سوال:
مفتی صاحب! کیا ڈراپ شپنگ کرنا جائز ہے؟ مثلاً میں AliExpress سے کم قیمت پر کوئی پروڈکٹ تلاش کرتا ہوں، پھر اس کی تصاویر محفوظ کرکے ان میں ایڈٹ کرتا ہوں تاکہ معلوم نہ ہو کہ یہ تصاویر کہاں سے لی گئی ہیں، اس کے بعد اسی پروڈکٹ کو زیادہ قیمت پر Etsy پر اپنی پروڈکٹ کے طور پر لسٹ کر دیتا ہوں۔
جب Etsy پر کسی گاہک کی طرف سے آرڈر موصول ہوتا ہے تو میں وہی پروڈکٹ AliExpress سے آرڈر کر دیتا ہوں اور AliExpress والا براہِ راست وہ سامان گاہک کے پتے پر بھیج دیتا ہے، حالانکہ مجھے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ سپلائر حقیقت میں وہی چیز بھیجے گا جو تصویر میں دکھائی گئی ہے یا نہیں، بلکہ میں صرف پروفائل اور تصاویر دیکھ کر آرڈر کرتا ہوں۔
کیا اس طریقۂ کار کے مطابق ڈراپ شپنگ کرنا شرعاً جائز ہے؟
جواب: سوال میں بیان کردہ طریقے کے مطابق ڈراپ شپنگ کرنا شرعاً جائز نہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ Etsy پر گاہک کا آرڈر قبول کرتے وقت وہ چیز نہ آپ کی ملکیت (ownership) میں ہوتی ہے اور نہ آپ نے اس پر قبضہ(possession) کیا ہوتا ہے، بلکہ آرڈر ملنے کے بعد آپ AliExpress سے وہ چیز خریدتے ہیں اور AliExpress براہِ راست گاہک کو بھیج دیتا ہے، یعنی فروخت کے وقت وہ چیز نہ آپ کی ملکیت میں ہوتی ہے اور نہ قبضہ میں ، جبکہ شریعت کی رو سے یہ ضروری ہے کہ جو چیز فروخت کی جائے وہ فروخت کرنے والے شخص کی ملکیت اور قبضہ میں ہو، اگر ان دونوں (ملکیت اور قبضہ) میں سے کوئی ایک بھی چیز نہ پائی جائے تو فروخت شرعاً درست نہیں ہوتی۔ نیز سوال کے مطابق آپ کو خود یہ یقین نہیں ہوتا کہ گاہک کو بھیجی جانے والی چیز وہی ہوگی جو تصویر میں دکھائی گئی ہے تو اس میں جہالت اور غرر بھی پایا جاتا ہے، جو بعد میں جھگڑے اور گاہک کے نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔
البتہ درج ذیل صورتوں میں سے کوئی صورت اختیار کرلی جائے تو یہ کاروبار جائز ہوسکتا ہے:
(1)گاہک کو مطلوبہ چیز فروخت کرنے سے پہلے فروخت کنندہ سے وہ چیز خرید لے، خریدنے کے بعد خود یا اپنے کسی وکیل (agent) کے ذریعے اس چیز پر قبضہ کرلے (قبضہ چاہے حسی ہو یا معنوی) اس کے بعد اپنے کسٹمر کو وہ چیز فروخت کردے تو اس طریقہ سے خرید و فروخت کا معاملہ درست ہوجائے گا۔
(2) متعلقہ کمپنی کا بروکر یا ایجنٹ بن کر وہ چیز فروخت کردی جائے، اور اس کام کے عوض طے شدہ رقم یا فیصد کے اعتبار سے کمیشن طے کرلیا جائے کہ فی آئٹم فروخت کرنے پر میرا اتنا کمیشن ہوگا تو اس طریقہ سے بھی خرید و فروخت کا یہ معاملہ شرعاً درست ہوجائے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
السنن الكبري للبيهقي: (95/8، ط: دار الفكر)
عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ قَالَ قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ الرَّجُلُ يَطْلُبُ مِنِّى الْبَيْعَ وَلَيْسَ عِنْدِى أَفَأَبِيعُهُ لَهُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- :« لاَ تَبِعْ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ.
بدائع الصنائع: (کتاب البیوع، فصل وأما الذی یرجع الی المعقود علیه، 35/7)
وَمِنْهَا وهو شَرْطُ انْعِقَادِ الْبَيْعِ لِلْبَائِعِ أَنْ يَكُونَ مَمْلُوكًا لِلْبَائِعِ عِنْدَالْبَيْعِ فَإِنْ لم يَكُنْ لَا يَنْعَقِدْ وَإِنْ مَلَكَهُ بَعْدَ ذلك بِوَجْهٍ من الْوُجُوهِ ۔۔۔(ومنها) القبض في بيع المشتري المنقول فلا يصح بيعه قبل القبض؛ لما روي أن النبي - صلى الله عليه وسلم - «نهى عن بيع ما لم يقبض
الدر المختار: (کتاب الإجارۃ، 5/6، ط: دار الفکر)
وشرطھا : کون الأجرۃ والمنفعة معلومتین، لأن جھالتھما تفضي إلی المنازعة
کذا فی تبویب فتاوي دار العلوم کراتشي: رقم الفتوي: (2058/73)
واللہ تعالٰی أعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی