سوال:
ایک شخص (الف) نے پچاس سال پہلے ایک گھر 3000 پاؤنڈ میں فروخت کیا تھا۔ یہ گھر اصل میں 500 پاؤنڈ میں خریدا گیا تھا۔ اس گھر کے کاغذات (ٹائٹل ڈیڈ) اس کے بھائی کے نام پر تھے۔ چنانچہ گھر فروخت کرتے وقت بھائی نے خوش دلی سے وکیل (Solicitor) کے پاس جا کر دستاویزات پر دستخط کیے۔ بعد میں شخص (الف) نے اسی رقم سے اپنا ذاتی گھر خرید لیا۔ بھائی کو مکمل علم تھا کہ وہ اس رقم سے اپنا گھر خرید رہا ہے۔
اب اگر شخص (الف) اپنے بھائی کو رقم واپس کرنا چاہے تو اس پر کیا لازم ہوگا؟
کیا وہ صرف اصل خریداری کی رقم یعنی 500 پاؤنڈ واپس کرے یا وہ 3000 پاؤنڈ واپس کرے، جس قیمت پر گھر فروخت ہوا تھا؟ یا پھر 3000 پاؤنڈ کے ساتھ افراطِ زر (Inflation) بھی شامل کرے یا پھر اسے اپنے موجودہ گھر کی موجودہ مالیت کے مطابق رقم ادا کرنی ہوگی؟ براہِ کرم اس مسئلے کی تفصیل کے ساتھ رہنمائی فرمائیں۔
جواب: پوچھی گئی صورت میں اگر مذکورہ مکان واقعتاً بھائی کی ملکیت تھا، اور آپ نے بھائی کی اجازت سے وہ مکان فروخت کیا، پھر فروخت سے حاصل ہونے والی رقم )یعنی 3000 پاؤنڈ) اپنے ذاتی گھر کی خریداری میں استعمال کی تو اب اس کا حکم یہ ہے کہ وہ 3000 پاؤنڈ آپ کے ذمّہ قرض شمار ہوں گے۔
لہٰذا اب ادائیگی کی صورت میں آپ پر 3000 پاؤنڈ ہی واپس کرنا لازم ہوگا۔ اصل خریداری کی قیمت یعنی 500 پاؤنڈ، افراطِ زر شامل کرنا یا موجودہ گھر کی موجودہ مالیت کے حساب سے رقم دینا شرعاً لازم نہیں؛ البتہ اگر آپ اپنی خوشی سے کچھ زائد دینا چاہیں تو دے سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ اگر صرف کاغذات بھائی کے نام تھے، اور مکان کا مالک کوئی اور تھا تو اس کی پوری صورتحال لکھ کر سوال دوبارہ پوچھ سکتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔
*دلائل:*
*مجلة الأحكام العدلية (ص150-ط: نور محمد)*
إذا صرف المستودع النقود المودعة عنده في أمور نفسه واستهلكها ...... يضمن.
*الفتاوى الهندية (3/ 201- ط: دار الفكر بيروت):*
فأما في القرض الجائز ......إن شاء رده، وإن شاء رد مثله
واللہ تعالٰی أعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی