سوال:
محترم مفتی صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاته!
ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ محمد حامد صاحب ایک کاروباری آدمی ہیں، ان کا کھلونوں کا کاروبار ہے ، ایک دوسرے شخص عبد الجبار نے اپنی رقم بیس لاکھ روپے محمد حامد کو کاروبار میں لگانے کیلئے دی، یہ رقم ایک سال کیلئے دی تھی، ماہانہ نفع بھی طے ہوگیا تھا، محمد حامد، عبد الجبار کو ماہانہ نفع بھی دیتے رہے ، اس دوران عبد الجبار نے مزید چار لاکھ روپے محمد حامد کو دیئے کہ یہ آپ اپنے پاس رکھیں ، اور اگر ضرورت پڑے تو کاروبار میں بھی لگا سکتے ہیں ، اس طرح عبد الجبار کے کل چو بیس لاکھ روپے محمد حامد کے پاس آگئے۔
اب جب ایک سال مکمل ہو اتو محمد حامد نے عبد الجبار کو بلایا کہ آپ آجائیں اور اپنی رقم لے لیں۔ عبد الجبار نے ان سے کہا کہ آپ ابھی یہ رکھیں، میں عید کے بعد آپ سے لے لوں گا ، اب اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ محمد حامد نولاکھ روپے تھیلی میں ڈال کر دکان سے گھر لے جا رہے تھے، راستہ میں بارش ہوئی اور تھیلی کے پھٹنے سے ساری رقم اس میں سے گر گئی، اب محمد حامد کا کہنا ہے کہ یہ ساری رقم کا نقصان عبدالجبار کا سمجھا جائے، جبکہ عبد الجبار کا کہنا کہ اس سے متعلق فتویٰ لے لیا جائے کہ یہ رقم کس کی ہلاک ہوئی ہے؟ اس پر محمد حامد بھی راضی ہوگیا۔
واضح رہے کہ محمد حامد عام دنوں میں بھی دکان سےگھر رقم اسی طرح لاتے تھے ۔براہ کرم آپ بتائیں کہ یہ نقصان کس کا ہوگا ؟ محمد حامد کا یا عبد الجبار کا یا دونوں کاآدھا آدھا؟
جواب: پوچھی گئی صورت میں جب محمد حامد نے عبد الجبار کی رقم کاروبار سے علیحدہ کر کے ان کے حوالہ نہیں کی تھی، اور نہ ہی مالکانہ تصرّفات کا اختیار دیا تھا، بلکہ صرف انہیں رقم وصول کرنے کے لیے بلایا تھا تو عبدالجبار کے یہ کہنے سے کہ “آپ ابھی یہ رقم اپنے پاس رکھیں، میں عید کے بعد لے لوں گا” وہ رقم امانت نہیں بنی، بلکہ بدستور کاروبار ہی کی رقم شمار ہوگی۔
لہٰذا محمد حامد جو نو لاکھ روپے دکان سے گھر لے جا رہے تھے، اگر وہ مشترکہ کاروبار ہی کی رقم تھی، اور محمد حامد نے اس رقم کی حفاظت میں کوئی کوتاہی نہیں کی تھی، بلکہ عرف کے مطابق جس طرح اپنی رقم لے جایا کرتے تھے، اسی طرح یہ رقم بھی لے جا رہے تھے، اس کے باوجود بارش اور تھیلی پھٹنے کی وجہ سے رقم ضائع ہوگئی، اس میں اس کوئی غفلت و کوتاہی نہیں تھی تو یہ نقصان کاروبار کا شمار ہوگا، لہذا سارا نقصان کسی ایک فریق پر نہیں ڈالا جائے گا، بلکہ ہر فریق اپنے اپنے سرمایہ کے تناسب سے نقصان برداشت کرے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*دلائل:*
*حاشية ابن عابدين (4/ 315-ط: دار الفكر):*
وفي المحيط: لأحدهما مائة دينار قيمتها ألف وخمسمائة وللآخر ألف درهم وشرطا الربح والوضيعة على قدر المال فاشترى الثاني جارية ثم هلكت الدنانير فالجارية بينهما وربحها أخماسا ثلاثة أخماسه للأول وخمساه للثاني؛ لأن الربح يقسم على قدر ماليهما يوم الشراء ويرجع الثاني على الأول بثلاثة أخماس الألف؛ لأنه وكيل عنه بالشراء في ثلاثة أخماس الجارية وقد نقد الثمن من ماله، ولو كان على عكسه رجع صاحب الدنانير على الآخر بخمسي الثمن أربعون دينارا؛ ولو اشترى كل واحد منهما بماله غلاما وقبضا وهلكا يهلكان من مالهما؛ لأن كل واحد حين اشترى كانت الشركة بينهما قائمة. اه. بحر ملخصا
*بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (6/ 62-ط: دار الكتب العلمية):*
إذا عرف هذا فنقول: إذا شرطا الربح على قدر المالين متساويا أو متفاضلا، فلا شك أنه يجوز ويكون الربح بينهما على الشرط سواء شرطا العمل عليهما أو على أحدهما والوضيعة على قدر المالين متساويا ومتفاضلا؛ لأن الوضيعة اسم لجزء هالك من المال فيتقدر بقدر المال
واللہ تعالٰی أعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی