resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: قبضہ حقیقی (physical possession) اور قبضہ حکمی (Constructive possession) سے متعلق جدید متفرق مسائل

(41993-No)

سوال: مفتی صاحب! میں جدید ڈیجیٹل مالیاتی نظام کے حوالے سے ایک اہم شرعی رہنمائی چاہتا ہوں۔ آج کل مختلف مالیاتی معاملات جیسے پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شیئرز کی خرید و فروخت، بینک اکاؤنٹس میں ڈیجیٹل بیلنس اور آن لائن ٹریڈنگ پلیٹ فارمز (جیسے MT5) کے ذریعے سونا (Gold)، چاندی (Silver)، کروڈ آئل (Crude Oil) یا دیگر اثاثوں کی خرید و فروخت بظاہر زیادہ تر ڈیجیٹل اندراج (digital entries) کی صورت میں ہوتے ہیں، جن میں اکثر حقیقی چیز کا جسمانی قبضہ براہ راست نظر نہیں آتا۔
اسی حوالے سے چند سوالات ہیں:
اگر موجودہ دور میں ملکیت (Ownership) قانونی، ڈیجیٹل یا سسٹم کے ریکارڈ کے ذریعے ثابت ہو (جیسے بینک بیلنس، اسٹاک شیئرز، یا بروکر اکاؤنٹ)، تو شرعاً “قبضہ” (Possession) کی درست تعریف کیا ہوگی؟
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اکثر سرمایہ کار کمپنی کے شیئرز خریدتے ہیں مگر عملاً فزیکل سرٹیفکیٹ ہاتھ میں نہیں ہوتا، بلکہ صرف ڈیجیٹل ریکارڈ ہوتا ہے۔ کیا یہ شرعاً معتبر ملکیت ہے؟
اگر MT5 یا کسی بروکر پلیٹ فارم پر Gold, Silver, یا Oil کی ٹریڈنگ میں واقعی underlying asset کی ملکیت نہ ہو بلکہ صرف price difference (CFD) پر نفع و نقصان ہو، تو اس کا کیا حکم ہے؟
اگر کسی ٹریڈنگ اکاؤنٹ میں Leverage استعمال نہ کیا جائے،Swap/Interest نہ ہو، صرف اپنی رقم استعمال ہو تو کیا پھر بھی ایسی ٹریڈنگ ناجائز رہے گی یا حکم مختلف ہوگا؟
سونا اور چاندی چونکہ شرعاً ربوی اشیاء ہیں، تو کیا ان کی جدید ڈیجیٹل یا آن لائن خرید و فروخت میں وہی پرانے قبضہ و تبادلہ کے اصول مکمل طور پر لاگو ہوں گے، یا جدید مالیاتی نظام میں اس کی کوئی مختلف شرعی تطبیق ہے؟
بینک اکاؤنٹ میں موجود رقم بھی عملاً ڈیجیٹل نمبرز کی شکل میں ہوتی ہے تو اس اور جدید آن لائن ٹریڈنگ میں شرعی اعتبار سے بنیادی فرق کیا ہے؟
میرا مقصد صرف حلال و حرام کی واضح سمجھ حاصل کرنا ہے تاکہ جدید مالیاتی نظام، سرمایہ کاری، اور آن لائن ٹریڈنگ کے بارے میں شرعی اصول بہتر طور پر سمجھ سکوں۔ براہ کرم قرآن و سنت، فقہی اصولوں، اور موجودہ مالیاتی حقائق کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیراً

جواب: (1) خریدے ہوئے مال پر قبضہ (possession) شرعاً دو طرح کا ہو سکتا ہے: ایک کو حقیقی قبضہ (physical possession) کہتے ہیں جبکہ دوسرے کو حکمی/معنوی قبضہ (constructive possession)۔
حقیقی قبضہ یہ ہے کہ خریدا ہوا مال حسّی طور پر اپنی تحویل اور قبضہ (physical possession) میں ہو، جبکہ حکمی قبضہ کا مطلب یہ ہے کہ بیچنے والے کی طرف سے خریدار کے لیے اس میں مالکانہ تصرّفات کرنے میں کوئی رکاوٹ حائل نہ ہو، اور خریدے ہوئے مال کی باقاعدہ نشاندہی کرلی جائے۔
شرعی طور پر خریدے ہوئے مال کو حسّی قبضہ میں لینا ضروری نہیں ہے، بلکہ اگر حکمی/معنوی قبضہ (Constructive Possession) لے لیا جائے، تب بھی کافی ہے۔
(2) اسٹاک ایکسچینج میں شئیرز کی خرید و فروخت کے دوران شئیرز پر حسّی قبضہ تو ممکن نہیں ہوتا، بلکہ حکمی قبضہ ہوتا ہے، اور شئیرز کی صورت میں حکمی قبضہ تب مکمل ہوگا، جب کمپنی کے ریکارڈ میں سی ڈی سی کے ذریعے خریدے گئے شیئرز خریدار کے نام منتقل ہو جائیں۔ کمپنی کے ریکارڈ میں بیچے گئے شئیرز خریدار کے نام منتقل ہونے سے پہلے انہیں آگے فروخت کرنا قبضہ سے پہلے فروخت کرنا (بیع قبل القبض) ہے، جو کہ شرعاً جائز نہیں ہے۔
(3) سی ایف ڈی (Contract for Difference (CFD) ) ٹریڈنگ میں چونکہ فریقین کے درمیان حقیقی معاملہ نہیں ہوتا، بلکہ صرف قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کی صورت میں فرق لینے اور دینے کا معاملہ ہوتا ہے کہ قیمت کم یا زیادہ ہونے پر ایک فریق دوسرے کو اتنی رقم دے گا، اس لیے یہ شرعاً جائز نہیں، کیونکہ یہ جوا کی صورت بن رہی ہے۔
(4) پوچھی گئی صورت میں ٹریڈنگ اکاؤنٹ پر اگر اپنی رقم استعمال کی جائے اور بروکر کی طرف سے قرض پر اضافی چارج (leverage) نہ کیا جائے، اور سود (intrest/Swap) کا معاملہ بھی نہ ہو، تب بھی چونکہ عام طور پر ٹریڈنگ اکاؤنٹ میں حقیقی سودا مقصود نہیں، بلکہ صرف دو معاملوں کے درمیان فرق کو لیا جاتا ہے، اس لیے اس سے اجتناب لازم ہے۔
(5) سونے کی خرید و فروخت شرعاً صرف اسی صورت میں جائز ہے، جب خریداری کے وقت ہی (مجلسِ عقد) میں یا تو پوری رقم ادا کر دی جائے، یا خریدا ہوا سونا فوراً خریدار کے قبضے میں آجائے، دونوں چیزیں ادھار نہیں ہوسکتیں۔
سونے کی آن لائن تجارت کے مروّجہ طریقہ کار میں عموماً نہ مکمل ادائیگی کی جاتی ہے اور نہ ہی سونا خریدار کے قبضے میں آتا ہے، بلکہ صرف اکاؤنٹ میں ایک عددی اندراج یا ’’reflection‘‘ دکھایا جاتا ہے، جو شرعاً قبضہ نہیں کہلاتا۔
واضح رہے کہ قبضہ حکمی (constructive possession) شرعاً اسی وقت معتبر ہوتا ہے، جب خریدار کو خریداری کے بعد سونے پر واقعی اختیار حاصل ہو، یعنی چاہے تو وہ سونا اپنی ملکیت سے نکلوا سکے، منتقل کر سکے یا اپنی مرضی سے استعمال کر سکے، اگر ایسا اختیار موجود نہ ہو تو وہ ’’شرعی قبضہ‘‘ نہیں کہلائے گا۔
(6) بینک اکاؤنٹ میں موجود رقم اگرچہ دیکھنے میں ڈیجیٹل نمبرز کی شکل میں ہوتی ہے، لیکن اکاؤنٹ ہولڈر اس رقم کا مالک ہوتا ہے اور رقم کو وہ اپنے مکمل تصرّف میں لا سکتا ہے، اس لیے اکاؤنٹ میں موجود رقم اکاؤنٹ ہولڈر کے قبضہ حکمی میں ہوتی ہے۔
(7) آن لائن کاروبار (Online Trading) بھی اصولی طور پر جائز ہے، البتہ آج کل آن لائن ٹریڈنگ کی بہت سی صورتیں رائج ہیں، بعض صورتوں میں شرعی اصولوں کی رعایت رکھی جاتی ہے، جبکہ بعض صورتوں میں شرعی اصولوں کی پاسداری نہیں کی جاتی ہے، لہذا ان لائن ٹریڈنگ کے تمام معاملات کا حکم یکساں نہیں ہوگا، بلکہ کاروبار کی نوعیت اور طریقہ کار پر منحصر ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

*بدائع الصنائع: (35/7، کتاب البیوع، فصل وأما الذی یرجع الی المعقود علیه)*
وَمِنْهَا وهو شَرْطُ انْعِقَادِ الْبَيْعِ لِلْبَائِعِ أَنْ يَكُونَ مَمْلُوكًا لِلْبَائِعِ عِنْدَالْبَيْعِ فَإِنْ لم يَكُنْ لَا يَنْعَقِدْ وَإِنْ مَلَكَهُ بَعْدَ ذلك بِوَجْهٍ من الْوُجُوهِ إلَّا السَّلَمَ خَاصَّةً وَهَذَا بَيْعُ ما ليس عِنْدَهُ وَنَهَى رسول اللَّهِ صلى اللَّهُ عليه وسلم عن بَيْعِ ما ليس عِنْدَ الْإِنْسَانِ وَرَخَّصَ في السَّلَمِ۔۔۔(ومنها) القبض في بيع المشتري المنقول فلا يصح بيعه قبل القبض؛ لما روي أن النبي - صلى الله عليه وسلم - «نهى عن بيع ما لم يقبض۔۔۔(ومنها) القبض في بيع المشتري المنقول فلا يصح بيعه قبل القبض؛ لما روي أن النبي - صلى الله عليه وسلم - «نهى عن بيع ما لم يقبض.

*درر الحكام في شرح مجلة الأحكام: (258/1، ط: دار الجيل)*
‌تسليم ‌العروض يكون بإعطائها ليد المشتري أو بوضعها عنده أو بإعطاء الإذن له بالقبض بإراءتها له.

*الهندية: (كتاب البيوع، 16/3، ط: دار الفكر بيروت)*
‌والتخلية ‌في ‌بيت ‌البائع صحيحة عند محمد - رحمه الله تعالى - خلافا لأبي يوسف - رحمه الله تعالى - رجل باع خلا في دن في بيته فخلى بينه وبين المشتري فختم المشتري على الدن وتركه في بيت البائع فهلك بعد ذلك فإنه يهلك من مال المشتري في قول محمد وعليه الفتوى هكذا في الصغرى.

*صحیح مسلم: (کتاب البیوع، باب بطلان بیع المبیع قبل القبض، 7/5، ط: دار الطباعة العامرۃ)*
"عن ابن عباس، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «من ابتاع طعاما فلا يبعه حتى يستوفيه»، قال ابن عباس: وأحسب كل شيء مثله۔"

*بدائع الصنائع: (180/5، ط: رشیدیة)*
(ومنها) القبض في بيع المشتري المنقول فلا يصح بيعه قبل القبض؛ لما روي أن النبي - صلى الله عليه وسلم - «نهى عن بيع ما لم يقبض» ، والنهي يوجب فساد المنهي؛ ولأنه بيع فيه غرر الانفساخ بهلاك المعقود عليه؛ لأنه إذا هلك المعقود عليه قبل القبض يبطل البيع الأول فينفسخ الثاني؛ لأنه بناه على الأول، وقد «نهى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - عن بيع فيه غرر» ، وسواء باعه من غير بائعه، أو من بائعه؛ لأن النهي مطلق لا يوجب الفصل بين البيع من غير بائعه وبين البيع من بائعه، وكذا معنى الغرر لا يفصل بينهما فلا يصح الثاني، والأول على حاله. ولا يجوز إشراكه، وتوليته؛ لأن كل ذلك بيع

*بدائع الصنائع: (242/4، ط: زکریا)*
ولا یشترط القبض بالبراجم؛ لأن معنی القبض ہو التمکن والتخلّي وارتفاع الموانع عرفًا وعادةً حقیقةً

*رد المحتار: (كتاب البيوع، باب البيع الفاسد، 88/5، 90، ط: سعید)*
"(وإذا قبض المشتري المبيع برضا) عبر ابن الكمال بإذن (بائعه صريحا أو دلالة...في البيع الفاسد)...(ولم ينهه) البائع عنه ولم يكن فيه خيار شرط (ملكه)... (بمثله إن مثليا وإلا فبقيمته)
(قوله ملكه)أي ملكا خبيثا حراما فلا يحل أكله ولا لبسه إلخ قهستاني. وأفاده أنه يملك عينه، وهو الصحيح المختار۔"

کذا فی فتویٰ جامعۃ الرشید رقم الفتوی: (88983)

والله تعالىٰ أعلم بالصواب ‏
دارالافتاء الإخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Business & Financial