفعة ولمن هو بعده من الشفعاء أو مثله أن يأخذها منه بالشفعة بالعقد الأول، وإن شاء بالعقد الثاني، أما إعراضه عن الأول فظاهر وكذا عن الثاني وهو الذي باشره بنفسه لأنه باشتغاله به مع إمكان أخذه منه بالشفعة جعل معرضا عن الأخذ بسببه فلا يثبت له به حق

فتاوى قاضيخان (3/ 348،الشاملة)
لو بعث المشتري للشفيع رجلاً يقول للشفيع ذلك فقال الرجل المبعوث للشفيع أن فلاناً اشترى هذه الدار بكذا وهو يقول لك إن أحببت أن أوليكها بما اشتريتها به وليتكها وقال الشفيع نعم وليتها فإنه تبطل شفعته.

الأشباه والنظائر لابن نجيم (ص: 274 دار الكتب العلمية، بيروت - لبنان)
الساقط لا يعود.

والله تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Business & Financial